گل پلازہ آتشزدگی کے بعد خصوصی ریسکیو ٹیموں کے قیام کی ضرورت پر زور

جامعہ کراچی کی فرانزک ڈی این اے لیبارٹری کے تحت سیمینار میں مختلف اداروں کے اسٹیک ہولڈرز کی شرکت

سمینارسے پروفیسر رضا شاہ، ڈاکٹر اشتیاق احمد، ڈاکٹر سمیہ سید، عامر حسن و دیگر نے خطاب کیا

کراچی: گل پلازہ آتشزدگی کے واقعے کے بعد جامعہ کراچی کے بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی اور حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) کے تحت قائم سندھ فارنزک ڈی این اے اینڈ سیرولوجی لیبارٹری (ایس ایف ڈی ایل) میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف اداروں کے اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی اور بلند عمارتوں میں آتشزدگی، عمارتوں کے منہدم ہونے اور خطرناک مواد سے متعلق حادثات سے نمٹنے کے لیے خصوصی اربن سرچ اینڈ ریسکیو (USAR) ٹیموں کے قیام کی سفارش کی۔ شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایک مرکزی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (EOC)قائم کیا جائے، جو پولیس، فائر بریگیڈ، ریسکیو سروسز، ٹریفک پولیس، محکمہ صحت، سی پی ایل سی، یوٹیلیٹی اداروں اور فارنزک اداروں کو ایک مشترکہ مواصلاتی نظام کے تحت مربوط کرے۔

آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا شاہ نے سیمینار کا افتتاح کیا۔ سیمینار میں پولیس، فائر بریگیڈ، ریسکیو سروسز، ٹریفک پولیس، محکمہ صحت، سی پی ایل سی، یوٹیلیٹی اداروں اور فارنزک اداروں کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔ نمایاں شرکاء میں پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمیعہ سید طارق، ایس ایف ڈی ایل کے انچارج و پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر اشتیاق احمد خان، سی پی ایل سی شناحت پراجیکٹ کے ڈائریکٹر عامر حسن، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کراچی ڈاکٹر ثاقب علی شیخ، چیف فائر آفیسر کراچی محمد ہمایوں خان اور دیگر شامل تھے۔

اپنے افتتاحی خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا شاہ نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور تمام متعلقہ اداروں کے درمیان ایک مشترکہ مواصلاتی نظام کے تحت تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ بعد ازاں ”آگ اور فائر فائٹنگ کے سائنسی پہلو“کے موضوع پر اپنے لیکچر میں انہوں نے ملک خصوصاً کراچی جیسے بڑے شہر میں سیفٹی کلچر کے فروغ کی عملی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سیفٹی انفراسٹرکچر اور سیفٹی کلچر کے نفاذ کا عملی تجربہ حاصل ہے اور اس موضوع پر ان کی بین الاقوامی سطح پر شائع ہونے والی کتاب”سیفٹی اِن دی کیمیکل لیبارٹری اینڈ انڈسٹری، ایک پریکٹیکل گائڈ“موجود ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ ایسے مؤثر اور عملی اقدامات کریں جن سے مستقبل میں آتشزدگی کے واقعات کے دوران قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔ ڈاکٹر سمیعہ سید طارق نے گل پلازہ واقعے کے دوران پیش آنے والے میڈیکو لیگل چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل پر گفتگو کی۔ ڈاکٹر اشتیاق احمد خان نے ڈی این اے لیبارٹری کی خدمات اور شدید آگ کے باعث ڈی این اے کے متاثر ہونے اور ضائع ہونے جیسے چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ڈی این اے شواہد جرائم کی تفتیش، نسب کے تعین اور سانحات میں جاں بحق افراد کی شناخت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اجتماعی حادثات کے دوران نمونوں کے بہتر انداز میں حصول کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایس ایف ڈی ایل اپنے قیام سے اب تک کئی اہم مقدمات میں کلیدی کردار ادا کرچکی ہے۔ عامر حسن نے اپنے خطاب میں گل پلازہ حادثے کا تفصیلی جائزہ پیش کیا، جبکہ محمد ہمایوں خان نے فائر فائٹنگ آپریشنز کے دوران پیش آنے والے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عوام اور غیر متعلقہ افراد کی مداخلت ریسکیو کارروائیوں میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔
=======================

عیدقرباں میں شہری صحت سے متعلق احتیاطی تدابیر اختیار کریں

شہری متوازن غذا کااستعمال کریں، ڈاکٹرسمن ندیم کا پنجوانی سینٹر جامعہ کراچی کے سمینار سے خطاب

