سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے صدر عبد اللہ ہارون روڈ پر عمارت کو مخدوش قرار دیکر خالی کروانے کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین کو موجودہ حیثیت برقرار رکھنے کا حکم دیدیا

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے صدر عبد اللہ ہارون روڈ پر عمارت کو مخدوش قرار دیکر خالی کروانے کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین کو موجودہ حیثیت برقرار رکھنے کا حکم دیدیا۔ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو صدر عبد اللہ ہارون روڈ پر عمارت کو مخدوش قرار دیکر خالی کروانے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ وکیل نے موقف دیا کہ درخواستگزار کئی دہائیوں سے علی مینشن میں کاروبار کررہے ہیں۔ عمارت کے مالک نے غیر معمولی اضافی کرائے سے انکار پر بے دخلی کی کوشش کی۔ مکان مالک نے ایس بی سی اے کے ذریعے عمارت کو استعمال کے لئے خطرناک قرار دلوایا۔ ایس بی سی اے کی 2024 کی رپورٹ کی روشنی میں عمارت خالی کرنے کا حکم دیا۔ ایس بی سی اے کی رپورٹ میں عمارت کو خطرناک قرار دینے کے ٹھوس شواہد پیش نہیں کئے گئے۔ کرائے کے تنازع پر عدالت پہلے ہی حکم امتناع جاری کرچکی ہے۔ عدالت نے فریقین اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو نوٹس جاری کردیئے۔ عدالت نے فریقین کو موجودہ حیثیت برقرار رکھنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے درخواست کی سماعت 21 مئی تک ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
41 + = 45