لغاری برادری کے معززین سے تعزیت اور فاتحہ خوانی ۔

میرپورخاص
رپورٹ
تحسین احمد خان
حق پرست رکن قومی اسمبلی انجینئر عبدالعلیم خانزادہ، ایم کیو ایم پاکستان میرپورخاص ڈسٹرکٹ کے انچارج خالد تبسم، جوائنٹ ڈسٹرکٹ انچارجز آفاق احمد خان، سلیم میمن و اراکین ڈسٹرکٹ کمیٹی اور یوسی ذمہ داران پر مشتمل متحدہ وفد نے نجی میڈیکل کالج کی طالبہ فہمیدہ لغاری کی المناک موت پر ان کے گھر جاکر کے اہل خانہ اعجاز لغاری، افتخار لغاری، وسیم لغاری سمیت لغاری برادری کے معززین سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔ بعدازاں انجینئر عبدالعلیم خانزادہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہراسگی کے نتیجے میں میڈیکل کالج کی طالبہ کی موت افسوسناک ہے۔ڈاکٹر فہمیدہ لغاری کی موت صوبے اور ملک میں ہراسگی کے خلاف مزاحمت کی علامت بن چکی ہے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صحت کا محکمہ صوبائی سبجیکٹ ہے۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے احکامات کے باوجود پیپلز پارٹی کی نااہل صوبائی حکومت صوبے کے نجی میڈیکل کالجز میں ہراسانی کی روک تھام کے لئے اینٹی ہراسمینٹ سیل قائم نہیں کرواسکی اور انصاف کی عدم فراہمی کے باعث میرپورخاص کے نجی میڈیکل کالج کی ہونہار طالبہ اپنی جان کی بازی ہار گئی۔ان تعلیمی اداروں میں تعینات ٹیچنگ اسٹاف میں مجرمانہ ذہنیت کے حامل افرادکی موجودگی بیڈ گورنینس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ان اداروں میں تعلیم اور امتحانات کے لئے بے داغ کردار کے حامل اساتذہ تعینات کئے جائیں۔فہمیدہ لغاری کیس کے مرکزی ملزم عابد لغاری کے گھوسٹ ٹیچر ہونے کے انکشاف نے محکمہ تعلیم سندھ، صوبائی وزیر تعلیم اور متعلقہ افسران کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔محکمہ تعلیم سمیت تمام صوبائی محکموں میں موجود ہزاروں گھوسٹ ملازمین کی اسکروٹنی کرکے ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیوایم پاکستان متاثرہ خاندان کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔انہوں نے وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلی سندھ سے مطالبہ کیا کہ اینٹی ہراسمینٹ قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے اور واقعے میں ملوث تمام ملزمان فی الفور گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
− 5 = 3