
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف سندھ (سجاس) کے مشترکہ تعاون سے پاکستان کے ممتاز صحافی، مبصر، مصنف اور سابق فرسٹ کلاس کرکٹرقمر احمد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے تقریب کا انعقاد
مقررین نے حکومت پاکستان سے 453 ٹیسٹ میچز 742 ون ڈے انٹرنیشنل اور 9 آئی سی سی ورلڈ کپ کور کرنے کا منفرد اعزاز رکھنے والے سینئر کرکٹ جرنلسٹ، مبصر، مصنف اور سابق فرسٹ کلاس کرکٹر قمر احمد کو بعد از مرگ صدارتی ایوارڈ سے نوازنے کا مطالبہ کردیا۔
قمر احمد کے منفرد ریکارڈ اور کرکٹ سے ان کی لازوال محبت اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ انہیں ان کی زندگی میں ہی ملک کے اعلی ترین سول اعزاز سے نوازا جانا چاہیے تھا، مقررین

کراچی( ) آرٹس کونسل آف پاکستان اور اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف سندھ (سجاس) کے مشترکہ تعاون سے پاکستان کے معروف سینئر کرکٹ جرنلسٹ، مبصر، مصنف اور سابق فرسٹ کلاس کرکٹر قمر احمد کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق ٹیسٹ کرکٹرز صادق محمد، جلال الدین، معین خان، شعیب محمد، آرٹس کونسل آف پاکستان کے صدر احمد شاہ، پاکستان اسپورٹس رائٹرز فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل اصغر عظیم، سجاس کے صدر محمود ریاض، سینئر صحافی مظہر عباس، اویس توحید، مرزا اقبال بیگ، وحید خان، رشاد محمود، شاہد ہاشمی، رشید شکور، آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اسپیشل ایونٹ کمیٹی کےچیئرمین اقبال لطیف اور دیگر صحافیوں سمیت شعبہ کھیل سے وابستہ شخصیات نے قمر احمد کو خراج عقیدت پیش کیا، تقریب کے دوران سابق کپتان مشتاق محمد، سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم، سابق کپتان راشد لطیف، ویسٹ انڈین سابق فاسٹ بولر مائیکل ہولڈنگ نے ویڈیو پیغامات کے ذریعے قمر احمد کی زندگی پر روشنی ڈالی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ قمر احمد کرکٹ کے انسائیکلوپیڈیا کے ساتھ دنیا بھر میں کرکٹ کے سفیر کی حیثیت رکھتے تھے، قمر احمد واحد پاکستانی جرنلسٹ تھے جنہیں کرکٹ کی دنیا میں ایک اتھارٹی تسلیم کیا جاتا تھا، مرحوم قمر احمد کو کرکٹ سے اس حد تک محبت تھی کہ وہ کرکٹ کو اپنی دلہن مانتے تھے یہ ہی وجہ ہے کہ انہوں نے شادی نہیں کی اور اپنی زندگی کرکٹ کے لئے وقف کردی، مرحوم اپنے مہمانوں اور دوستوں کو اپنی ہر تصویر، سووینئر اور یادگار کی پوری تاریخ نہایت دلنشیں انداز میں بیان کرتے تھے، قمر احمد دنیا کے جس شہر میں گئے وہاں کی تاریخ اور کلچر کے گواہ بن گئے، قمر احمد نے اپنی زندگی کا زیادہ تروقت برطانیہ میں گزارا جس کے واضح اثرات ان کی شخصیت اور پروفیشنل کیرئیر نظر آتے تھے قمر احمد کا بحیثیت کرکٹ جرنلسٹ پوری دنیا میں احترام کیا جاتا تھا انہون نے دنیا کے معروف اخبارات اور جرائد کے لئے کام کیا لندن میں قمر احمد کی رہائش گاہ نامور پاکستانی کرکٹرز، صحافیوں اور ان کے دوستوں کے لئے دوسرے گھر کا درجہ رکھتی تھی، ان کے گھر کے دروازے پاکستانی دوستوں کے لئے ہمیشہ کھلے رہتے تھے، حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے قمر احمد لیفٹ آرم اسپنر تھے انہیں فرسٹ کلاس کرکٹ میں محمد برادران حنیف محمد، مشتاق محمداورصادق محمد کو آؤٹ کرنے کا اعزاز بھی حاصل تھا، اسپورٹس جرنلسٹس ہوں یا کرکٹرز قمر احمد نے ان کے ساتھ ہمیشہ ایک شفیق استاد اور بڑے بھائیوں والا سلوک کیا کردار سازی اور ان کی رہنمائی کرنے کے عمل نے انہیں دور حاضر کے تمام صحافیوں میں ایک منفرد مقام پر فائز کردیا تھا، قمر احمد کاکرکٹ کے ساتھ شاعری، موسیقی سمیت دیگر موضوعات پر بھی مطالعہ قابل رشک تھا، قمر احمد جیسی عظیم شخصیات معاشرے کی جان ہوتے ہیں اور ان کے رخصت ہونے سے ایک خلا پیدا ہوجاتا ہے جسے پر کرنا مشکل ہوتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ایک تہذیب بھی ان کے ساتھ رخصت ہوگئی، اس موقع پر مقررین نے حیرت اور دکھ کا اظہار کرتے حکومت پاکستان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قمر احمد ملک کے اعلی ترین سول اعزاز کے حقدار تھے لیکن ان کی زندگی میں انہیں یہ اعزاز نہ مل سکا تاہم حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ دنیا بھر میں کرکٹ کے سفیر کی حیثیت رکھنے والے 453 ٹیسٹ میچز، 742 ونڈے انٹرنیشنل سمیت 9 آئی سی سی ورلڈ کپ کی کوریج کا منفرد اعزاز رکھنے والے قمر احمد کو اعلی ترین سول ایوارڈ سے نواز جائے۔ تقریب کے اختتام پر قمر احمد مرحوم کی روح کو ایصال ثواب پہنچانے کے لئے خصوصی دعا بھی کی گئی۔




































