
جدہ کی ڈائیری، امیر محمد خان
٭ جدہ میں پاکستان جرنلسٹس فورم کی ایک تاریخ ہے
٭مثبت صحافت، پاک سعودی تعلقات کی مظبوطی انکا ایجنڈہ ہے
٭چوہدری شفقت محمود دھول کو پاکستان انونسٹر ز فورم سعودی عرب کا چیئرمین مقررچن لیا گیا
٭قونصل جنرل سید مصطفی ربانی کے اعزاز میں شاندار عشایہ
سینئیر صحافی جو یہاں رضاکارآنہ کام کررہے ہیں کا وجود 1994 ء، جدہ میں ہوا تھا جب سے آج تک اسکا مقصد * سعودی عرب میں مقیم پاکستانی صحافیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا، پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو فروغ دینا، اور کمیونٹی کی مثبت سرگرمیوں کو اجاگر کرنا۔اپنی تحریوں کے ذریعے پاکستانیوں کے عظیم میزبان سعودی عرب کی مثبت خبریں پاکستانیو ں کو پہنچانا، اس فورم میں پاکستان کے قومی اخبارات ، ڈیجیٹل چینلزسے وابسطہ ذمہ دار اور تجربہ کار جن میں سے اکثر پاکستان میں باقاعدہ قومی اخبارات سے منسلک رہے ہیں
اراکین فورم کے مطابق اس میں الیکٹرانک، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ تجربہ کار پاکستانی صحافی شامل ہیں۔ پاکستان جرنلسٹس فورم (PJF)* جدہ کی قدیم، مسلسل فعال اور عوامی سطح پر دستاویزی موجودگی رکھنے والی پاکستانی صحافتی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔ دستیاب عوامی معلومات کے مطابق **پاکستان جرنلسٹس فورم (PJF) جدہ* کے متعدد اراکین کئی دہائیوں سے صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔ امیر محمد خان، شاہد نعیم، جمیل راٹھور،چوہدری معروف حسین،اسد اکرم،خالد نواز چیمہ، فوزیہ خان، ذکیر بھٹی، مریم شاہد، امانت اللہ، جاوید راہو، عامل عثمانی، عالیہ ضرار خان،(دمام)،امیر محمد خان تقریباً چار دہائیوں سے صحافت سے وابستہ ہیں، مختلف قومی و بین الاقوامی میڈیا کے لیے رپورٹنگ کر چکے ہیں، اور متعدد سرکاری و کمیونٹی تقریبات میں بطور چیئرمین پاکستان جرنلسٹس فورم شریک رہے ہیں، یہ کچھ الفاظ وہ ہیں جو AI, کے ذرایع،CHAT GPT جدہ میں پاکستانیوں صحافیوں کے حوالے سے بیان کرتے ہیں، جدہ کمیونٹی کے کچھ افراد جنہوں نے کمیونٹی سرگرمیوں میں نئے قدم رکھے ہیں یہ انکے لئے ہے۔ جدہ میں دیگر افراد بھی کمیونٹی میں صحافتی خدمات انجام دے رہے ہیں جن میں نور گجر، ملک فہد، جہانگیر خان، مسرت خلیل، یحی اشفاق (فوٹو گرافر) بھی ایک وقت میں پاکستان جنرنلسٹ فورم کے ممبر رہے ہیں۔ پاکستان جرنلسٹس فورم کی خدمات اور سنجیدہ و تجربہ کار سرگرمیوں کو نہ جانے کیوں خاص طور پر پاکستان قونصلیٹ کئی مرتبہ جہاں کے شعبہ پریس کی ذمہ داری سعودی عرب کے میڈیا میں پاکستان کا مثبت چہرہ دکھانے کی ذمہ داری ہوتی ہے وہ حکومتی ذمہ داری کے بجائے پاکستان جرنلسٹس فورم کو FIX کرنے کی روش اختیار کرتے ہیں، ایک وقت ایک قونصل جنرل نے ہندوستان دوستی میں جدہ کے کچھ بھارتی صحافیوں کو اس کام پر لگانے کی کوشش کی اور اس فورم کا نام پاک بھارت جرنلسٹس فورم کو تجویز کرنا چاہا، اسکے لئے انہوں نے پی جے ایف کے ممبران، اوریہاں کام کرنے والے بھارتی صحافیوں پر اسکا درس دیا، مگر دونوں ہی جانب سے موصوف کو انکار کا سامنا کرنا پڑا، کچھ سفارت کار ایسے بھی ہیں جنکی خواہش ہوتی ہے پی جے ایف کے ممبران پاکستان کے سرکاری میڈیا میں خدمات نہ دیں اسکی وجہ اسکے
علاوہ اور کچھ نہیں کہ پی جے ایف کے ممبران اپنا کام کرتے ہیں ”چاپلوسی“نہیں کرتے۔ تصاویر کے شوقین کمیونٹی کے کچھ اراکین ہر موبائل رکھنے والے کو صحافی تصور کرتے ہیں۔ اور اپنی تقریبات میں ”کوٹہ سسٹم“لاگو کرتے ہیں کہ فیس بک صحافیوں، اور باقاعدہ صحافیوں سے دودو
افراد کو اپنی تقریبات میں دعوت دیتے ہیں جبکہ پی جے ایف کو کبھی اسکاشوق نہیں رہا کے انکے تمام اراکین کو دعوت دی جائے انہیں تقریب کی رپورٹ سے مطلب ہے، وہ چاہے انہیں پریس ریلیز کے شکل میں مل جائے، مگروہاں مسئلہ یہ ہے کہ لکھے کون؟؟

چوہدری شفقت محمود دھول کو پاکستان انونسٹر ز فورم سعودی عرب کا چیئرمین مقررچن لیا گیا
