
کراچی: کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (CAP) کے دفتر میں اہم عوامی مسائل پر میڈیا اور پریس سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین کوکب اقبال نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں ایک خاموش مگر تاریخی انقلاب برپا ہو چکا ہے، جہاں عام صارف اب صرف بجلی خریدنے والا نہیں بلکہ خود بجلی پیدا کرنے والا بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں، لوڈشیڈنگ اور ناقص پالیسیوں نے عوام کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں سولر توانائی تیزی سے فروغ پا رہی ہے اور لاکھوں گھروں نے اپنی چھتوں کو پاور اسٹیشن میں تبدیل کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلیوں، کم خریداری نرخ اور زیادہ فروختی قیمتوں نے صارفین میں بے چینی پیدا کی، جس کے باعث لوگ آف گرڈ سسٹمز کی طرف جا رہے ہیں۔ جدید لیتھیم بیٹریز، انورٹرز اور انرجی اسٹوریج سسٹمز نے صارفین کو یہ سہولت فراہم کر دی ہے کہ وہ اپنی پیدا کی گئی بجلی کو محفوظ کر کے اپنی ضروریات خود پوری کر سکیں، اور یوں وہ مکمل خود کفالت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
کوکب اقبال نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ مارکیٹ میں مختلف قیمتوں اور معیار کے بے شمار سولر برانڈز دستیاب ہیں جس کی وجہ سے صارفین کے لیے درست اور معیاری انتخاب کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) کے ذریعے سولر سسٹمز کے لیے سخت اور واضح معیارات مقرر کیے جائیں تاکہ صارفین PSQCA کے لوگو پر اعتماد کر سکیں اور انہیں معیاری مصنوعات میسر آ سکیں۔
انہوں نے سولر کمپنیوں کو خبردار کیا کہ وہ صارفین کے ساتھ کسی قسم کی دھوکہ دہی یا غیر معیاری مصنوعات کی فراہمی سے باز رہیں کیونکہ ملک بھر میں کنزیومر کورٹس فعال ہیں اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پالیسی سازوں نے بروقت صارف دوست فیصلے نہ کیے اور توانائی کے شعبے میں شفاف اصلاحات نہ لائیں تو وہ وقت دور نہیں جب لاکھوں صارفین مکمل طور پر گرڈ سسٹم سے الگ ہو جائیں گے اور روایتی بجلی کا نظام عوام کے لیے بوجھ بن جائے گا۔
کوکب اقبال نے کہا کہ اصل مسئلہ بجلی کی پیداوار نہیں بلکہ اعتماد کا فقدان ہے۔ جب نظام صارف کو سہولت دینے کے بجائے اسے مشکلات میں ڈالے تو صارف خود اپنے لیے متبادل راستہ نکال لیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں توانائی کا مستقبل اب مرکزی نظام تک محدود نہیں رہا بلکہ ہر گھر، ہر چھت اور ہر شہری تک پھیل چکا ہے، اور اگر متعلقہ اداروں نے اس حقیقت کو نہ سمجھا تو کل صارف یہی کہے گا: “بجلی اب میں خود پیدا کرتا ہوں… آپ کی ضرورت صرف کبھی کبھار رہ گئی ہے۔”
جاری کردہ:
کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (CAP)
چیئرمین: کوکب اقبال
===============================
گلستان جوہر، شیشہ کیفے میں جھگڑا، فائرنگ سے نوجوان جاں بحق، ایک زخمی، مشتعل افراد کی ہنگامہ آرائی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) گلستان جوہر میں شیشہ کیفے میں جھگڑے کے دوران فائرنگ سے ایک نوجوان جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا ، واقعہ کے بعد مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی کی۔ تفصیلات کے مطابق گلستان جوہر تھانے کی حدود بلاک 3 کنٹینینٹل بیکری کے قریب شیشہ کیفے میں فائرنگ سے دو نوجوان زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایک زخمی دوران علاج چل بسا۔ پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت 22 سالہ نجیب علی ولد نیاز علی جبکہ زخمی کی عدنان ولد خالد حسین کے نام سے کی گئی۔