ناقص صفائی ستھرائی انسانوں کو جانوروں سے منتقل ہونے والی بیماریوں کے خطرات سے دوچار کر سکتی ہے

کراچی – عیدالاضحیٰ ایک اہم مذہبی تہوار ہے جو عقیدت اور قربانی کے جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے، تاہم یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماریوں، ماحولیاتی آلودگی، خوراک کی حفاظت سے متعلق مسائل اور اینٹی مائیکروبیل ادویات کے غلط استعمال کے بڑھتے ہوئے خطرات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر قربانی کے جانوروں کو ذبح کرنے اور ان کے گوشت کو سنبھالنے کے دوران مناسب صفائی ستھرائی اور ویٹرنری احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو انسانوں میں جانوروں سے منتقل ہونے والے انفیکشنز کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ بات کنسلٹنٹ کلینکل مائکرو بائیولوجسٹ اور نیشنل میڈیکل سینٹر کے مائکروبائیو لوجی شعبے کی سربراہ ڈاکٹرسمن ندیم نے جمعرات کو ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی)، جامعہ کراچی کے عوامی آگاہی پروگرام کے تحت”بکرا عید کے دوران پوشیدہ انفیکشنز:ایک کلینیکل مائیکروبایولوجسٹ کا عوامی صحت کے تناظر میں جائزہ“ کے موضوع پر ایل ای جے نیشنل انفارمیشن سینٹرجامعہ کراچی میں منعقدہ ایک لیکچر کے دوران کہی۔ لیکچر کا انعقاد ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ جامعہ کراچی اور سندھ انوویشن، ریسرچ اینڈ ایجوکیشن نیٹ ورک (سائرن) کے باہمی تعاون سے ہو ا۔سیمینار میں طبی ماہرین، طلبہ، ریسرچ اسکالرز، عملے کے ارکان اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا شاہ نے استقبالیہ خطاب کیا۔ ڈاکٹر سمن ندیم نے کہا کہ اگرچہ عیدالاضحیٰ مذہبی اور ثقافتی اعتبار سے بے حد اہمیت رکھتی ہے، تاہم یہ معدے اور آنتوں کے انفیکشنز اور جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماریوں کے حوالے سے عوامی صحت کے کئی چیلنجز بھی پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا،“محفوظ عید کے کھانے کا آغاز مصالحوں سے نہیں بلکہ صفائی سے ہوتا ہے”، اور خبردار کیا کہ خوشیوں بھرا تہوار معمولی غفلت کے باعث قابلِ تدارک بیماری میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عید کے دوران تیار کیے جانے والے گوشت کے پکوان کھانے کے بعد اکثر گھروں کے کئی افراد شدید معدے کے انفیکشن میں مبتلا ہو جاتے ہیں جبکہ تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی دن تک گوشت کو بار بار پگھلانے اور دوبارہ گرم کرنے کی عادت اس کی بڑی وجہ بنتی ہے۔ ڈاکٹر سمن نے نشاندہی کی کہ عیدالاضحیٰ کے بعد رہائشی علاقوں کے قریب جانوروں کی آلائشیں کھلے عام پھینکنے سے مکھیاں بڑھ جاتی ہیں اور قریبی پانی کے ذرائع آلودہ ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر محفوظ ذبح، ناقص صفائی اور کچرے کے غلط انتظام کے باعث عید کے دنوں میں شہروں میں زونوٹک انفیکشنز، خوراک سے پھیلنے والی بیماریوں اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بکرا عید کے دوران بیماریوں سے بچاؤ کے لیے صحت مند جانوروں کی خریداری، جانوروں کا ویٹرنری معائنہ، ذاتی صفائی کا خیال، مقررہ مقامات پر قربانی، جانوروں کی آلائشوں کو محفوظ طریقے سے تلف کرنا، اور جانوروں کے خون و دیگر رطوبتوں سے براہِ راست رابطے سے گریز ضروری ہے۔ انہوں نے صفائی، حفظانِ صحت اور بیماریوں سے بچاؤ کے حوالے سے عوامی آگاہی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک محفوظ اور صحت مند عیدالاضحیٰ کے لیے احتیاطی تدابیر اپنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ عید کے دنوں میں زیادہ کھانے سے گریز کریں اور متوازن غذا اختیار کریں تاکہ صحت کے مسائل سے بچا جا سکے۔ مزید برآں، ڈاکٹر سمن ندیم نے شہریوں کوکانگو ہیمرجک بخار سے ہوشیار رہنے کا مشورہ دیاجو ایک وائرس سے پیدا ہونے والا بخار ہے جو چیچڑ کے کاٹنے یا متاثرہ جانور کے خون سے منتقل ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
72 + = 82