پاکستان میں 20 لاکھ خواتین فسٹیولا جیسے موذی مرض کا شکار، لاڑکانہ میں عورت کی صحت بنیادی حق کے موضوع پر زچگی صحت و آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا


لاڑکانہ ( رپورٹ عاشق پٹھان)
پاکستان میں 20 لاکھ خواتین فسٹیولا جیسے موذی مرض کا شکار، لاڑکانہ میں عورت کی صحت بنیادی حق کے موضوع پر زچگی صحت و آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ میں شیخ زید وومن ہسپتال کے زیر اہتمام زچگی کے دوران لاحق ہونے والی خطرناک بیماری فسٹیولا کے خاتمے اور خواتین کی صحت سے متعلق آگاہی کیلئے ایک اہم سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں ماہر ڈاکٹروں نیشنل فسٹیولا پروگرام کے مینیجر ڈاکٹر سجاد احمد صدیقی، ڈاکٹر فوزیہ شیخ، ڈاکٹر یشریٰ راہوجو سمیت دیگر طبی عملے، سماجی شخصیات اور خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عورت کی صحت اس کا بنیادی حق ہے اور محفوظ زچگی ہر خاتون کو فراہم کرنا ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے، فسٹیولا ایک قابل علاج مگر انتہائی تکلیف دہ بیماری ہے جو عموما دوران زچگی بروقت طبی سہولیات نہ ملنے کے باعث پیدا ہوتی ہے , مقررین کے مطابق پاکستان میں اندازا 20 لاکھ خواتین مختلف اقسام کے فسٹیولا سے متاثر ہیں جبکہ ہر سال تقریبا 4 سے 5 ہزار نئے کیسز سامنے آتے ہیں عالمی ادارہ صحت اور یو این ایف پی اے کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں زچگی کے دوران اموات اور پیچیدگیوں کی شرح اب بھی تشویشناک ہے جبکہ دیہی علاقوں میں طبی سہولیات کی کمی اس مرض کی بڑی وجہ بن رہی ہے, سیمینار میں بتایا گیا کہ پاکستان میں صرف 66 فیصد زچگیاں صحت مراکز میں ہوتی ہیں جبکہ 69 فیصد خواتین کو تربیت یافتہ طبی عملے کی سہولت میسر آتی ہے، جس کے باعث دیہی اور پسماندہ علاقوں میں خواتین کو شدید خطرات لاحق رہتے ہیں
ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ بروقت آپریشن، تربیت یافتہ دائیوں کی فراہمی، دیہی علاقوں میں طبی سہولیات کی بہتری اور خواتین میں شعور اجاگر کرکے اس بیماری پر قابو پایا جاسکتا ہے، مقررین نے حکومت، فلاحی اداروں اور طبی شعبے سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ ماں اور بچے کی صحت کو قومی ترجیح بنائیں تاکہ فسٹیولا جیسے موذی مرض کا مکمل خاتمہ ممکن ہوسکے

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
64 − = 62