جدہ میں انوسٹرز فورم نے پاکستان کے قونصل جنرل سید مصطفی ربانی کے اعزاز میں ایک شاندار عشائیہ کا اہتمام کیا، جس میں جدہ کے پاکستانی ا انونسٹرز کمیونٹی کے دیگر افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی، فورم کے سیکریٹری جنرل عبدالخالق لک نے قونصل جنرل کو سپاسنامہ پیش کیا وہ ایک اچھے لکھاری اور دانشور ہیں اپنے سپاسنامے میں انہوں نے کہا کہ آج ھم ایک ایسی محفل میں ہیں جہاں نہ کوئی سیاسی مقصد ہے، نہ ذاتی مفاد، بلکہ خدمت کا اعتراف، پاکستان و سعودی عرب کی لازوال دوستی کا اظہار مقصود ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ ہم ایک ایسے سرکاری افسر کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں جس نے یہ احساس دلایا کہ عہدے وقتی ہوتے ہیں، مگر کردار ہمیشہ زندہ رہتا ہے، عہدے ختم ہو جاتے ہیں،اختیارات واپس لے لیے جاتے ہیں،وقت بدل جاتا لیکن دیانت، خدمت اور حسنِ اخلاق نسلوں تک یاد رکھاجاتا ھے اسی سوچ کی جھلک اس وقت نظر آتی ہے جب بیرونِ ملک رہنے والا کوئی پاکستانی قونصل خانے کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔وہ صرف پاسپورٹ کی تجدید کے لیے نہیں آتاوہ اپنے وطن کا چہرہ دیکھنے آتا ہے۔وہ یہ محسوس کرنا چاہتا ہے کہ ہزاروں میل دور بھی پاکستان اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ہمیں خوشی ہے کہ جناب سید مصطفیٰ ربانی صاحب کی قیادت میں بہت سے پاکستانیوں نے یہی احساس حاصل کیا کہ قونصل خانہ صرف ایک سرکاری دفتر نہیں بلکہ پاکستانیوں کا اپنا ادارہ ہے۔پاکستان اور مملکتِ سعودی عرب کا تعلق صرف سفارتی تعلق نہیں یہ ایمان، اعتماد، تاریخ اور مشترکہ احترام کا رشتہ ہے حرمین شریفین کی محبت نے اسے مضبوط بنایا۔اور آج خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 نے اس رشتے کو مستقبل کی نئی سمت عطا کی ہے۔پاکستانی انجینئر، ڈاکٹر، اساتذہ، تعمیراتی ماہرین، ٹیکنیشن، اکاؤنٹنٹس، سول ایوی ایشن کے ماہرین اور دفاعی شعبے سے وابستہ پاکستانی اپنی صلاحیتوں کے باعث یہاں عزت و احترام کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ویژن 2030 صرف سعودی عرب کی ترقی کا منصوبہ نہیں بلکہ دنیا بھر کے اہلِ صلاحیت کے لیے مواقع کا ایک نیا دروازہ ہے۔ انہوں نے مہمان خصوصی سید مصطفی ربانی کو مخاطب کرتے ہوئے کے ہم کمیونٹی کی دو اہم امیدیں بھی آپ تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ ایک بچوں کو تعلیمی سہولت فراہم کرنے کی دوم قونصلیٹ میں جب بھی رہائشی کمپلیس قائم ہو تو ایک کمیونٹی ڈسپینسری قائم کی جائے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریاض میں انونسٹرز فورم کے صدر صفدرنے بتایا کہ گزشتہ دنوں سفیر پاکستان سے ملاقات اور ہماری مشترکہ اجلاس ہوا، اجلاس میں طے ہوا کہ چوہدری شفقت محمود کی انتھکت محنت کو دیکھتے ہوئے انہیں دمام، ریاض، جدہ کے مشترکہ پلیٹ فارم پاکستان انوسٹرز فور سعودی عرب کا چئیرمین بنا یا جائے، چوہدری شفقت محمود نے
اپنے خطاب میں انونسٹرز فورم کی کامیابیوں کا ذکر کیا انہیں شکایت تھی کہ میڈیانے کچھ ایسی خبر شائع کی جس سے کنفیوزن پیداہوا، انکا اشارہ شائد اسطرف تھا کہ سفیر پاکستان سے ملاقات میں انکے علاوہ دیگر انونسٹرز بھی موجود تھے جنکی نہ ہی تصویر شائد ہوئی یاخبر میں انکا نام میری اطلاع ہے کہ ان لوگوں نے شفقت محمود سے اس پرگلہ کیا، تو خبر نہیں بلکہ نام نہ آنا مسئلہ تھا ۔ قونصل جنرل نے خطاب میں انونسٹرز فورم کی کاوشوں کو سراہا، اور انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے مجھے کمیونٹی کی خدمت پر مامور کیا ہے اور ہر مثبت عمل میں میں انکے ہمراہ ہوں، انونسٹرز فورم میں نے اتحاد کا مظاہرہ دیکھا ہے جو ایک مثبت عمل ہے اور مثبت عمل والے ہی اپنے ایجنڈے پر کام کرسکتے ہیں۔ تقریب سے ریاض سے آئے ہوئے مہمان پاکستان ایگزیکٹو فورم کے چئیرمین منیر احمد شادنے بھی خطاب کیا۔





































