
کیا یہ سب واقعی خودکشیاں ہیں… یا سچ چھپایا جا رہا ہے؟
1۔ نائلہ رند – سندھ یونیورسٹی
2۔ نمرتا چندانی – چانڈکا میڈیکل کالج
3۔ نوشین کاظمی – چانڈکا میڈیکل کالج
4۔ سنیھا کیسوانی – خیرپور میڈیکل کالج
اور اب…
5۔ فہمیدہ لغاری – میرپورخاص میڈیکل کالج
ایک کے بعد ایک جانیں چلی گئیں…
ہر بار “خودکشی” کہہ کر فائل بند کر دی گئی۔
کیا کبھی سچ سامنے آئے گا؟
کیا کسی ماں کو انصاف ملے گا؟
یا ہر بار یہی کہہ کر معاملہ دبا دیا جائے گا؟
خاموشی بھی جرم ہے۔
اگر ہم آج نہیں بولیں گے تو کل کوئی اور فہمیدہ، نمرتا یا نائلہ ہوگی۔
آواز اٹھائیں… کیونکہ انصاف مانگنا جرم نہیں ہے۔
☆☆ منقول




































