جنوبی کوریا کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں تنہا زندگی گزارنے والی 78 سالہ بزرگ خاتون کی زندگی آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے لیس ایک گڑیا نے بدل کر رکھ دی ہے۔
انسانوں سے مایوس ہونے والی یہ بزرگ خاتون اب اپنے دن کا زیادہ تر وقت اس گڑیا کے ساتھ گزارتی ہیں جو دکھنے میں بالکل عام بچوں جیسی ہے لیکن اے آئی ٹیکنالوجی کے تحت کام کرتی ہے۔
یہ اے آئی گڑیا خاتون کے گھر آنے پر ان کا گرمجوشی سے استقبال کرتی ہے، ان کی بوریت دور کرنے کے لیے گانے سناتی ہے اور انہیں وقت پر کھانا کھانے اور ادویات لینے کی یاددہانی بھی کرواتی ہے۔
صرف یہی نہیں بلکہ یہ گڑیا اپنی پیار بھری گفتگو کے ذریعے معمر خاتون کو شدید تنہائی میں جذباتی سکون اور اپنائیت کا احساس بھی فراہم کرتی ہے۔
جنوبی کوریا میں تنہائی ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، سال 2024 میں ملک بھر میں 3 ہزار 920 ایسے افراد کی اموات رپورٹ ہوئیں جو بالکل تنہا زندگی گزار رہے تھے اور مرنے کے بعد کئی روز تک کسی کو ان کی موت کا پتہ بھی نہیں چل سکا۔
یہی وجہ ہے کہ اب جنوبی کوریا کے حکام نے تنہا رہنے والے معمر شہریوں کی مدد کے لیے اے آئی سے چلنے والے یہ جدید آلات اور گڑیائیں فراہم کرنا شروع کر دی ہیں۔
یہ ڈیوائسز نہ صرف بزرگوں کی تنہائی کا ساتھی بنتی ہیں، بلکہ کسی ہنگامی صورتحال یا تنہائی میں موت کے آثار کا بروقت پتہ چلا کر فوراً متعلقہ حکام اور امدادی ٹیموں کو اطلاع بھی پہنچاتی ہیں۔




































