تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی سب سے بڑا چیلنج

ون پوائنٹ
نوید نقوی
پاکستان دنیا کے گنجان آباد ترین ممالک میں سے ایک ہے اور یہ بات فکر کی ہے، ملکی وسائل کے مقابلے میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور یہی بات حکومت کو بھی پریشان کیے ہوئے ہے۔
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد بلایا جائے، بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں وزیر اعظم کی ہدایت، وزیر اعظم نے مزید کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیئے۔ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے۔ آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کی بہتری سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ حکومت پاکستان اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور اس حوالے سے جلد نتائج آنے کی امید ہے۔ یاد رہے کہ کسی بھی ملک کی آبادی اس کی طاقت بھی ہوتی ہے اور اگر اس کی درست منصوبہ بندی نہ کی جائے تو یہی آبادی ایک بڑا چیلنج بھی بن جاتی ہے۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کا کل رقبہ 881,913 مربع کلومیٹر ہے جو کہ دنیا میں 33 ویں نمبر پر ہے جبکہ آبادی قریباً 25 کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا بھر میں پانچویں نمبر پر ہے۔ اگرچہ نوجوان آبادی کسی بھی ملک کے لیے قیمتی سرمایہ ہوتی ہے، لیکن جب وسائل، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کی رفتار آبادی کے مقابلے میں کم ہو جائے تو مسائل جنم لینا شروع ہو جاتے ہیں۔
آج پاکستان کو مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت، پانی کی قلت، رہائش اور ماحولیاتی آلودگی جیسے کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان میں سے بہت سے مسائل کی شدت تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ ہر سال لاکھوں نئے افراد روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں، مگر معیشت اتنی تیزی سے روزگار کے مواقع پیدا نہیں کر پاتی۔ نتیجتاً بے روزگاری، غربت اور سماجی بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے۔
تعلیمی شعبہ بھی اس دباؤ سے محفوظ نہیں۔ سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد، اساتذہ اور بنیادی سہولیات کی کمی، معیاری تعلیم کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ اسی طرح اسپتالوں میں مریضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ، طبی سہولیات کی محدود دستیابی اور ادویات کی قلت بھی آبادی کے دباؤ کو واضح کرتی ہے۔
قدرتی وسائل بھی محدود ہیں۔ صاف پانی کی دستیابی، زرعی زمین، جنگلات اور توانائی کے وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ مستقبل کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ اگر آبادی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور وسائل کے مؤثر استعمال پر توجہ نہ دی گئی تو آنے والی نسلوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔تاہم بڑھتی ہوئی آبادی کو صرف مسئلہ سمجھنا بھی درست نہیں۔ اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، فنی تربیت، صحت کی بہتر سہولیات اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی آبادی پاکستان کی سب سے بڑی معاشی طاقت بن سکتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے اپنی نوجوان افرادی قوت کو ترقی کا ذریعہ بنایا اور نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ حکومت، تعلیمی ادارے، مذہبی و سماجی رہنما اور ذرائع ابلاغ مل کر عوام میں شعور بیدار کریں۔ صحت، تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے، روزگار کے مواقع بڑھانے اور مؤثر قومی منصوبہ بندی پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ آبادی اور وسائل کے درمیان بہتر توازن قائم کیا جا سکے۔
پاکستان کا مستقبل ہماری اجتماعی حکمت عملی پر منحصر ہے۔ اگر ہم آج درست فیصلے کریں، انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کریں اور قومی منصوبہ بندی کو مضبوط بنائیں تو بڑھتی ہوئی آبادی ایک بوجھ نہیں بلکہ ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ بصورت دیگر یہی مسئلہ آنے والے برسوں میں معاشی اور سماجی مشکلات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ ہم سب مل کر پاکستان کو ایک مضبوط فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ مستحکم معیشت کا حامل ترقی یافتہ ملک بنا سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں خلوص نیت کے ساتھ آگے بڑھ کر اپنی بڑھتی آبادی کو منظم منصوبہ بندی سے کنٹرول میں لانا ہوگا

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
+ 63 = 67