عائزہ خان اور دانش تیمور تو مثالی زندگی گزاررہے ہیں ہم نے سوشل میڈیا کو جھوٹی اور غیر ذمہ دارانہ خبروں کا اکھاڑہ بنادیا ہے تحریر: سہیل دانش

عائزہ خان اور دانش تیمور تو مثالی زندگی گزاررہے ہیں
ہم نے سوشل میڈیا کو جھوٹی اور غیر ذمہ دارانہ خبروں کا اکھاڑہ بنادیا ہے
تحریر: سہیل دانش
عائزہ خان اور دانش تیمور پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کے ایسے اسٹارز ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنی شاندار اداکاری سے خود کو منوایا ہے۔ بلکہ وہ ایسے مثالی شریک حیات بھی ہیں۔ جن کی شادی سے لے کر آج تک کا ازواجی سفر خوشیوں اور شادمانیوں سے جگمگارہا ہے۔ اس سفر کا آغاز ایڈ فلم میں آڈیشن میں ملاقات سے ہوا تھا اور پھر زندگی بھر کے لئے دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیا ان دونوں کو میں ذاتی طور پر میں جانتا ہوں۔ دانش تیمور کی زندگی میں محنت کا رنگ بھی ہے اور مقدر کا کمال بھی جبکہ من موہنی شخصیت کی مالک عائزہ جان کے DNA میں ایک آرٹسٹ کی رُوح ہمیشہ موجود رہی۔ فیشن ماڈلنگ آرٹسٹک جدت اور کردار سے قدرتی ہم آہنگ فنکاری کا جادو اُن کی پہچان ہے دو پیارے سے بچے اُن کی محبت کا انعام ہیں، لیکن نہ جانے کچھ لوگوں نے ہڑبڑا کر محض دوسروں کو چونکانے اور Views کے چکر میں یہ بے پرکی اُڑادی کہ انہوں نے اپنی زندگی کی راہیں جدا کرلی ہیں ایسی خبر جس کی نہ کوئی بنیاد تھی نہ کریڈیبلٹی کا کوئی شائبہ۔ شاید یہ دونوں جنہوں نے ایک دوسرے کو ایک دھائی سے زیادہ عرصے پہلے سچ مچ ہاتھوں میں قسمت کی لکیروں سے چرایا، اِس خبر پر حیران بھی ہیں اور ایک دوسرے سے مسکراتے ہوئے یہ سوال کررہے ہیں کہ یہ کب ہوا؟ کیسے ہوا؟ کہنے کی بات صرف یہ ہے کہ سوشل میڈیا کو اندھا دھند، بے دریغ اور بے رحمانہ طریقہ سے استعمال کرنے والے یہ پیراٹروپرز خبر کی کریڈیبلٹی کو جس بُری طرح نقصان پہنچارہے ہیں اُس نے سوشل میڈیا پر آنے والی خبروں کا اعتبار اور چہرہ مسخ کردیا ہے۔ میڈیا کیا ہے اور میڈیا سے وابستہ لوگوں کی ذمہ داری کیا ہے، یہ آج ہمارے میڈیا کے سامنے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے میڈیا صرف خبر دینے والی مشین نہیں اور نہ ہی خبر دینے کے بعد اس کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے۔ میڈیا ایک تبلیغی عمل ایک درس گاہ اور ایک تربیتی ادارہ بھی ہے۔ میڈیا اور ہم صحافیوں کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ قدرت نے ہمیں لوگوں کے مزاج پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت سے نوازا ہے اور ہماری چند لمحوں کی غلطی کیا کیا بگاڑ پیدا کرتی ہے، ہم ایک لمحے کے لئے لوگوں کو تالی بجانے یا قہقہہ لگانے پر تیار کرلیتے ہیں لیکن یہ قہقہہ اور یہ تالی بعد میں پبلک ڈیمانڈ بن جاتی ہے، اس کے بعد پورے ملک کا ٹیسٹ اور مزاج بدل جاتا ہے، ذرا غور کیجئے، ہماری فلم انڈسٹری کیوں بند ہوئی تھی۔ یقیناً اِس کی وجہ بڑھک اور گنڈاسا تھا۔ 70 کی دہائی میں پاکستان کی فلمیں دنیا بھر کے سینما گھروں میں دیکھی جاتی تھیں۔ پاکستان میں بھی لوگ خاندان کے تمام افراد کے ساتھ جاکر فلمیں دیکھتے تھے اور اُس وقت یہ فلمسازوں سے لے کر اسکرپٹ رائٹرز موسیقاروں سے لے کر گلوکاروں اور گیت کاروں تک دنیا کے بہترین تخلیق کاروں کا سبب تھا۔ لیکن ایک دن اسکرین پر بڑھک اور گنڈاسا دکھائی دیا پبلک نے اُٹھ کر تالی بجائی اور پھر تمام انڈسٹری بڑھکوں اور گنڈاسا کی طرف شفٹ ہوگئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے 80 فیصد سینما بند ہوچکے ہیں اداکار تھیٹروں میں فحش فقروں اور ننگے رقص سے روزی کمارہے ہیں جبکہ فلموں میں اداکاری اور صداکاری کہاں تک زوال پذیر ہوچکی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم نے میڈیا کو نہ سنبھالا۔ ہم نے بھی اخلاقی اقدار کا خیال نہ رکھا اور اگر ہم نے بھی میڈیا کو اچھے ٹیسٹ اچھے اخلاق اور ناظرین کی فکرسازی کا ذریعہ نہ بنایا تو مجھے خدشہ ہے کہ ہمارا حشر بھی فلم انڈسٹری کی طرح ہوگا جس طرح سوشل میڈیا ایسے نوجوانوں کے ہاتھ لگ گیا ہے جن میں بڑی عمر کے لوگ بھی شامل ہیں جو محض اِس میڈیم پر ویوز کے چکر میں کبھی فہد مصطفےٰ جیسے ایکٹر کو مذاق میں دوسرے جہاں پہنچادیتے ہیں اور کبھی اپنی غیر ذمہ داری سے عمران خان کے متعلق یہ اعلان کردیتے ہیں کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے، روزانہ سینکڑوں ایسے وی لاگ سنتا ہوں جس میں نہ جانے بڑے تجربے کار لوگ بھی ایسی قلابازیاں کھاتے ہیں جھوٹ بولتے ہیں اور ہر منٹ پر اپنی بات کی خود تردید کرتے ہیں یہ دیکھ کر حیرانگی بھی ہوتی ہے اور افسوس بھی۔ کبھی وہ حِبا بخاری اور دانش تیمور کی دیوانگی سے ہمراہی تک لاجواب کیمسٹری میں اُن کے افیئرز کی کہانی سناتے ہیں اور کبھی عائزہ اور دانش کی مثالی زندگی میں بھونچال کی خبر دیتے ہیں۔ جب آپ کو ذمہ دارارانہ رپورٹنگ کا الف ب کا بھی علم نہیں تو آپ دوسروں کے آنگن میں جھانکنے کی شوق میں غیر ذمہ دارانہ خبریں کیوں پھیلاتے ہیں یاد رکھیں کہ انسان کی زندگی میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ اپنی اذیت پسندی کو بھانپ لیتا ہے اور اس کے بعد ان تمام لوگوں اور چیزوں سے پرہیز شروع کردیتا ہے جو اس کے جذبات کو لذت دیتے ہیں اگر ہم نے اپنی روش نہ بدلی تو وہ دن دور نہیں جب معاشرہ ہمارا گریبان پھاڑدے گا کیونکہ ہم جھوٹی اور غیر ذمہ دار خبروں سے اُس کا چہرہ بگاڑ رہے ہیں اور ہم نے سوشل میڈیا کو ایسی خبروں کا اکھاڑہ بنادیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
53 − 51 =