واقعہ کے بعد مقتول کے رشتہ دار ، دوست ، احباب اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی۔ مشتعل افراد نے شیشہ کیفے میں ہنگامہ آرائی کی اور شیشہ کیفے میں رکھا سامان توڑ ڈال اور سڑک بلاک کرکے احتجاج کیا۔مقتول کا تعلق ایک سیاسی جماعت کے یوتھ ونگ سے بتایا جاتا ہے۔ موقع پر موجود مقتول کے دوستوں نے بتایا کہ مذکورہ شیشہ بار میں مبینہ طور کے ہر قسم کا نشہ بھی فراہم کیا جاتا تھا اسی لیے ہم لوگ دیکھنے آئے تھے کہ کہیں علاقے کے بچے بچیاں تو یہاں نہیں ہیں۔ پی ایس 100 مسلم لیگ ( ن ) کے عہدیدار توفیق احمد منگی نے بتایا کہ نجیب احمد میمن وہ بھی پی ایس کا عہدیدار اور آرگنائز کمیٹی کا ممبر تھا ۔ ہمارے دوست کے چھوٹے بھائی اکثر گھر والوں سے چھپ کر شیشہ کیفے پر آتے تھے ۔کچھ دوست کیفے والوں سے بات کرنے آئے تھے کہ آپ اس کیفے اور منشیات کو بند کریں جس پر پہلے سیکیورٹی گارڈ نے بدتمیزی کی۔ نجیب نے اسے روکنے کی کوشش کی تو شیشہ کیفے کے مالک اس کا بیٹا اور اس کے ساتھ تین چار لوگوں نے پستولوں کے چیمبر کھینچ لیے اور فائرنگ کر دی گولی نجیب کے سینے میں لگی جس سے اس کی موت واقع ہوئی جبکہ دوسرا ہمارا کارکن نوجوان نجیب کو اٹھا رہا تھا تو اسے دھکے دیے اور پیر پر ایک گولی مار دی ۔انہوں نے بتایا کہ شیشہ کیفے کا مالک سب کے سامنے کہہ رہا تھا کہ ہم پولیس کو 3 سے 4 لاکھ روپے بھتہ دیتے ہیں ، میں ایس ایس پی کا بیٹا ہوں ، ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔توفیق منگی نے بتایا کہ شیشے کیفے کے مالک اور اس کے ساتھیوں نے اس سے قبل بھی متعدد بار فائرنگ کر کے متعدد افراد کو زخمی اور چانڈیو برادری کے جوان کو قتل کر چکا ہے ۔ پولیس نے فائرنگ میں ملوث سیکیورٹی گارڈ اکرم ، کیفے کے منیجر سمیت تین افراد کو اسلحہ سمیت حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا ہے۔مقتول نجیب بھٹائی آباد کا رہائشی تھا جبکہ اس کا آبائی تعلق خیر پور میرس ( گمبٹ ) سے بتایا جاتا ہے۔مقتول رئیل اسٹیٹ کا کام کرتا تھا۔پولیس کے مطابق واقعہ شیشہ کیفے میں مقتول نجیب ، اس کے ساتھیوں اور انتظامیہ میں تلخ کلامی پر جھگڑا ہوا اسی دوران مقتول کے ساتھیوں نے ہنگامہ آرائی کی سکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے مقتول مارا گیا ۔گلستان جوہر پولیس نے واقعہ کا مقدمہ مقتول کے بھائی کی مدعیت میں زیر دفعہ 302/324/34 کے تحت درج کر لیا ہے۔پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے والا سیکیورٹی گارڈ اور کیفے مینجر کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور واقعہ کے حوالے سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
=======================
خاتون پولیس افسر کے بیٹے کی غنڈہ گردی،چیکنگ پر پولیس افسرکا گریبان پکڑ لیا
02 مئی ، 2026FacebookTwitterWhatsapp
کراچی (اسٹاف رپورٹر)ڈیفنس میں اسنیپ چیکنگ کےدوران گاڑی روکنے پر خاتون پولیس افسر کے بیٹے نے پولیس افسرکا گریبان پکڑ لیا، ڈیفنس میں جعلی نمبر پلیٹ لگی گاڑی روکنے پر ملزم کی بدکلامی، گارڈز کے ساتھ پولیس افسر پر حملہ اور گالیاں بکیں، ڈی آئی جی ساؤتھ کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی کلفٹن انکوائری افسر مقرر کردیا، گاڑی تحویل میں لے کر ملزم حبیب کو گرفتار کر لیا گیا، پولیس کا کہنا ہے کہ سرکاری کام میں مداخلت اور حملے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج، سخت کارروائی کی جائے گی، پولیس نے انتباہ کیا ہے کہ پرائیویٹ گاڑیوں پر فینسی نمبر پلیٹس اور ہوٹرز کا استعمال غیر قانونی ہے، عوام ایسی سرگرمیوں سے باز رہیں۔ تفصیلات کے مطابق ڈیفنس تھانے کی حدود شوکت خانم اسپتال لنک روڈ قیوم آباد فیز 7 ایکسٹیشن میں اسنیپ چیکنگ کےدوران گاڑی روکنے پر خاتون پولیس افسر کا بیٹا آپے سے باہر ہو گیا۔ خاتون پولیس افسر کے بیٹے نے اسنیپ چیکنگ پرمامور پولیس افسر کا گریبان پکڑ لیا اور ساتھ گالیاں بھی بکتا رہا۔ملزم نے مبینہ طور پر گاڑی پر پولیس لائٹس اور پولیس کی نمبر پلیٹ لگائی ہوئی تھی۔اسنیپ چیکنگ پرمامور پولیس نے اسے روکا تو خاتون پولیس افسرکے بیٹے نے بدکلامی کی۔ملزم نے سب انسپکٹر کا گریبان پکڑا اور مغلظات بھی بکیں۔خاتون افسر کے بیٹے کی گاڑی میں دو پرائیوٹ گارڈ بھی موجود تھے۔واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس میں خاتون افسر کے بیٹےکو پولیس افسر سےجھگڑا کرتے دیکھاجاسکتا ہے۔ ویڈیو میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے گاڑی پرجعلی نمبر پلیٹ لگانے کا ذکرکیا گیا جبکہ ایک وڈیو میں پولیس اہلکار بھی اسے یہ کہتے سنا گیا کہ میں بھی ایس ایس پی کا بیٹا ہوں۔ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا نے وائرل ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ساؤتھ کو واقعہ کی فوری اور جامع تحقیقات کی ہدایات جاری کی ہیں۔ دوسری جانب سائوتھ پولیس نے بتایا کہ پرائیویٹ گاڑی پر پولیس نمبر پلیٹ استعمال کی گئی۔متعلقہ گاڑی کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے جبکہ ڈرائیور حبیب ولد انور کو باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دوسری جانب ڈیفنس پولیس نے واقعہ کا مقدمہ الزام نمبر 34//2026 زیر دفعہ 353/186/ 170/171 سب انسپکٹر شاہ زان شکیل کی مدعیت میں درج کر لیا ہے۔ دریں اثناء ایس ایس پی نسیم آرا پہنور کے شوہر علی انور کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے سے بدتمیزی ہوئی، سب انسپکٹر نے اہلیہ کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگی، یکطرفہ کارروائی نہ کی جائے، جبکہ مدعی مقدمہ چوکی انچارج شاہزان شکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خاتون افسر دس اہلکاروں کے ہمراہ تھانے پہنچیں اور زیر حراست گن مین چھڑا کر لے گئیں۔ تفصیلات کے مطابق خاتون ایس ایس پی نسیم آرا پہنور کے شوہر علی انور نے ڈیفنس تھانے میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی سرکاری عہدے پر تعینات ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ میرے بیٹے سے بدتمیزی کی گئی واقعے کا پتہ چلنے پر میں اور اہلیہ (ایس ایس پی نسیم آرا پہنور) تھانے آئے اور ایس ایچ او سے ملاقات کی۔ اس دوران سب انسپکٹر نے میری اہلیہ کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگی تھی جسکے بعد ہم گھر چلے گئے جبکہ ایس ایس پی ساؤتھ کے کہنے پر گاڑی بھی پولیس کے حوالے کر دی تاہم پولیس نے مقدمہ درج کر کے بیٹے کو گرفتار کرلیا ۔ہم نے تو پولیس کی بات مانی لیکن انہوں نے کہا کہ صرف ایک جانب کی بات نہ سنی جائے واقعے میں غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا جائے۔ انھوں نے بتایا کہ میرے بیٹا وکیل ہے جبکہ اس کے ہمراہ موجود گارڈز آر آر ایف کے ہیں ، مدعی مقدمہ ڈیفنس تھانے کی قیوم آباد پولیس چوکی انچارج شاہزان شکیل نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ نوجوان کی گاڑی کا ماڈل 2023 یا 2024 کا ہے جس پر پولیس کا جاری کیے جانے والا نمبر سال 99 یا 2000 کا لگا ہوا تھا ۔ گاڑی روکنے کے بعد انھوں نے ڈرائیور سے نام پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ وہ ایس ایس پی نسیم آرا پہنور کا بیٹا ہوں لیکن اپنا نام نہیں بتایا اور اپنے گارڈز سے کہا کہ اسے ہٹاؤ ، میں نے ڈرائیور سے کہا کہ پرائیویٹ گاڑی پر جعلی نمبر پلیٹ لگی ہے جبکہ سرکاری گن مین کی بھی اجازت نہیں ہے ، میں گرفتار کرنے کیلئے گاڑی کا دروازہ کھل کر ڈرائیور کا ہاتھ پکڑا تو اس نے میرا گریبان پکڑ لیا۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ خاتون ایس ایس پی اپنے ہمراہ 10 جوانوں کے ہمراہ آکر تھانے کا محاصرہ کر کے تھانے سے زیر حراست گن مین کو چھڑا کر لے گئیں ۔
