
فلور ملز ایسوسی ایشن کا وفد صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزماں سے ملاقات، آٹے کی قیمتوں میں استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفا
عوام کو سستا آٹا فراہم کرنا سندھ حکومت کی اولین ترجیح، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی، مخدوم محبوب الزماں
کراچی، 24 جولائی 2026:
صوبائی وزیر خوراک سندھ مخدوم محبوب الزماں کی زیر صدارت فلور ملز ایسوسی ایشن کے وفد کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں گندم اور آٹے کی موجودہ صورتحال، قیمتوں، سپلائی، ذخائر اور عوام کو سستے داموں آٹا فراہم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے بحالی، چیئرمین چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم (سی ایم آئی ٹی)، کمشنر کراچی، سیکریٹری خوراک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی جبکہ فلور ملز ایسوسی ایشن کے وفد کی قیادت چیف پیٹرن حاجی یوسف، چیئرمین جنید عزیز، وائس چیئرمین عابد مسعود اور دیگر عہدیداران نے کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزماں نے کہا کہ سندھ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو معیاری اور سستا آٹا فراہم کرنا ہے اور کسی بھی صورت میں مصنوعی قلت یا ناجائز منافع خوری برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے فلور ملز مالکان کو ہدایت کی کہ عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے آٹے کی قیمتیں کم سے کم رکھی جائیں اور صوبے بھر میں بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ وزیر خوراک نے کہا کہ حکومت سندھ ذخیرہ اندوزوں، ناجائز منافع خوروں اور غیر قانونی کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر تصدیق شدہ کارروائیاں کر رہی ہے، جن کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی تاکہ مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ خوراک سندھ کے پاس اس وقت مجموعی طور پر 4 لاکھ 46 ہزار 947 میٹرک ٹن گندم موجود ہے، جس میں 1 لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن سابقہ ذخیرہ، 81 ہزار 812 میٹرک ٹن رواں سیزن میں خریدی گئی گندم اور 2 لاکھ 25 ہزار 135 میٹرک ٹن ذخیرہ اندوزوں سے برآمد کی گئی گندم شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس موجود یہ ذخائر عوام کو سستے داموں آٹے کی فراہمی اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے کافی ہیں۔
وزیر خوراک نے واضح کیا کہ سندھ کے اندر اضلاع کے درمیان گندم کی نقل و حرکت پر کسی قسم کی پابندی نہیں اور سپلائی چین مکمل طور پر فعال ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو سندھ حکومت پاسکو سے مزید گندم حاصل کرے گی تاکہ کسی بھی ممکنہ قلت کو فوری طور پر پورا کیا جا سکے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے سندھ حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سندھ نے ہمیشہ دیگر صوبوں کو گندم فراہم کی، تاہم بعض صوبوں نے سندھ کو گندم کی فراہمی کی اجازت نہیں دی، جس کے باعث گندم کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور آٹے کی قیمتیں بھی متاثر ہوئیں۔وفد نے مطالبہ کیا کہ فلور ملز کے لیے مقررہ ایک ماہ کی گرائنڈنگ کیپسٹی کو بڑھا کر دو ماہ کیا جائے تاکہ صنعت بہتر انداز میں چل سکے اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رہے۔ کمشنر کراچی نے اجلاس کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ اور فلور ملز ایسوسی ایشن کے مسلسل تعاون کی بدولت کراچی میں آٹا سرکاری مقررہ نرخوں پر وافر مقدار میں دستیاب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت کراچی میں گندم تقریباً 11 ہزار 600 روپے جبکہ آٹا 125 روپے فی کلوگرام سرکاری نرخ پر فروخت ہو رہا ہے۔ سیکریٹری خوراک نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ متعدد ذخیرہ اندوز سندھ فوڈ ڈیپارٹمنٹ سے لائسنس یافتہ نہیں تھے اور انہی غیر رجسٹرڈ تاجروں نے مصنوعی قلت پیدا کرکے مارکیٹ کا توازن متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کے خلاف قانونی کارروائیاں مزید مؤثر انداز میں جاری رہیں گی۔
صوبائی وزیر خوراک نے فلور ملز ایسوسی ایشن کو یقین دلایا کہ ان کے تحفظات اور گرائنڈنگ کیپسٹی بڑھانے کی تجویز حکومت سندھ کے سامنے پیش کی جائے گی۔ فلور ملز ایسوسی ایشن نے سندھ حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ کراچی سمیت پورے صوبے میں آٹے کی مسلسل اور بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا اجلاس کے اختتام پر صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزماں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری رکھتے ہوئے عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرے گی اور آٹے کی قیمتوں میں استحکام یقینی بنائے گی۔




































