تفتیشی افسر نے ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں رپورٹ جمع کرادی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت کے روبرو ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ تینوں ملزمان سریش عرف ساگر رام چند اور انیل اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں سے مارے گئے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا مطلب مارے گئے وہ تو پولیس کسٹڈی میں تھے۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزمان کی نشاندہی پر ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرنے گئے تھے۔ بروہی گوٹھ پہنچے وہاں موجود ملزمان نے فائرنگ کردی۔ ملزمان کی فائرنگ سے ایک ہیڈ کانسٹبل اور زیر حراست ملزمان زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا لیکن ملزمان پہلے ہی ہلاک ہوگئے۔ ملزمان نے نائین ایم ایم اور 12 شوٹر اسلحہ استعمال کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جب ملزمان نہیں ہیں تو میرے پاس کیا لینے آئے ہو۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ اطلاعی رپورٹ پیش کرنے آئے ہیں۔ عدالت نے رپورٹ کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بناکر سماعت ملتوی کردی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اس رپورٹ پرتفصیلی فیصلہ سنایا جائے گا۔ دوسری جانب سب انسپکٹر قسیم تنولی نے ملزمان کیخلاف قائم 4 مقدمات میں بھی رپورٹ جمع کرادی۔ دیگر مقدمات کے تفتشی افسر قسیم نے گفتگو کے دوران بتایا کہ ہمیں اعلی حکام نے بات کرنے سے منع کیا ہے۔ زیر حراست ملزمان اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے، اسی حوالے سے رپورٹ جمع کرائی ہے۔ مزید اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
HBL . حبیب بینک لمیٹڈ اس بینک کو پاکستان کی معاشی تاریخ سے مٹا دیا جائے تو باقی بچے گا کیا ؟
نواز شریف کی تازہ مصروفیات ۔ اہم ملاقاتیں ،تاریخی باتیں ،نئے ارادے ،نئے خواب ۔
سبزیوں اور پھلوں کے تازہ ریٹس ۔مارکیٹ کمیٹی کا کردار ذمہ داریاں اور کارکردگی ۔۔۔۔ ایک جائزہ
: آصف علی زرداری کے خاص معتمد اور پیپلز پارٹی کے ناگزیر ستون: سینیٹر سلیم مانڈوی والا
آج تک مولانا فضل الرحمن کی سیاست کو کسی پنجرے میں قید نہیں کیا جا سکا ۔
کشمیری سیاست میں نئی انگڑائی ، حالات کیا رخ اختیار کر رہے ہیں ؟
متحدہ کو متحد کون رکھے گا ؟ مستقبل میں کراچی میں کون سا سیاسی کارڈ چلے گا ؟




































