روس اور چین کی دوستی امریکہ کو پسپائی پر مجبور کرے گی ؟

ون پوائنٹ
نوید نقوی
گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کا پہلے سے طے شدہ دورہ کر چکے ہیں اور اب روسی صدر ولادیمیر پوٹن چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ روسی صدر پوٹن کا یہ چین کا پچیسواں دورہ ہے۔ زیادہ تر دورے صدر شی کے دور حکومت میں ہوئے ہیں یاد رہے کہ دونوں شخصیات چین اور روس میں مجموعی طور پر 43 سال سے اقتدار میں ہیں اور اگلے پانچ سال تک کسی کا بھی اقتدار چھوڑنے کا ارادہ نہیں ہے۔ دنیا جس تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اقوام و ممالک کے درمیان نت نئے اتحاد اور دفاعی معاہدے ہو رہے ہیں۔ ایران اور امریکا اسرائیل جنگ نے بہت سے ممالک کو نئے سیکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کروایا ہے۔ اب دنیا کا ایک ہی اصول ہے کہ آپ اگر جارحیت سے بچنا چاہتے ہیں تو طاقت ور بنیں۔ گزشتہ سال پہلگام میں مودی حکومت نے فالس فلیگ آپریشن کیا اور الزام پاکستان پر لگا کر سویلین آبادیوں پر بلا اشتعال و بلا جواز حملے کیے ، جواب میں پاکستانی مسلح افواج نے معرکہ حق میں تاریخی شکست دے کر مودی کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا کہ پاکستان کمزور ریاست نہیں بلکہ جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی و مہارت سے آراستہ طاقتور افواج رکھنے والا طاقتور ملک ہے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ
دنیا کی سیاست ہمیشہ طاقت، مفادات اور اتحادوں کے گرد گھومتی رہی ہے۔ آج کے دور میں اگر کسی اتحاد نے عالمی طاقتوں کو سب سے زیادہ متوجہ کیا ہے تو وہ روس اور چین کی بڑھتی ہوئی قربت ہے۔ یہ دونوں ممالک نہ صرف اقتصادی اور عسکری میدان میں ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں، بلکہ عالمی سطح پر امریکی اثر و رسوخ کو چیلنج کرنے کے لیے بھی مشترکہ حکمت عملی اپناتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے سیاسی تجزیہ نگار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا روس اور چین کی دوستی امریکہ کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دے گی؟
روس ایک بڑی عسکری طاقت ہے، روس دنیا کا رقبے کے لحاظ سے بڑا ملک بھی ہے جس کا کل رقبہ ایک کروڑ 71 لاکھ مربع کلومیٹر ہے۔ جبکہ چین دنیا کی ابھرتی ہوئی اقتصادی قوت بن چکا ہے۔ دنیا کی دوسری بڑی آبادی چین میں رہتی ہے۔ چین کی کل آبادی قریباً ایک ارب 40 کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ چین بھی رقبے کے لحاظ سے ایک بڑا ملک ہے جس کا کل رقبہ قریباً 96 لاکھ مربع کلومیٹر ہے۔ دونوں کی مشترکہ بین الاقوامی سرحد 4300 کلومیٹر طویل ہے۔ دونوں ممالک مغربی پابندیوں اور امریکی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ یوکرین جنگ کے بعد روس پر لگنے والی پابندیوں نے ماسکو کو بیجنگ کے مزید قریب کر دیا ہے۔ دوسری جانب چین بھی تائیوان، تجارتی جنگ اور بحرالکاہل میں امریکی پالیسیوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ یہی مشترکہ خدشات دونوں ممالک کو ایک مضبوط اتحاد کی طرف لے جا رہے ہیں۔ دونوں ممالک کا مشترکہ دوست ایران اس وقت امریکی حملوں کی زد میں ہے اور دونوں ایران کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
چین اور روس کے درمیان توانائی، تجارت، دفاع اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ روس، چین کو سستی توانائی فراہم کر رہا ہے جبکہ چین روسی معیشت کو سہارا دینے کے لیے بڑی منڈی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ دونوں ممالک مشترکہ فوجی مشقیں بھی کر رہے ہیں جس سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
امریکہ کئی دہائیوں سے دنیا کی واحد سپر پاور سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن اب حالات بدلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ افغانستان سے امریکی انخلا، مشرق وسطیٰ میں کم ہوتی گرفت اور یوکرین جنگ کے باعث بڑھتے اخراجات نے واشنگٹن کو نئی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور ایران کی ثابت قدمی نے امریکہ کو رسوا کر دیا ہے۔ ایسے میں روس اور چین کا اتحاد امریکہ کے لیے ایک بڑا سفارتی اور اسٹریٹجک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ چین اور روس عوامی سطح پر روابط تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جنھیں جزوی طور پر مغربی پابندیوں اور یورپی ویزا پالیسیوں کی سختی نے فروغ دیا ہے، جس کے باعث روسی چین کی طرف جا رہے ہیں۔
روسیوں کے لیے چین کا سفر کرنا کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ باہمی ویزا فری نظام کے تحت، کوئی بھی ماسکو سے چین کے بڑے شہروں کے لیے روانہ ہونے والی پرواز پکڑ سکتا ہے۔ روسی اب تیزی سے چینی موبائل فون استعمال کر رہے ہیں اور چینی گاڑیاں چلا رہے ہیں، خاص طور پر ماسکو پر مغربی پابندیوں کے بعد یہ سب تیزی سے ہوا ہے۔
تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امریکہ مکمل طور پر پسپائی اختیار کر لے گا۔ امریکہ اب بھی دنیا کی سب سے بڑی معیشت، جدید ٹیکنالوجی اور طاقتور فوج رکھتا ہے۔ اس کے پاس نیٹو جیسے مضبوط اتحادی بھی موجود ہیں۔ دوسری طرف روس اور چین کے درمیان بھی کئی معاملات پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ وسط ایشیا و مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ، اقتصادی مفادات اور عالمی قیادت کے سوالات مستقبل میں اس اتحاد کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا اب یک قطبی نظام سے نکل کر کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ روس اور چین کی دوستی نے عالمی طاقت کے توازن کو ضرور متاثر کیا ہے اور امریکہ کو اپنی پالیسیاں بدلنے پر مجبور کیا ہے، لیکن عالمی سیاست میں مکمل فتح یا مکمل شکست کا تصور کم ہی حقیقت بنتا ہے۔ آنے والے برسوں میں یہی طاقت کا توازن دنیا کی سیاست، معیشت اور سلامتی کے فیصلوں پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔
آج کی دنیا میں طاقت صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ معیشت، سفارت کاری اور عوامی اعتماد سے بھی ناپی جاتی ہے۔ جو ملک ان تمام میدانوں میں بہتر حکمت عملی اپنائے گا، وہی عالمی قیادت کا حقیقی حق دار بن سکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
4 + 5 =