نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کے پہلے سربراہ جنرل عامر رضا تعینات

ون پوائنٹ
نوید نقوی
یہ بات طے ہے کہ دور جدید میں دفاعی چیلنجوں میں اضافہ ہو چکا ہے اور وہ فوج کامیاب رہتی ہے، جو خود کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ رکھتی ہے۔
ہر خودمختار ریاست اپنی سلامتی، دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک منظم دفاعی نظام قائم کرتی ہے۔ جدید دور میں روایتی افواج کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک سطح پر منصوبہ بندی، کمان اور رابطہ بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اسی تناظر میں “نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ” اور اس کے کمانڈر کی ذمہ داری کو سمجھنا ضروری ہے۔ عام طور پر “نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ” سے مراد وہ اعلیٰ سطحی عسکری نظام ہوتا ہے جو ملک کی اسٹریٹجک صلاحیتوں، طویل المدتی دفاعی منصوبہ بندی، کمان اور ہم آہنگی سے متعلق امور میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اس نظام کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق اہم وسائل، پالیسیاں اور صلاحیتیں مربوط انداز میں کام کریں۔ گذشتہ سال نومبر میں 27ویں آئینی ترمیم کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے بجائے کمانڈر آف نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا ایک نیا عہدہ متعارف کروایا گیا تھا۔ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی کمان کے نظام میں بڑی تبدیلیاں متعارف کرائی گئیں اور ملک کے جوہری و تزویراتی اثاثوں کی نگرانی کی ذمہ داری، جو پہلے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے پاس تھی، اس نئے عہدے کو منتقل کر دی گئی تھی۔
اسی قانون سازی کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا تھا۔
اس عہدے کا بنیادی تعلق پاکستان کے جوہری اور تزویراتی اثاثوں کی نگرانی اور کمان سے ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم کے مطابق اس عہدے پر تقرری وزیراعظم کرتے ہیں، تاہم اس کے لیے چیف آف آرمی سٹاف، جو بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہیں، کی سفارش لازمی ہو گی۔ قانون کے مطابق اس عہدے پر تقرری پاکستانی فوج کے حاضر سروس جنرلز میں سے کی جاتی ہے۔
گزشتہ روز وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے بری فوج کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر انھیں کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ برس 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد آرمی ایکٹ کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے اس کی جگہ کمانڈر آف نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا عہدہ متعارف کروایا گیا تھا۔ جنرل عامر رضا آرمرڈ کور سے تعلق رکھتے ہیں ، وہ ایک باصلاحیت آفیسر ہیں، وہ اپنی بہادری اور قابلیت کے حوالے سے مسلح افواج میں ایک خاص پہچان رکھتے ہیں۔ انہوں نے افواج پاکستان میں کمانڈ، سٹاف اور ادارہ جاتی سطح کے متعدد اہم عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں۔ جنرل عامر رضا کی فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی سے قبل جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس کے علاؤہ وہ ڈائریکٹر جنرل ویپنز اینڈ ایکوپمنٹ اور چیئرمین ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (ایچ آئی ٹی) کے عہدوں پر بھی تعینات رہے ہیں اور جی او سی انفنٹری ڈویژن کھاریاں کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ ہیں جبکہ برطانیہ سے ماسٹرز بھی کر چکے ہیں۔ جنرل عامر رضا نے اپریل 2020 میں ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کی کمان سنبھالی، جبکہ اکتوبر 2022 میں انھیں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔
جنرل رضا کو اُن کے ملٹری کریئر کے دوران ہلالِ امتیاز (ملٹری) اور ستارۂ بسالت سے بھی نوازا جا چکا ہے۔
یاد رہے کہ جدید جنگی ماحول میں دفاع صرف سرحدوں کے تحفظ تک محدود نہیں رہا بلکہ ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی، انٹیلی جنس، مواصلاتی نظام اور مؤثر فیصلہ سازی بھی قومی سلامتی کے بنیادی ستون بن چکے ہیں۔ اسی لیے اسٹریٹجک سطح پر مضبوط قیادت اور مربوط کمانڈ سسٹم کسی بھی ملک کے دفاعی ڈھانچے کو مضبوط بناتے ہیں۔ پاکستان جیسے خطے میں، جہاں علاقائی سلامتی کے چیلنجز موجود ہیں، بھارت جیسا مکار دشمن مکمل جنگی تیاریوں میں مصروف ہے، پیشہ ورانہ عسکری اداروں، مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول اور ذمہ دارانہ قومی پالیسی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات میں نظم، احتیاط اور ادارہ جاتی صلاحیت ہی دیرپا استحکام کی بنیاد بنتی ہے۔ ملکی سلامتی سے متعلق اسٹریٹجک امور میں مؤثر ہم آہنگی، تیاری اور پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ مضبوط ادارے، تربیت یافتہ افرادی قوت اور دانشمندانہ حکمت عملی ہی کسی بھی ملک کے دفاع کو مستحکم اور محفوظ بناتی ہے اور الحمدللہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
69 − 62 =