=====================
اشتہارات کی بندش سے میڈیا ملازمین مالی بحران کا شکار ہیں، ایپنک
02 مئی ، 2026FacebookTwitterWhatsapp
کراچی (اسٹاف رپورٹر) آل پاکستان نیوز پیپر ایمپلائز کنفیڈریشن (ایپنک)اور کے یو جے کا مشترکہ اجلاس کراچی میں ہوا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ اشتہارات کی بندش سے ہزاروں میڈیا ملازمین مالی بحران کا شکار ہیں،حکومت میڈیا ہائوسز میں کام کرنے والے ملازمین کو تحفظ فراہم کرے، حکومت ڈان اخبار کے اشتہارات کی بندش فوری ختم کرے، میڈیا ہائوسز میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہیں وقت پر ادا کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں۔ آل پاکستان نیوز پیپر ایمپلائز کنفیڈریشن (ایپنک) کے چیئرمین شکیل یامین کانگا کی صدارت میں اجلاس میں ملازمین اور میڈیا ورکرز کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں سیکریٹری جنرل قلب علی کو بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے اشتہارات فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر طاہر حسن خان نے میڈیا ورکرز کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے مشترکہ جدوجہد پر زور دیا۔ آخر میں اشتہارات فوری جاری کرنے کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔اجلاس کے شرکاء میں وائس چیئرمین اپنیک، دارا ظفر، اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل رانا یوسف، عبیداللہ، فنانس سیکرٹری محمد عرفان علی، کے یو جے کے جنرل سیکرٹری سردار لیاقت کشمیری،عمران ایوب، سعید محی الدین، سلیم اللہ صدیقی، اسامہ عباسی، امتیاز خان فاران، نعت اللہ بخاری اور دیگر شامل تھے۔
====================
بلوچستان کے سابق چیف سیکریٹریز کی تاحیات مراعات کالعدم قرار
ارفع فیروز ذکی
وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان کے سابق چیف سیکریٹریز اور ان کی بیواؤں کو دی جانے والی تاحیات اضافی مراعات کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت نے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی منظوری سے جاری مراعات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے چیف سیکریٹری بلوچستان کی اپیل مسترد کر دی۔
جسٹس عامر فاروق نے 4 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے خلاف کیا گیا ہر حکومتی اقدام بلاجواز ہوتا ہے۔
عدالت کے مطابق ریٹائرڈ افسران کو صرف وہی پینشن اور مراعات دی جا سکتی ہیں جو قانون میں درج ہوں جبکہ اضافی تاحیات مراعات کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔
فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ تنخواہوں، پینشن اور مراعات سے متعلق قواعد بنانے کا اختیار صرف فنانس ڈیپارٹمنٹ کو حاصل ہے اور وزیرِ خزانہ یا چیف سیکریٹری کو اس حوالے سے کوئی اختیار نہیں۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ موجودہ کیس میں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے اضافی مراعات کی منظوری دینا خلافِ قانون تھا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بلوچستان ہائی کورٹ بھی ان مراعات کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے جس کے خلاف صوبائی حکومت نے اپیل دائر کی تھی جو اب مسترد ہو گئی ہے۔



































