کسی بھی معاشرے نے خواتین کو محکوم رکھ کر ترقی نہیں کی ہے ….چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے کہا ہے کہ کسی بھی معاشرے نے خواتین کو محکوم رکھ کر ترقی نہیں کی ہے، آئین و قوانین کے مطابق بھی کسی کو امتیازی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی آرٹس کونسل میں نویں خواتین لاء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چیف جسٹس ظفر احمد راجپوت نے کہا کہ یہ دوسرا موقع پر جب آرٹس کونسل میں کسی کانفرنس میں آنا ہوا ہے۔ آج اسٹیج پر خواتین کی تعداد زیادہ ہے جبکہ اس سے قبل مرد حضرات کی تعداد زیادہ ہوتی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی خوبصورت تخلیق میں سب سے زیادہ تعریف انسان کی کی ہے۔ سب سے خوبصورت تخلیق عورت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے 3 بیٹیوں سے نوازا ہے اولاد میں سب برابر کا حقوق رکھتے ہیں۔ جو آپ بیٹے کے لئیے سوچیں وہی سوچ بیٹی کے لیئے رکھیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ خواتین کو بااختیار نا دیں۔ کسی بھی معاشرے نے خواتین کو محکوم رکھ کر ترقی نہیں کی ہے۔ خواتین اپنے آپ کو کسی بھی لحاظ سے کمزور نا سمجھیں۔ آئین و قوانین کے مطابق بھی کسی کو امتیازی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے احمد شاہ نے کہا کہ یہ آرٹس کونسل میں کافی بار اس طرح کی کانفرنس ہوچکی ہیں۔ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں سیکریٹری کے لئیے ایک خاتون جیت کر آئی ہے۔ اس میں کوئی بھی شک نہیں ہے کہ ہماری خواتین کسی سے کم ہیں کسی بھی لحاظ سے۔ آج خواتین عدالتوں کو بھی چلا رہی ہیں۔ سب لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔ صدر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن حسیب جمالی ایڈووکیٹ نے کہا کہ وومن لاء کانفرنس کے لئیے سب کو آج یکجا کردیا گیا ہے۔ یہاں موجود سب خواتین ہمارے لئیے بہت احترام رکھتی ہیں۔ کامیابی تو صورت مسلسل جدو جہد سے ہی حاصل ہوسکتی ہے۔ جس طریقے سے ہماری وکلاء خواتین محنت کررہی وہ تبدیلی کی طرف اشارہ ہے۔ اب خواتین ان کیسز کی پیروی کررہی ہے جو پہلے کبھی ایسا نہیں ہوتا تھا۔ ہم مردوں کے لئیے تو الارمنگ صورت حال ہے۔ سخت محنت سے انسان مزید نکھر جاتا ہے۔ میرا پیغام ہے کہ خواتین کو مزید محنت جاری رکھنے کا کہوں گا کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ مجھے اپنی تمام بہنوں پر فخر ہے چاہے وہ بینچ میں ہے چاہے وہ بار میں ہے۔ ہماری سپورٹ آپ لوگوں کے ساتھ ہے۔ میں الیکشن جب جیتا تو میں نے کہا میرے پیچھے ماں کی دعا ہے۔ یہاں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں خواتین حیدرآباد سے بھی کراچی آکر وکالت کرتی ہیں۔ نمائندہ آئی جی سندھ قمر عباس نے کہا کہ وومن لاء کانفرنس ایک حساس معاملہ ہے۔ جو بے زبان بچے کی ضرورت کو سمجھ لے وہ ایک خاتون ہی ہوسکتی ہے۔ ہماری خواتین کی بہت زیادہ زمہ داریاں ہوتی ہیں۔ ہر ہفتے آئی جی سندھ ہیومن رائٹس کے معاملے میں میٹنگ رکھتے ہیں۔ ہر ضلع میں وومن پروٹیکشن اور ہیومن رائٹس کے معاملے زیر غور آتے ہیں۔ میں وکلاء کا شکر گزار ہوں جو اس طرح کا پروگرام منعقد کرتے ہیں۔ خواتین لاء کانفرنس کے بانی ندیم اے شیخ ایڈووکیٹ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ ہیں۔ کوئی بھی شعبہ ہو ہر کام خواتین پیش پیش ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
66 − = 65