
فیصل قریشی پاکستان کا قیمتی سرمایہ ،اداکار اور بہترین انسان ہیں، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ
تقریب میں فنکاروں کی کہکشاں اُمڈ آئی، مصطفیٰ قریشی، عدنان صدیقی، بہروز سبزواری، ہمایوں سعید، صلاح الدین تنیو اور شہزاد نواز سمیت فلم اور ٹی وی سے وابستہ نامور شخصیات کی شرکت
کراچی ( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور لائف اسٹائل جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے اشتراک سے پاکستان کے نامور سپر اسٹار فیصل قریشی کو شوبز انڈسٹری میں شاندار خدمات اور بہترین کارکردگی کے اعتراف میں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تقریب کا انعقاد آڈیٹوریم ون میں کیا گیا، جس کی صدارت لیجنڈ اداکار مصطفیٰ قریشی نے کی جبکہ مہمان خصوصی صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ تھے۔ تقریب میں معروف اداکار بہروز سبزواری، صلاح الدین تنیو ، عدنان صدیقی، اداکار ہمایوں سعید ، شہزاد نواز، گلوکار فاخر، حنیف راجہ ،قونصل جنرل رومانیہ مرزا اشتیاق بیگ اور ٹیپو شریف سمیت فلم اور ٹی وی انڈسٹری کے نامور فنکاروں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ فیصل قریشی کے فنی سفر پر مبنی شوریل بھی پیش کی گئی جسے حاضرین نے پسند کیا اور بھرپور تالیوں سے سراہا۔ اس موقع پر میوزیکل پروگرام اور کامیڈی نائٹ کا بھی اہتمام کیا گیا، جہاں فلم اور ٹیلی وژن انڈسٹری کے فنکاروں نے شاندار پرفارمنس پیش کی۔نظامت کے فرائض راحیل بیگ اور رافعیہ نے انجام دئیے ۔اس موقع پر مہمان خصوصی صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی محمد احمد شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فیصل قریشی کے ساتھ ہم نے بھی کام کیا ہے۔میں اور فیصل اس پروڈکشن میں بہت قریب تھے۔ایسا لگتا تھا جیسے وہ اپنی ہی پروڈکشن پر کام کر رہے ہوں۔آپ سب بہتر جانتے ہیں کہ فیصل کے اندر کتنا پوٹینشل اور کتنی ڈائیورسٹی ہے‘،‘بوٹا” سے جب ان کا آغاز ہوا، اس کے بعد وہ کبھی نہیں رکے۔انہوں نے ہر طرح کے کردار کیے اور انتہائی شاندار کامیابی کے ساتھ کیے۔فیصل قریشی نہایت ذمہ دار انسان ہیں اور اپنا سو فیصد دیتے ہیں۔صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ ساتھی اداکاروں، پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز کے لیے بھی آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ فیصل ایک لمحے میں سمجھ جاتے ہیں کہ ڈائریکٹر ان سے کیا چاہتا ہے۔وہ نہ صرف بہترین اداکار بلکہ ایک شاندار انسان بھی ہیں۔میں نے بہت کوشش کی کہ فیصل کو ان کا حق میرٹ پر ملے، لیکن اس وقت وہ پچاس سال کے نہیں ہوئے تھے، میں نے کہا کہ یہ کوئی دلیل نہیں۔اب تو وہ پچاس سال کی عمر بھی عبور کر چکے ہیں، اس لیے وہ اعتراض بھی ختم ہو چکا ہے۔ فیصل قریشی پاکستان کا سرمایہ ہیں۔مصطفیٰ قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ فیصل قریشی صرف بہترین اداکار ہی نہیں بلکہ ایک مکمل آرٹسٹ ہیں، جو ہدایت کاری اور کہانی کو موثر انداز میں پیش کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فنکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں۔معروف اداکار ہمایوں سعید نے کہا کہ فیصل قریشی کی کامیابی کے پیچھے ان کا ڈسپلن، محنت اور وقت کی پابندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل قریشی نئے آنے والے فنکاروں کے لیے ایک مثال ہیں۔اداکار بہروز سبزواری نے کہا کہ میں خاص طور پر محمد احمد شاہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے یہ موقع فراہم کیا۔فیصل قریشی ایک زبردست اداکار ہیں، لیکن اس سے بھی بڑھ کر ایک بہت اچھے انسان ہیں۔چاہے کوئی اداکار ہو، ڈاکٹر ہو، پائلٹ ہو یا بزنس مین، بنیادی چیز انسان کا اچھا ہونا ہے ،اللہ تعالیٰ انہیں سلامت رکھے۔صلاح الدین تنیو نے فیصل قریشی کو ایک عظیم فنکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ کردار خود ان کے محتاج ہوتے ہیں، جبکہ عدنان صدیقی نے انہیں صفِ اول کا اداکار قرار دیا جو ہر کردار کو مہارت سے نبھاتے ہیں۔شہزاد نواز نے فیصل قریشی کی انسان دوستی اور مثبت سوچ کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے فنکار سرکاری سطح پر بڑے اعزازات کے مستحق ہیں۔اس موقع پر فیصل قریشی نے شکریہ کرتے ہوئے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور لائف اسٹائل جرنلسٹس ایسوسی ایشن کا شکریہ ادا کیا۔ یہ انڈسٹری ایک فیملی کی مانند ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہیں۔ فیصل قریشی نے اپنے سینئر فنکاروں، خصوصاً مصطفیٰ قریشی اور ہمایوں سعید کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔تقریب میں گلوکارہ نرملا میگھانی ،افشاں خان، حسن جہانگیر، شازیہ کوثر، میرب اور شبانہ کوثر کی شاندار پرفارمنس پر شائقین نے خوب سراہا۔































