ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے شادی کا جھانسہ دے کر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں ملزم کو 10 سال قید کی سزا سنادی

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے شادی کا جھانسہ دے کر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں ملزم کو 10 سال قید کی سزا سنادی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت نے شادی کا جھانسہ دے کر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے مقدمے کا فیصلہ سنادیا۔ استغاثہ جرم ثابت کرنے میں کامیاب رہا۔ عدالت نے زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر پر ملزم اسامہ وڈیریہ کو 10 سال قید کی سزا سنادی۔ عدالت نے ملزم پر 50 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ ملزم اسامہ وڈیریہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے سزا سنائی گئی۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ اس کیس میں ملزم نے متاثرہ لڑکی سے محبت کا رشتہ قائم کرکے اعتماد حاصل کیا۔ ملزم نے متاثرہ لڑکی کو اہلخانہ سے ملوانے اور شادی کرنے کا جھوٹا وعدہ کیا۔ اس کیس میں متاثرہ لڑکی کا بیان قابل بھروسہ ہے۔ ڈی این اے اور ایم ایل رپورٹ اور گواہان کے بیان کی روشنی میں پراسکیوشن اپنا کیس ثابت کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ مدعیہ نے بیان میں کہا تھا کہ ملزم کی مجھ سے دوستی تھی، ملزم نے مجھ سے شادی کا وعدہ کیا تھا۔ ملزم نے 27/28 نومبر 2024 کو ڈی ایچ اے کے ایک گیسٹ ہاؤس میں بلایا تھا۔ ملزم نے مجھ اپنی فیملی سے ملوانا کا کہہ کر بلایا تھا۔ ملزم نے مجھے چھری سے ڈرا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ وکیل صفائی نے موقف دیا کہ مدعیہ نے عدالت کے سامنے اپنے 164 کے بیان میں کہا کہ ڈنر کے بعد ہم فلیٹ سے باہر چائے اور جوس کے لیے گئے تھے۔ جبکہ مدعیہ کی جانب سے پولیس کو دیئے گئے بیان میں ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔ مدعیہ نے جرح کے دوران تسلیم کیا کہ گیسٹ ہاؤس پر موجود کسی شخص کو نہیں پہچانتی نا کوئی شور شرابہ کیا۔ ملزم نے مدعیہ سے شادی سے انکار کیا تھا، مدعیہ حق مہر میں 50 لاکھ روپے کی بھاری رقم لکھوانا چاہتی تھی۔ پراسکیوشن ملزم کیخلاف کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ملزم کیخلاف لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزم کیخلاف نومبر 2024 میں درخشان تھانے میں مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
35 − 27 =