لچکدار روزگار سے وابستہ کارکنوں کا سماجی تحفظ
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

چین میں روزگار کی بدلتی ہوئی صورت حال نے ایسے کارکنوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا ہے جو روایتی مستقل ملازمت کے بجائے لچکدار انداز میں کام کرتے ہیں۔ کھانے کی ترسیل، آن لائن سواری، گھریلو خدمات اور براہ راست آن لائن نشریات جیسے شعبوں سے وابستہ یہ افرادی قوت شہری زندگی اور معیشت کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ اب ان کارکنوں کے لیے سماجی تحفظ کو مزید مضبوط بنانے، خصوصاً طبی بیمہ تک رسائی آسان کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
چین کے متعلقہ سرکاری محکموں نے آئندہ تین برس کے لیے ایک منصوبہ جاری کیا ہے، جس کے تحت لچکدار روزگار، نقل مکانی کرنے والے کارکنوں اور روزگار کی نئی شکلوں سے وابستہ مزید افراد کو بنیادی طبی بیمہ نظام میں شامل کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے رجسٹریشن، رقم جمع کرانے اور بیمہ استعمال کرنے کے طریقوں کو زیادہ آسان اور لچکدار بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
چین میں اندازاً 20 کروڑ افراد لچکدار روزگار سے وابستہ ہیں۔ مجموعی آبادی کے تقریباً 95 فیصد افراد پہلے ہی بنیادی طبی بیمہ کے دائرے میں شامل ہیں، تاہم لچکدار کارکنوں کی ایک بڑی تعداد شہری ملازمین کے بجائے دیہی اور غیر ملازم شہریوں کے لیے موجود طبی بیمہ نظام سے منسلک ہے۔ نئی پالیسی میں شہری ملازمین کے طبی بیمہ کی طرف منتقلی اور اس میں شمولیت کے امکانات بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
ملازمین کے طبی بیمہ میں شامل ہونے سے علاج اور ادویات پر ذاتی اخراجات مزید کم ہو سکتے ہیں۔ یہ سہولت ان افراد کے لیے خاص طور پر اہم ہے جنہیں مستقل علاج یا بار بار طبی خدمات کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس طرح بیمہ بیماری کی صورت میں صرف مالی بوجھ کم نہیں کرتا بلکہ کارکنوں اور ان کے خاندانوں کے معاشی تحفظ کو بھی مضبوط بناتا ہے۔
لچکدار کارکنوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بیمہ کا تسلسل برقرار رکھنا ہے۔ ملازمت یا کام کی جگہ بار بار تبدیل ہونے کی وجہ سے رجسٹریشن اور ادائیگی کے موجودہ طریقے بعض اوقات پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے نئی مہم میں مختلف سرکاری محکموں کے درمیان پالیسیوں کو مربوط کرنے، انتظامی مراحل کم کرنے اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے خدمات کو آسان بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
بڑے شہروں میں رہائشی رجسٹریشن سے متعلق بعض پابندیوں کو کم کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ کارکن اپنی ملازمت یا رہائش کی بنیاد پر طبی بیمہ میں زیادہ آسانی سے شامل ہو سکیں۔ اس کے ساتھ ادائیگی کے طریقوں میں بھی لچک پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ممکنہ انتظامات میں رہائشی طبی بیمہ کے سابقہ واجبات کو ملازمین کے طبی بیمہ میں شمار کرنا اور سہ ماہی، ششماہی یا سالانہ بنیادوں پر پیشگی ادائیگی کی سہولت شامل ہے۔
طبی بیمہ کی خدمات کو آن لائن اور روایتی دونوں طریقوں سے زیادہ قابل رسائی بنانے کا بھی منصوبہ ہے۔ مختلف کارروائیوں کو ایک ہی مربوط سروس میں شامل کرنے سے کارکنوں کو رجسٹریشن، منتقلی اور ادائیگی کے لیے بار بار مختلف دفاتر سے رجوع کرنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔
لچکدار روزگار اب محض عارضی آمدنی کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ کروڑوں افراد کے لیے کام کا مستقل طریقہ بنتا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ سماجی تحفظ کے روایتی نظام کو بھی روزگار کی نئی حقیقتوں کے مطابق ڈھالنا ضروری ہو گیا ہے۔ ایسے کارکن جو مختلف کمپنیوں یا پلیٹ فارموں کے ذریعے کام کرتے ہیں، ان کے لیے بھی طبی بیمہ کا نظام مستقل ملازمت کرنے والے افراد کی طرح قابل رسائی اور قابل منتقلی ہونا اہم ہے۔
2025 میں لچکدار اور دیگر نئی شکلوں کے روزگار سے وابستہ تقریباً 6 کروڑ 98 لاکھ افراد شہری ملازمین کے طبی بیمہ میں شامل تھے۔ آئندہ تین برس میں اس تعداد کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ نظام کو زیادہ سہل بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
یہ اقدامات چین میں لیبر مارکیٹ کی تبدیلی کے ساتھ سماجی تحفظ کے نظام کو ہم آہنگ کرنے کی وسیع تر کوشش کا حصہ ہیں۔ روزگار کی نوعیت چاہے مستقل ہو یا لچکدار، طبی سہولت تک بروقت اور کم لاگت رسائی کارکنوں کے بنیادی معاشی تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ زیادہ آسان رجسٹریشن، لچکدار ادائیگی اور مختلف علاقوں میں بیمہ کی سہولت برقرار رکھنے سے نئی شکلوں کے روزگار سے وابستہ افراد کے لیے سماجی تحفظ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔




































