سندھ ہائیکورٹ نے محکمہ ثقافت و سیاحت کے ترقیاتی منصوبوں میں بے ضابطگیوں سے متعلق عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے پر محکمہ ثقافت اور خزانہ کے افسران کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر ریزیڈنٹ ڈائریکٹر روشن علی کناسرو کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیدیا

سندھ ہائیکورٹ نے محکمہ ثقافت و سیاحت کے ترقیاتی منصوبوں میں بے ضابطگیوں سے متعلق عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے پر محکمہ ثقافت اور خزانہ کے افسران کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر ریزیڈنٹ ڈائریکٹر روشن علی کناسرو کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیدیا۔ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو محکمہ ثقافت و سیاحت کے ترقیاتی منصوبوں میں بے ضابطگیوں سے متعلق عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے پر محکمہ ثقافت اور خزانہ کے افسران کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ سیکریٹری خزانہ کی جانب سے انکوائری کمیٹی کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ روشن علی کناسرو کئی برسوں سے ترقیاتی منصوبوں کا مستقل حصہ رہے ہیں۔ روشن علی کناسرو کی عہدے پر موجودگی میں ریکارڈ میں ردوبدل کا خدشہ ہے۔ دوران انکوائری درخواستگزار نے کچھ ایسے دستاویز پیش کئے جو محکمے کے پاس دستیاب نہیں تھے۔ محکمے کی جانب سے ادائیگیوں سے متعلق مکمل ریکارڈ بھی پیش نہیں کیا گیا۔ انتظامیہ کو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر کو عہدے سے ہٹانے اور ریکارڈ کی محفوظ منتقلی کی سفارش کی جاتی ہے۔ عدالت نے حکم نامے کی نقول چیف سیکریٹری اور پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ کو ارسال کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے محکمہ ثقافت کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر روشن علی کناسرو کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 20 مئی تک ملتوی کردی۔ کنٹریکٹر کمپنی نے واجبات کی ادائیگی کے لئے 2019 میں عدالت سے رجوع کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
93 − 86 =