واپڈا سے کوئی پوچھنے والا ہے ؟ ون پوائنٹ نوید نقوی

واپڈا سے کوئی پوچھنے والا ہے ؟
ون پوائنٹ
نوید نقوی
لیاقت پور ویسے تو آنا جانا لگا رہتا ہے لیکن آج بخار تھا اور ۔۔۔ ہمارے معزز استاد محترم مراد خان صاحب نے بل بھجوایا کہ آج آخری تاریخ ہے۔ ادا کر دیں ورنہ جرمانہ پڑ جائے گا۔
میں نے سوچا حسب سابق دو تین ہزار بل ہوگا، سمر کیمپ سے جیسے ہی چھٹی ہوگی بل ادا کر دوں گا۔۔ لیکن بل دیکھ کر چودہ طبق روشن ہو گئے کہ یہ کیسے ۔۔۔ یاد رہے کہ بجلی کا بل جب ہر ماہ صارف کے ہاتھ میں آتا ہے تو اس کے ساتھ کئی سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ بہت سے صارفین یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کی بجلی کی کھپت معمول سے کم ہونے کے باوجود بل میں یونٹس زیادہ درج کیے گئے ہیں یا بل توقع سے کہیں زیادہ آتا ہے۔ ایسے میں عوام کا یہ سوال بجا معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی صارف کو اپنے بل پر اعتراض ہو تو اس کی شنوائی کہاں ہوگی ؟ اور کیا بلنگ کے نظام میں مکمل شفافیت موجود ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ بجلی کے بل میں اضافے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ بعض اوقات ریڈنگ میں غلطی، اندازے سے بل بنا لینا، میٹر کی خرابی، سابقہ ایڈجسٹمنٹ، یا ٹیرف میں تبدیلی بھی بل کو بڑھا دیتی ہے۔ لیکن اگر کسی صارف کو یقین ہو کہ اس کے بل میں درج یونٹس اس کی حقیقی کھپت سے مطابقت نہیں رکھتے تو متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنی کی ذمہ داری ہے کہ وہ شکایت کا فوری، شفاف اور منصفانہ ازالہ کرے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بلنگ کے پورے نظام کو مزید جدید اور قابلِ اعتماد بنایا جائے۔ ڈیجیٹل میٹر ریڈنگ، صارف کو بروقت تصاویر کے ساتھ ریڈنگ کی فراہمی، آن لائن شکایات کے فوری ازالے اور آزادانہ آڈٹ جیسے اقدامات عوام کا اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ صارفین اپنے میٹر کی ریڈنگ باقاعدگی سے نوٹ کریں، بل کا تفصیلی جائزہ لیں اور کسی بھی تضاد کی صورت میں بروقت تحریری شکایت درج کروائیں۔ اسی طرح متعلقہ اداروں کو بھی چاہیئے کہ وہ شکایات کو سنجیدگی سے لیں اور اگر کسی جگہ غلطی ثابت ہو تو فوری اصلاح کریں۔ خیر میں نے بھاگم بھاگ میٹر چیک کیا اور تصویر لی ۔۔۔ یہ دیکھ کر میرے ہوش اڑ گئے کہ ریڈنگ صرف 1149 یونٹ شو ہو رہی تھی جبکہ واپڈا اہلکار نے 1351 یونٹ ڈال دیے تھے ۔۔۔
ایک دوست سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا ایس ڈی او آفس چلے جائیں۔ ایس ڈی او آفس خان بیلہ گیا تو انہوں نے فوری طور پر لیٹر پر سائن کر دیے اور فرمایا کہ لیاقت پور جانا پڑے گا ، وہاں سے آپ ایکسیئن آفس سے چینج کروا کر بل بنوا لیں۔۔
یا خدا ایک تو بخار اوپر سے مجھے لاہور جانا اچھا لگتا ہے لیکن لیاقت پور جانا بچپن سے ہی عذاب لگتا ہے۔ خیر قصہ مختصر خان بیلہ سے لیاقت پور کے لیے روانہ ہوا تو اللہ آباد سے پہلے بائیک میں کوئی مسئلہ ہوا اور وہ رک گئی ، آج گرمی بھی شدت سے پڑ رہی تھی اور تپتی دھوپ میں بائیک کو کھینچ کر دوکان تک لے جانا انتہائی تکلیف دہ تھا، شکر ہے کہ مکینک کی دوکان زیادہ دور نہیں تھی ، پلگ کا ایشو تھا ، وہ درست کروایا ، ایکسیئن صاحب نے بغیر کسی سوال جواب کے، فوری طور پر سائن کر دیے اور ان کے عملے کا سلوک بھی بہترین تھا، لیکن سوال یہ ہوتا ہے کہ مجھے ایک ہزار روپے کی لاگت لگی، بخار میں ایک ناپسندیدہ سفر کرنا پڑا، اس سے بڑھ کر آڈٹ کے سلسلے میں کچھ کام کرنا تھا، اس چکر میں لیٹ ہوگیا اور اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر صاحب کی ناراضی بھی ہوئی ، اس تمام تکلیف کا ذمہ دار کون ہے؟
ایک دوسرے بندے کے بل میں ایک ہزار کا فرق تھا، اب وہ ایک ہزار کا کرایہ وغیرہ لگا کر ، اپنا قیمتی وقت ضائع کر کے ایک ہزار درست کروانے کیوں آئے گا ؟
ذہنی دباؤ اور الجھن کا سامنا کرے گا، اسی طرح کئی اور لوگ بھی اسی مسئلے کا شکار تھے ، کیا کوئی پوچھے گا کہ اوور بلنگ کیوں ؟ بجلی مہنگی ہے یا سستی ، یہ ایک الگ موضوع ہے، لیکن اضافی یونٹ کیوں ؟
یاد رہے کہ ایک مضبوط نظام وہی ہوتا ہے جہاں عوامی خدمت سے متعلق ادارے جواب دہ ہوں اور شہریوں کو انصاف ملے۔ شفاف احتساب، جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر شکایتی نظام ہی وہ راستہ ہے جس سے بجلی کے صارفین کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔ عوام کا سوال صرف اتنا ہے کہ اگر بل میں اضافی یونٹس درج ہونے کا شبہ ہو تو اس کی غیر جانبدارانہ جانچ ضرور ہونی چاہیے، تاکہ نہ صارف کے ساتھ ناانصافی ہو اور نہ ہی کسی ادارے پر بلاوجہ الزام لگے۔ ایس ڈی او آفس اور اکیسئن آفس کے عملے کے بہترین سلوک کے باوجود کافی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ، امید ہے واپڈا اپنے اہلکاروں کو زمہ داروں کو جواب دہ ٹھہراتے ہوئے ، آئیندہ صارفین کی تکالیف کا بھی احساس کرے گا۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
78 − 74 =