غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے قرضوں کے بوجھ سے باہر نکلا جائے

غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے قرضوں کے بوجھ سے باہر نکلا جائے ،سیلانی
ملک میں بچت کا اتنا بڑا امکان ہوتے ہوئے عوام پر روزانہ پیٹرول بم کیوں گرایا جارہا ہے؟مولانا بشیر فاروق قادری
سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کے ارکان کو حق اور سچ بات کہنے پر زبردست خراج تحسین ،تجاویزکا خیرمقدم

کراچی(25 جولائی 2026)

سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کے بانی اور چیئرمین مولانا محمد بشیر فاروق قادری نے سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کے اجلاس کی ان تجاویز کا بھرپو ر خیر مقدم کیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالا نہ چار سے پانچ ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔اپنے بیان میں مولانا بشیر فاروق قادری نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے قرضوں کے بوجھ سے باہر نکلا جاسکتا ہے۔انہوں نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ ایک غریب ترین اور قرضوں میں ڈوبے ہوئے ملک میں بچت کا اتنا بڑا امکان اور ذریعہ ہوتے ہوئے مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام پر روزانہ پیٹرول بم تو گرایا جاتا ہے،نقصانات کے نام پر بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ تو کی جاتی ہے،سفری کرائے تو بڑھائے جاتے ہیں،اجناس تو مہنگی کی جاتی ہیں لیکن حکومتی شاہانہ اخراجات کم کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔یہ غیر ضروری وزارتیں ملکی خزانے پر مسلسل بوجھ بنی ہوئی ہیں ۔ اگر ان کی کوئی کارکردگی ہوتی تو یہ اپنے اپنے محکموں کی ترقی کی بدولت ملکی دولت میں اضافے کا سبب بنتیں ناکہ ہر سال 5 ہزار ارب روپے کا بوجھ ثابت ہوتیں۔ انہوں  نے سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کے ارکان کو حق اور سچ بات کہنے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان سفارشات اور تجاویز پر اگر فوری عمل درآمد شروع نہ کیا گیا تو ملک میں غربت کی شرح اس حد تک بڑھ جائے گی کہ لوگوں کا زندہ رہنا مزید مشکل ہوجائے گا، خودکشی کے واقعات اور جرائم کی شرح بڑھنے سے ملک انارکی کی طرف جاسکتا ہے اور ملک کے وہ فلاحی ادارے جو دن رات غریبوں کی فلاح و بہبود، تعلیم ، علاج ،روزگار کے کاموں میں ہر حکومت کا ہاتھ بٹاتے رہے ہیں ، وسائل کی کمی کا شکار ہوکر خدمات کی فراہمی کے قابل نہیں رہیں گےجو خود ایک بہت بڑا المیہ ہوگا۔انہوں نے سینیٹ کمیٹی کے ان نکات سے بھی سو فیصد اتفاق کیا کہ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لینا چاہیے ۔ چیئرمین سیلانی نے کہا کہ وفاق کو تمام صوبوں کو اس کا آئینی حصہ دینا چایئے ۔انہوں نے اس امر پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ سینیٹ کمیٹی کے مطابق سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے، جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیاجبکہ کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں اور عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
جاری کردہ:شعبہ تعلقات عامہ۔۔سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ۔۔ بہادر آباد کراچی۔۔۔03212593902

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
83 + = 88