کمرہ عدالت سے خبر

سینیئر سول جج شرقی کی عدالت میں بی آرٹی ریڈ لائن منصوبے کی تعمیر کے دوران اوورسیز شہری نے حادثے میں آنکھ ضائع ہونے پر پراجیکٹ ڈائریکٹر اور کانٹریکٹر کیخلاف ہرجانہ کا دعویٰ دائر کردیا۔ شہری کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے دعوی میں موقف اپنایا ہے کہ سندھ حکومت، بی آر ٹی انتظامیہ اور کانٹریکٹر کو17 کروڑ 87 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔ مدعی سید وقاص 2025 میں حج کی ادائیگی کے لئے پاکستان أئے تھے۔ مئی 2025 کی رات ایئرپورٹ جاتے ہوئے یونیورسٹی روڈ پر گاڑی بیریئر سے ٹکرائی۔ سڑک کے درمیان رکھے بیریئر میں نا ریفلیکٹر نصب تھے اور نا ہی کوئی وارننگ بورڈ تھا۔ حادثے کے نتیجے میں مدعی کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی جبکہ چہرے پر شدید فریکچر آئے۔ ریڈ لائن منصوبے کے دوران عوامی املاک کے تحفظ کے تقاضے پورے نہیں کیئے گئے۔ طبی اخراجات، بحالی، معذوری اور دیگر نقصانات کی مد میں 17 کروڑ 87 لاکھ روپے بطور ہرجانہ دلوایا جائے۔

سندھ ہائیکورٹ نے ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ میں 2021 سے 2026 تک نئی بھرتیوں کیخلاف درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔ ہائیکورٹ میں ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ میں 2021 سے 2026 تک نئی بھرتیوں کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ بھرتیوں کے لیے مقررہ ضوابط پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ اس عرصے کے دوران 5 سو سے زائد بھرتیاں کی گئیں۔ خالی آسامیوں کے لیے پہلے اشتہارات دینا ضروری ہے جو نہیں دیئے گئے۔ نئی بھرتیوں کے لیے تحریری اور ٹیسٹ لیئے جاتے ہیں۔ ویلفیئر بورڈ کی انتظامیہ نے بھرتیوں کے لیے اشتہار دیے اور نہ ہی تحریری اور زبانی ٹیسٹ لیے۔ 2021 سے 2026 تک کی گئی بھرتیاں کالعدم قرار دی جائیں۔ عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوہے 18 اگست کو جواب طلب کرلیا۔ درخواست میں چیئرمین و سیکریٹری ویلفیئر بورڈ اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
28 − = 22