آسان تاجر ایپ سے 40 لاکھ ٹیکس دہندگان کا اضافہ ہوگا اور ٹیکس ادائیگی میں آسانی ہوگی

*آسان تاجر ایپ سے 40 لاکھ ٹیکس دہندگان کا اضافہ ہوگا اور ٹیکس ادائیگی میں آسانی ہوگی۔*
*تنخواہ دار طبقے کے لیے بھی ایک صفحے پر مشتمل پری فلڈ ٹیکس ریٹرن متعارف کرایا جائے۔*
*معیشت کی ترقی اور ریونیو میں اضافے کے لیے ڈیجیٹل انفورسمنٹ کا طریقہ اپنایا جائے: میاں زاہد حسین*

(21-اگست-2026)
کراچی: پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میاں زاہد حسین نے آسان تاجر ایپ کے اجرا کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ٹیکس نیٹ وسیع کرنے، ٹیکس قوانین پر عمل درآمد آسان بنانے اور چھوٹے تاجروں اور ایف بی آر حکام کے درمیان غیر ضروری رابطے کم کرنے کی جانب مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ آسان تاجر ایپ کا اعلان وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینٹر محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف کی حکومت کا یہ اقدام لاکھوں غیر دستاویزی ریٹیلرز کو رسمی معیشت کا حصہ بنانے میں مدد دے گا۔ نئی اسکیم کے تحت شرائط پر پورا اترنے والے ایک دکان کے مالک تاجروں کو ایک صفحے پر مشتمل ریٹرن، آسان رجسٹریشن اور سالانہ ٹرن اوور کے ایک فیصد کے برابر ٹیکس ادا کرنے کی سہولت دی گئی ہے، جبکہ کم از کم سالانہ ادائیگی 25 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ اردو زبان میں ایپ، سہولت کاری کے انتظامات اور ٹیکس قوانین پر عمل کرنے والے تاجروں کے لیے مجوزہ گرین پلیٹ درست اقدامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے گرین پلیٹ رکھنے والے تاجروں کی دکانوں پر ایف بی آر حکام کے معمول کے دورے نہ کرنے کی یقین دہانی کو باضابطہ ہدایات کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ غیر ضروری نوٹسز، دوروں یا غیر ضروری مطالبات سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے آزاد اور مقررہ مدت میں فیصلہ کرنے والا نظام بھی قائم کیا جائے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ اس اسکیم کا ہدف تقریباً 42 لاکھ چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔ اگر ابتدائی طور پر صرف دس لاکھ تاجر بھی اسکیم میں شامل ہوکر کم از کم ٹیکس ادا کریں تو قومی خزانے کو سالانہ 25 ارب روپے حاصل ہونگے۔ تاہم اسکیم کی کامیابی کو ایپ ڈاؤن لوڈز کے بجائے نئے ٹیکس دہندگان کی تعداد اور اضافی محصولات کی بنیاد پر جانچا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 26-2025 کے دوران تنخواہ دار طبقے نے تقریباً 633 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جبکہ ریٹیلرز نے ودہولڈنگ دفعات 236G اور 236H کے تحت صرف 70 ارب روپے جمع کرائے۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ ٹیکس نظام کا زیادہ تر انحصار تنخواہ دار افراد اور باقاعدہ ٹیکس ادا کرنے والے کاروباری اداروں پر ہے اور انہی افراد پر مزید بوجھ ڈالنا اب ممکن نہیں ہے لہذا ٹیکس نیٹ میں پہلے سے موجود لوگوں کو سختی کی بجائے سہولت فراہم کی جائے اور ٹیکس نیٹ سے باہر افراد اور کاروباری اداروں کو دستاویزی معیشت میں لانے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کا راستہ اپنانا انتہائی ضروری ہے۔

میاں زاہد حسین نے مطالبہ کیا کہ تنخواہ دار ٹیکس دہندگان کے لیے ایک صفحے پر مشتمل پری فلڈ ٹیکس ریٹرن متعارف کرایا جائے۔ ایف بی آر کو تنخواہ اور منہا کیے گئے ٹیکس کی معلومات پہلے ہی کمپنیز سے موصول ہوجاتی ہیں، اس لیے ٹیکس دہندگان سے ایک ہی معلومات بار بار طلب نہیں کی جانی چاہئیں۔ تنخواہ دار افراد سے صرف اپنی تنخواہ، ادا شدہ ٹیکس، بینک منافع، بڑے اثاثوں اور ریفنڈ سے متعلق معلومات طلب کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آسان تاجر ایپ انگریزی، اردو، سندھی، پشتو اور بلوچی زبانوں میں دستیاب ہونی چاہیے۔ اس ایپ کا ایپل ورژن، ویب پورٹل اور معاونت کے ساتھ ریٹرن فائل کرنے کی سہولت بھی مفت فراہم کی جائے۔ ڈیجیٹل مہارت نہ رکھنے والے تاجروں کے لیے ایف پی سی سی ائی، تاجر تنظیموں اور ضلعی ٹیکس دفاتر میں ہیلپ ڈیسک قائم کیے جائیں۔

میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ ٹرن اوور پر ایک فیصد ٹیکس، زیادہ ٹرن اور مگر کم منافع والے کاروباروں کو غیر متناسب طور پر متاثر کرسکتا ہے۔ پانچ فیصد خالص منافع کمانے والے کاروبار کے لیے یہ ٹیکس اس کے منافع کے 20 فیصد کے برابر بنتا ہے۔ ایف بی آر کو مختلف شعبوں کے منافع کی شرح کا جائزہ لینے کے ساتھ یہ بھی طے کرنا چاہیے کہ 20 کروڑ روپے کی سالانہ ٹرن اوور حد واقعی چھوٹے دکاندار کی مناسب تعریف ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نئے فائلرز، ٹیکس وصولی، جاری کردہ گرین پلیٹس اور موصول ہونے والی شکایات کے اعدادوشمار باقاعدگی سے جاری کرے۔ مناسب سہولت کاری کی مدت کے بعد آسان اسکیم اور عمومی ٹیکس نظام دونوں سے دانستہ طور پر باہر رہنے والے کاروباروں کے خلاف منصفانہ، ٹیکنالوجی پر مبنی اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔

*میاں زاہد حسین*
(ستارہ امتیاز، آنریری پی ایچ ڈی)
فون نمبر:- 2226888-0343
kenlubes.ceo@gmail.com ای میل:۔
سابق وزیربرائے انفارمیشن ٹیکنا لوجی، سندھ
چیئرمین ایف پی سی سی ائی پالیسی ایڈوائزری بورڈ۔
صدر پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم (پی بی آئی ایف)۔
صدرآل کراچی انڈسٹریل الائنس (اے کے آئی اے)۔
چئیرمین نیشنل بزنس گروپ پاکستان (این بی جی)۔
چیئرمین آل پاکستان لبریکنٹس مینوفیکچررزایسوسی ایشن (ایپلما)۔
سابق چیئرمین کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی)۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
1 + 2 =