عدالت سے خبر

سندھ ہائیکورٹ نے کے ڈی اے کی جانب سے رفاعی مقاصد کے لئے دیئے گئے پلاٹ پر کمرشل سرگرمیوں کیخلاف درخواست پر ایس بی سی اے تک جواب طلب کرلیا۔ ہائیکورٹ میں کے ڈی اے کی جانب سے رفاعی مقاصد کے لئے دیئے گئے پلاٹ پر کمرشل سرگرمیوں کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ کے ڈی اے نے 1981 میں پالپا کو کلفٹن میں رفاعی مقاصد کے لئے اراضی دی تھی۔ پالپا نے رفاحی پلاٹ کو نجی ادارے کو کرائے پر دیدی ہے۔ رفاعی اراضی پر کمرشل سرگرمیاں نہیں کی جاسکتی۔ کمرشل سرگرمیوں کی وجہ سے علاقہ مکینوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ایس بی سی اے کو کمرشل سرگرمیاں روکنے اور عمارت کو سیل کرنے کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے ایس بی سی اے اور پالپا سے 3 اگست تک جواب طلب کرلیا۔

=========

سندھ ہائیکورٹ نے کے ڈی اے کی جانب سے رفاعی مقاصد کے لئے دیئے گئے پلاٹ پر کمرشل سرگرمیوں کیخلاف درخواست پر ایس بی سی اے تک جواب طلب کرلیا۔ ہائیکورٹ میں کے ڈی اے کی جانب سے رفاعی مقاصد کے لئے دیئے گئے پلاٹ پر کمرشل سرگرمیوں کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ کے ڈی اے نے 1981 میں پالپا کو کلفٹن میں رفاعی مقاصد کے لئے اراضی دی تھی۔ پالپا نے رفاحی پلاٹ کو نجی ادارے کو کرائے پر دیدی ہے۔ رفاعی اراضی پر کمرشل سرگرمیاں نہیں کی جاسکتی۔ کمرشل سرگرمیوں کی وجہ سے علاقہ مکینوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ایس بی سی اے کو کمرشل سرگرمیاں روکنے اور عمارت کو سیل کرنے کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے ایس بی سی اے اور پالپا سے 3 اگست تک جواب طلب کرلیا۔

========

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے لواحقین کی پینشن واجبات کی عدم ادائیگی کیخلاف درخواست پر ادائیگی کا حکم دیدیا۔ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے لواحقین کی پینشن واجبات کی عدم ادائیگی کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ وکیل نے موقف دیا کہ درخواستگزار ثنا عزیز کے والد عزیز احمد 2012 میں ڈائریکٹر آئی ٹی کی پوسٹ پر ریٹائر ہوئے تھے۔ تمام قانونی کارروائی کے باوجود ریٹائرڈ افسر کو پینشن اور واجبات ادا نہیں کئے گئے۔ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔ محکمے کے وکیل نے موقف اپنایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے۔ ادائیگی میں تاخیر بدنیتی نہیں بلکہ درپیش مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔ واجبات کی ادائیگی کے لئے سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کئے گئے۔ درخواستگزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حقدار ہیں۔ پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔ واجبات کی بروقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمہ داری ہے۔ ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں۔ سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں۔ کے ڈی اے درخواستگزار کو واجبات کی مد میں ایک کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے۔ عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کو پیش کی جائے۔ عدالت نے کے ڈی اے کو واجبات کی ادائیگی کا حکم دیدیا۔

====

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے افغان قرار دے کر شہری کا پیٹرول پمپ اور فارم ہاؤس سیل کرنے کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر ڈپٹی کمشنر ملیر اور جنوبی کو نوٹس جاری کردیئے۔ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو افغان قرار دے کر شہری احمد شاہ کا پیٹرول پمپ اور فارم ہاؤس سیل کرنے کے کیخلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ بیرسٹر علی طاہر نے موقف دیا کہ درخواستگزار کو افغانی قرار دے کر پیٹرول پمپ سیل کیا گیا۔ درخواستگزار کا ملیر میں واقع فارم ہاؤس بھی سیل کر دیا گیا ہے۔ عدالت پیٹرول پمپ اور کیٹل فارم ڈی سیل کرنے کا حکم دے چکی ہے۔ کیٹل فارم سیل ہونے کے باعث وہاں موجود جانور برے حال میں ہیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل کی جانب سے جواب کے لئے مہلت طلب کرلی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کتنی مہلت دیں، جب یہ جانور مر جائیں پھر جواب دینگے؟ سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ معاملے پر کام ہو رہا ہے کچھ وقت درکار ہے۔ عدالت نے ڈپٹی کمشنر ملیر اور جنوبی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے 3 اگست تک جواب طلب کرلیا۔

========

انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت میں اداکار منیب بٹ کیخلاف اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں وکیل صفائی نے ضمانت واپس لینے کے لیئے درخواست دائر کردی۔ کراچی سینٹرل جیل میں انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں منتظم عدلت کے روبرو اداکار منیب بٹ کیخلاف اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ اداکار منیب بٹ کے وکیل نے ضمانت واپس لینے کی درخواست دائر کردی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ پولیس نے چالان میں اداکار منیب بٹ کو بیگناہ قرار دیا ہے۔ لہذا ضمانت واپس دی جائے۔ پولیس کے مطابق ملزمان پر مدعی کو اغوا کرکے 24 لاکھ 94 ہزار کی کرپٹو کرنسی لوٹنے کا الزام ہے۔ منیب بٹ پر ملزمان کو مری میں رہائش دلوانے کا الزام تھا۔ مقدمے میں پولیس اہلکار غالب کو مفرور ہے۔ مقدمے میں ملوث ملزمام شاہد ستار، محمد سلیم، علیم اور وزیرمحمد شامل ہیں۔ ملزمان نے 23 اپریل کو شاہراع فیصل سے محمد متعال کو اغوا کیا تھا۔ ملزمان نے کرنسی اور دیگر سامان لوٹنے کے بعد مدعی کورنگی انڈسٹریل میں چھوڑ دیا تھا۔

========

ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قاتلوں کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا، جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ نے ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیشی افسر کو زیر حراست ملزمان کے قتل کی تفتیشی مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت کے روبرو ڈاکٹر آکاش کیس میں زیر حراست ملزمان کی اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاکت کے مقدمے کی رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ ایس آئی یو کے تفتیشی افسر نے پیش کی۔ تفتیشی افسر کے مطابق ایس آئی یو نے ڈاکٹر آکاش کے قاتلوں کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کیخلاف درج کیا گیا ہے۔ اسلم پہنور ڈکیت گروپ کاسرغنہ ہے۔ ملزمان پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس سے 3 زیر حراست ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹبل زخمی ہوا۔ زیر حراست تینوں قاتل اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔ ہیڈ کانسٹبل اسپتال میں زیرعلاج ہے۔ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کردیا گیا تھا۔ پولیس نے قتل کیس میں 3 ملزم گرفتار کئے دوران حراست مارے گئے۔ عدالت نے مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
− 4 = 3