ڈاکٹر پنجوانی سینٹر میں بایومیڈیکل ریسرچ میں سیل کلچر ٹیکنیکس پرورکشاپ کا انعقاد

ڈاکٹر پنجوانی سینٹر میں بایومیڈیکل ریسرچ میں سیل کلچر ٹیکنیکس پرورکشاپ کا انعقاد

علم انسان میں تنقیدی سوچ بیدار کرتا ہے، پروفیسررضا شاہ اور پروفیسر عابد علی کا جامعہ کراچی میں خطاب

ورکشاپ شرکاء کو سیل کلچر کی جدید تکنیکوں میں عملی مہارت حاصل کرنے کا بہترین موقع فراہم کرے گی

کراچی: ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی) نے بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم(آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی میں 21تا22جولائی دو روزہ ورکشاپ ”بایومیڈیکل ریسرچ میں سیل کلچر ٹیکنیکس“ کے عنوان سے منعقد کی۔

آئی سی سی بی ایس کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا شاہ نے آن لائن خطاب کے ذریعے ورکشاپ کا افتتاح کیا جبکہ قائم مقام ڈائریکٹر آئی سی سی بی ایس پروفیسر ڈاکٹر سید عابد علی نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر رضا شاہ نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ورکشاپ شرکاء کو سیل کلچر کی جدید تکنیکوں میں عملی مہارت حاصل کرنے کا بہترین موقع فراہم کرے گی اور لیبارٹری میں استعمال ہونے والی جدید تکنیکوں کو تعلیمی، صنعتی اور طبی شعبوں میں مؤثر انداز سے بروئے کار لانے کے لیے تحقیقی صلاحیتوں کو فروغ دے گی۔ انہوں نے شرکاء کو آئی سی سی بی ایس کے بین الاقوامی مقام و مرتبے سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ یہ ادارہ کیمیائی، حیاتیاتی اور حیاتی کیمیائی علوم میں پاکستان کے نمایاں مراکزِ تحقیق میں شمار ہوتا ہے، جبکہ مختلف ممالک سے آنے والے محققین اور طلبہ کی تربیت کے حوالے سے ایک بین الاقوامی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر سید عابد علی نے اپنے خطاب میں علم کے حصول کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قرآنِ مجید بھی انسان کو علم حاصل کرنے کی تلقین کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور انفرادی و معاشرتی ترقی کی بنیاد بھی کیونکہ یہی انسان میں تنقیدی سوچ، خود انحصاری اور معاشی کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیل کلچر جدید حیاتیات، بایوٹیکنالوجی اور بایومیڈیکل تحقیق کی بنیادی تکنیکوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے ہم بیماریوں کے اسباب کا مطالعہ کریں، نئی ادویات کی آزمائش کریں یا ویکسینز اور بایولوجکس تیار کریں، خلیات کو افزائش دینا اور انہیں برقرار رکھنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

ورکشاپ کی منتظمین میں شامل ڈاکٹر الماس جبین نے شرکاء کو بتایا کہ ورکشاپ میں مربوط تدریسی انداز کے تحت نظری لیکچرز اور عملی لیبارٹری سیشنز شامل تھے۔ تربیتی پروگرام میں سیل کلچر کے نظریاتی تصورات، بنیادی اصول، ایسپٹک (جراثیم سے پاک) تکنیکیں، میڈیا کی تیاری، سیل لائنز کی دیکھ بھال، سب کلچرنگ، کرائیو پریزرویشن، آلودگی سے بچاؤ، اور محفوظ و معیاری لیبارٹری طریقہ کار پر عملی تربیت فراہم کی گئی۔

اس موقع پرسٹیم سیل ریسرچ لیبارٹر ی کی پروفیسر ڈاکٹر عصمت سلیم اورامیونولوجی لیبارٹری کی ڈاکٹر الماس جبین نے ورکشاپ میں ماہرین اور ریسورس پرسنز کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ورکشاپ میں کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے تقریباً50شرکاء نے شرکت کی، جن میں گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے علاوہ بایو کیمسٹری، مالیکیولر بایولوجی، بایوٹیکنالوجی اور متعلقہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ بھی شامل تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
62 + = 71