
تحریر: سہیل دانش
ایک طرف جہاں تاریخ اِس خطے میں بموں کی دھمک، خون کی ہولی، آگ کی برسات اور ہولناکیوں کے مناظر دیکھ کر ہانپتی ہوئی مستقبل میں جھانکنے کی کوشش کررہی تھی۔ وہاں گذشتہ چند روز میں وہ اندیشوں، خدشات اور دھمکی آویز لہجوں کے بیچ سیز فائر کی مہلت ختم ہونے سے پہلے ایک بار پھر برف پگھلتے اور اُمید کی کرنیں بکھرتے دیکھ رہی ہے۔ یونیورسٹی آف جارجیا میں اپنے خطاب میں امریکی نائب صدر اور آئندہ صدارتی الیکشن میں ری پبلکن پارٹی کا سب سے نمایاں چہرہ بننے والے جے ڈی وینس نے سب سے پہلے یہ خوشخبری سنائی کی 47 سال کے بعد مرگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع پاکستان کے دارالحکومت میں ایران اور امریکہ کے پابین مذاکرات کا دوسرا دور خارج ازامکان نہیں۔ بات چیت جاری ہے اور اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔ پھر امریکی صدر نے اپنے نائب جے ڈی وینس کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے اِس سے دو قدم آگے بڑھ کر دنیا کو یہ خوشخبری سنائی کہ ایران کے خلاف لڑائی ختم ہونے والی ہے۔ ہم مذاکرات کے حتمی نتائج کے لئے ایک بار پھر پاکستان کا سفر کرسکتے ہیں، لیکن فوجی وردی میں ملبوس فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تہران آمد پر ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے گرمجوش اور محبت بھرا معالقہ اور وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی شاہی محل میں مسکراہٹوں کا تبادلہ یہ اشارہ دے رہا ہے کہ کچھ بڑا ہونے والا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ تاریخ شاید آئندہ چند روز میں کسی تاریخی معاہدہ پر دستخط ہوتے دیکھے گی۔ محسوس ہوتا ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کی ریڈ لائن کو بہتر طور پر سمجھ گئے ہیں بات اب ہماری تمہاری شرائط سے آگے بڑھ کر مجبوری اور بالادستی کے بندھن کو توڑچکی ہے۔ 40 روزہ اِس جنگ نے ثابت کردیا کہ انسان کی ڈارک سائیڈ کتنی ہولناک اور ناقابلِ بیان ہے۔ وینزویلا پر قبضے کے بعد امریکہ ایران پر حملہ آور ہوگیا۔ 40 دن تک بمباری میں اُس نے ایران پر 12 ہزار حملے کئے، ایران کی فوجی طاقت کو ناقابلِ بیان نقصان پہنچایا۔ ایٹمی ری ایکٹر تباہ کئے۔ اس کی مذہبی سیاسی اور سائنسی قیادت کی زندگیاں چھین لیں لیکن ایران نہیں جھکا، اُس نے ہار نہیں مانی اُس نے ثابت کیا کہ وہ ہر قربانی دینے کے لئے تیار بیٹھا ہے وہ امریکہ کی مہیب طاقت اور اسرائیلیوں کی ٹیکنالوجی کے خلاف کھڑا رہا۔ اسرائیلی سمجھتے تھے کہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایرانی نظام کا شیرازہ بکھر جائے گا آزاد خیال لوگ باہر نکلیں گے اور مولویوں کی حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا۔ لیکن جیسے جیسے حملے ہوتے رہے۔ استقامت بڑھتی رہی۔ دوسری طرف امریکی صدر کا خیال تھا کہ امریکہ ایک سپرہاور ہے، وہ پیچھے ہٹی تو اُس کی ٹوٹ پھوٹ شروع ہوجائے گی۔ وہ سمجھ گئے کہ اُن کے اندازے غلط ثابت ہورہے ہیں عرب ممالک میں اپنے 17 فوجی اڈوں کے باوجود وہ اِن ممالک کو تحفظ نہ دے سکے۔ وہ سمجھ گئے کہ اگر وہ جنگ ہارگئے تو عرب اُن کے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔ نیتن یاہو کو بھی یہ دھڑکا تھا کہ جنگ میں پسپائی کے بعد اُس کا سیاسی کیرئیر ختم ہوجائے گا۔ ساتھ ساتھ ایرانیوں نے سوچا یا انہیں سمجھایا گیا کہ اگر وہ مسلسل مزاحمت کرتے رہے ممکن ہے دنیا اُن کے سینے پر فاتح کے طور پر تمغہ سجادے لیکن اگر جنگ نے طول پکڑی کہ لاکھوں ایرانی زندگیوں سے ہاتھ دھوبیٹھیں گے اُس کے سارے ادارے ختم ہوجائیں گے۔ خلیج فارس کے دونوں سائیڈز پر دھواں راکھ اور آگ ہوگی۔ اِس خطے کی زمینیں بنجر ہوجائیں گے۔ پانی میں تابکاری کا زہر گھل جائے گا تو پھر کھنڈرات اس فتح کا جشن کوئی منائے گا۔ یہی تکلیف دہ حقائق جب دونوں فریقوں کی سمجھ میں آگئے تو وہ اپنی اناؤں کے گھوڑے سے نیچے اُتر آئے، ایران کو یہ بات سمجھانے میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا، اُس نے عربوں کو بھی سمجھایا کہ اگر جنگ پھیلی تو وہ ایرانی میزائلوں کے رحم و کرم پر ہونگے، امریکی صحافی وڈ کاک نے لکھا ہے کہ پاکستان کے فائیو اسٹار فیلڈ مارشل نے جان ایف کینڈی سے زیادہ جذباتی اور بش سینئر سے زیادہ غیر متوقع فیصلے کرنے والے دنیا کے سب سے بااختیار اور طاقتور ڈونلڈ ٹرمپ کو اس معاہدہ کے لئے راضی کرنے میں جو کردار ادا کیا ہے وہ ناقابلِ یقین ہے۔ امریکی اُن کا دفاع نہیں کرپارہے اُس جنگ کے پھیلنے کی وجہ سے بے شمار خطرات موجود تھے جس نے پوری دنیا کی اقتصادیات اور معیشت کو ہلاکر رکھ دیا تمام فریقین کو حقائق کے ادراک کے بعد ہی یہ مرحلہ آیا کہ گرینڈ ڈیل کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر آرہا ہے یہی وہ دباؤ ہے جس نے اسلام آباد میں کسی تاریخی معاہدہ کی اُمید پیدا کردی ہے۔
=================
اسلام آباد ۔ مذاکرات کی میز سج گئی
تحریر: سہیل دانش
جہاں ایک سانس میں امریکی صدر فہم کا دروازہ کھولنے پر آمادہ نظر آتے ہیں وہاں دوسری طرف وہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی دیومالائی جنگی طاقت کے بل ایرانیوں کو جہنم میں دھکیل دینے اور اُن کی صدیوں پرانی تہذیب کو اُجاڑدینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اِس کے باوجود کہ امریکہ نے اسرائیلیوں کے ساتھ مل کر گذشتہ 6 ہفتوں میں اپنی دیوانگی کو آزمالیا ہے اور جب امریکی صدر نے یہ محسوس کیا کہ اُن کی قوم یہ سوچنے پر مجبور ہورہی ہے کہ اُس کے ادارے عدالتی نظام اور آئین اتنا بے بس کیوں ہے کہ اُس نے تمام اختیارات ایک ایسے لا اُبالی صدر کے حوالے کردئیے ہیں جو اپنے آپ کو اپنے تمام اداروں اور بین الاقوامی اخلاقی سیاسی اور عسکری ضابطوں سے بالاتر سمجھ رہا ہے درحقیقت دنیا دیکھ رہی ہے کہ ایک طرف جہاں ٹیکنالوجی انسانی زندگی میں آسانیاں لانے کے لئے نئی نئی ایجادات کررہی ہے تو دوسری طرف جب یہ قوت اور ٹیکنالوجی کسی انسان کے ہاتھ لگ جائے تو وہ کس طرح اس ٹیکنالوجی کو بے نیام تلوار کی طرح استعمال کرتا ہے۔ جنگ کے شعلوں کے درمیان کھڑے دنیا کے لوگ یہ ضرور سوچ رہے ہیں کہ اللہ کا نائب انسان دنیا میں پھیلتی ہلاکت خیزی اور خون ریزی سے کیسے نجات حاصل کرے گا۔ امریکہ میں یہ احساس اب توانا ہوتا جارہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ایران کے خلاف جس جنگ کا آغاز کیا تھا اُس میں اُن کے اندازے غلط ثابت ہوئے اُن کی حکمت عملی بظاہر پسپا اور ناکام رہی ہے اور اُس کے اثرات اب براہِ راست امریکہ کی معیشت کے ماتھے پر صاف نظر آرہے ہیں۔ جنگ کے آغاز میں ہی آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے کی وہ ایک ایسی غلطی کربیٹھے جس نے نہ صرف ایرانیوں کو یکجا اور متحد کردیا بلکہ ایران میں آبادی کا وہ طبقہ جو مہنگائی، بے روزگاری، افراطِ زر اور دوسرے معاشرتی اور سماجی مسائل کے سبب چند ماہ قبل احتجاجاً سڑکوں پر نکل کر حکومت کو چیلنج کررہا تھا۔ لیکن امریکیوں اور اسرائیل کی بھڑکتی اور پھیلتی جارحیت کے خلاف اپنی ناراضگی بھول کر اپنے وطن کی محبت سے سرشار ہوکر حکومت کا ہمرکاب بن گیا۔ امریکہ کی سابق خاتون اول ہیلری کلنٹن نے جو ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں وہائٹ ہاؤس تک پہنچنے کی دوڑ میں اُن کی مدمقابل تھیں۔ اُنہوں نے ٹرمپ کے اِس بلا سوچے سمجھے جنگی اقدام کو احمقانہ حرکت قرار دیا ہے اُنہوں نے کہا کہ میرے لئے یہ ناقابل فہم ہے کہ صدر امریکہ کے عہدے پر فائز ایک شخص اِس طرح سرپٹ دوڑنا شروع کردے جس طرح کوئی اسپرنٹر فنش لائن تک پہنچنے کے لئے اندھا دھند بھاگنا شروع کردیتا ہے صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کو جنگی اقدامات میں اپنے اپنے ملک میں گھٹتا ہوئے سیاسی اثرورسوخ ایک دڑاؤنے خواب کی طرح ڈرا بھی رہا ہے اس جنگ کے بعد یہ امر بھی واضح ہوگیا کہ جن فوجی اڈوں کو خلیجی ممالک اور سعودی عرب اپنے تحفظ کی ضمانت سمجھتے تھے اب یہ فوجی اڈے اُن کی سلامتی کے لئے خطرہ بن گئے ہیں اور امریکہ نے انہیں تن تنہا چھوڑدیا۔ جبکہ دوسری طرف تباہ حال اور لہولہان ایران ہے جس نے دنیا کی سپرپاور کے خلاف مزاحمت اور اپنے وجود کو منوانے کے لئے فقید المثال حوصلے اور جراتمندی کا ثبوت دیا ہے۔ وہ ایران جسے دیکھ کر یہ احساس ہوتا تھا کہ جس نے ایران دیکھا وہ اُس کی محبت میں گرفتار ہوگیا، مجھے 80 کی دہائی میں دوبار ایران جانے کا موقع ملا اور مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ یہ تاریخ تہذیب اور کلچر کا بہترین مجموعہ ہے بلکہ میں تو یہاں تک کہہ سکتا تھا کہ اگر آپ نے ایران نہیں دیکھا تو آپ کے پیدا ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ شیخ سعدی کا وطن ہے مجھے یہاں شیخ سعدی کا یہ قول یاد آرہا ہے۔ “انسان کو زندگی میں بے تحاشا دولت اور بے تحاشہ علم حاصل کرنا چاہئے تاکہ عالم لوگ اُس کے پاس بیٹھ کر بےعزتی محسوس نہ کریں اور دولت مند اُسے حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں” وہ ایران جہاں چہل پہل رونقیں اور خوشیاں تھیں۔ وہاں آج خدشات اندیشے اور خطرات ہر طرف منڈلارہے ہیں۔ اسرائیل نے عرب ممالک کا جینا حرام کردیا ہے اور ایران اُس کے نشانے پر ہے ایسے میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مذاکرات نے خوش فہم اُمید کا ایک دیا جلادیا ہے۔ اسلام آباد میں جنگ کے مکمل خاتمے کے لئے کی جانے والی کوششیں کس حد تک بارآور ثابت ہوتی ہیں یہی وہ سوال ہے جو آج ہر ایک کی زبان پر ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر مہیب فوجی طاقت کے بل بوتے پر ہر ایک کو زیرکردینے کی خواہش رکھنے والا امریکہ اور مستقبل میں اقوامِ عالم کے درمیان اپنی ترقی و خوشحالی کا خواب دیکھنے اور دیرپا امن کی خواہش رکھنے والے ایران کے مابین ایسا معاہدہ ممکن ہے جو دونوں کے لئے قابل قبول اور آبرومندانہ ہو۔




































