جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کراچی میں نئی اکیڈمک و انتظامی عمارتوں کے منصوبے کا سنگِ بنیاد

کراچی12 مئی 2026۔ صوبائی وزیر برائے جامعات و بورڈز سندھ محمد اسماعیل راہو نے جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی (JSMU) میں نئی اکیڈمک اور انتظامی عمارتوں کے میگا منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر امجد سراج میمن بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔وزیر جامعات محمد اسماعیل راہو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے پر 2 ارب 86 کروڑ 86 لاکھ روپے لاگت آئے گی جبکہ تعمیراتی کام تین برس میں مکمل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ منصوبے کے تحت دو جدید عمارتیں تعمیر کی جائیں گی جن میں 11 منزلہ اکیڈمک و ایڈمنسٹریشن بلاک شامل ہے. انہوں نے بتایا کہ نئی عمارت میں جدید کلاس رومز، کمپیوٹر لیبز، ریسرچ ہالز، فزیو تھراپی ڈیپارٹمنٹ، اسٹوڈنٹس جیم اور انڈور گیمز کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ پہلی منزل پر 800 نشستوں پر مشتمل جدید آڈیٹوریم جبکہ دوسری منزل پر 500 طلبہ کی گنجائش والی جدید لائبریری قائم کی جائے گی۔صوبائی وزیر کے مطابق منصوبے میں 5 منزلہ ملٹی پرپز بلڈنگ بھی شامل ہے جہاں نرسنگ اور مڈوائفری کے شعبوں کے لیے جدید لیبز اور لیکچر ہالز قائم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ 4 لاکھ گیلن گنجائش کے زیر زمین واٹر ٹینک اور جدید طبی آلات کی فراہمی بھی منصوبے کا حصہ ہے تاکہ طلبہ اور اساتذہ کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات میسر آسکیں. محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ یہ منصوبہ حکومت سندھ کے تعاون سے مکمل کیا جا رہا ہے جس کا مقصد یونیورسٹی کے تعلیمی اور انتظامی نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی جامعہ کا اصل معیار اس کی فیکلٹی اور تعلیمی ماحول سے پہچانا جاتا ہے اور سندھ حکومت جامعات میں جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت صحت اور تعلیم کے شعبوں کی بہتری پر خصوصی توجہ دے رہی ہے جبکہ گزشتہ سات برسوں کے دوران سندھ کی جامعات کے گرانٹس میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ اعلیٰ تعلیم کے ادارے بہتر انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔وزیر جامعات نے کہا کہ سندھ حکومت صوبے کی جامعات اور اسپتالوں کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے اور دیگر صوبوں کے مقابلے میں سندھ کی جامعات کو زیادہ گرانٹس فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے باعث سندھ کی جامعات کی رینکنگ میں بھی بہتری آ رہی ہے۔تقریب میں یونیورسٹی کے اساتذہ، افسران، طلبہ اور دیگر معززین نے بھی شرکت کی۔

ہینڈآؤٹ نمبر 461۔۔۔آئی ایس

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
59 + = 61