افراد باہم معذوری کا سندھ ڈس ایبیلٹیز ایکٹ کے مؤثر عملدرآمد پر زور، چیلنجز کی نشاندہی

افراد باہم معذوری کا سندھ ڈس ایبیلٹیز ایکٹ کے مؤثر عملدرآمد پر زور، چیلنجز کی نشاندہی
کراچی: افراد باہم معذوری نے سندھ ایمپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبلٹیز ایکٹ 2018 کے مؤثر نفاذ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مساوی حقوق اور سرکاری خدمات تک بہتر رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ مطالبہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے زیر اہتمام ایک ورکشاپ میں کیا گیا۔
یہ کپیسٹی بلڈنگ ورکشاپ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے نیشنل ڈس ایبلٹی اینڈ ڈوالپمنٹ فورم این ڈی ایف کراچی کے اشتراک سے منعقد کی جس کا مقصد افراد باہم معذوری سے متعلق قانون سازی اور شکایات کے ازالے کے مکینزم کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا تھا۔
شرکا جن میں افراد باہم معذوری اور سول سوسائٹی کے اراکین شامل تھے، نے اس بات پر زور دیا کہ جامع قانون سازی کے باوجود سندھ ایمپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبیلٹیز ایکٹ 2018 کے غیر مؤثر عملدر آمد کے باعث افراد باہم معذوری کو جدید تعلیم، باعزت روزگار اور سرکاری خدمات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
معزز مہمانان میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (ر) اور سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے جوڈیشل ممبر، آنند رام، سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے سپریٹنڈنٹ کمپلینٹ سرفراز جمالی، سندھ انفارمیشن کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ذوالفقار شیخ، صوبائی محتسب سندھ کے ڈائریکٹر امداد حسین صدیقی، سندھ پرسنز ود ڈس ایبلٹیز پروٹیکشن اتھارٹی، ڈپارٹمنٹ آف ایمپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبلٹی کے ڈائریکٹر جنرل فاروق لغاری شامل تھے۔ دیگر مقررین میں این ڈی ایف کے پروگرام مینیجر طارق حسین، ناؤ پی ڈی پی کے مینیجر پروگرامز حسنین حیدر، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کاشف علی، پروجیکٹ کوآرڈینیٹر نسرین میمن اور پروگرام ایسوسی ایٹ فریحہ فاطمہ شامل تھے۔
حکومتی اسٹیک ہولڈرز نے شرکا کو سندھ ایمپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبیلٹیز ایکٹ 2018 کی اہم شقوں سے آگاہ کیا، جن میں معذور افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک علیحدہ محکمہ اور صوبائی اتھارٹی کا قیام شامل ہے۔ انہوں نے اس ایکٹ کے مؤثر نفاذ کو مضبوط بنانے کے جاری اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے شکایات کے ازالے کے موجودہ نظام کے بارے میں بھی آگاہ کیا تاکہ معذور افراد سرکاری خدمات تک مؤثر رسائی حاصل کر سکیں اور ادارہ جاتی عمل میں بامعنی طور پر شامل ہو سکیں۔
مقررین نے معذور افراد کے قانونی حقوق، سندھ ایمپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبلٹیز ایکٹ 2018 کے نفاذ، سرکاری خدمات تک رسائی، شکایات کے ازالے کے نظام، اور شفافیت اور شہری شرکت کے فروغ میں رائٹ ٹو انفارمیشن کے کردار پر گفتگو کی۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے جامع اور انکلوژو گورننس کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا اور زور دیا کہ آگاہی میں اضافہ، سندھ ایمپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبلٹیز ایکٹ 2018 پر مؤثر عملدرآمد، 5 فیصد ملازمتوں کے کوٹے کا نفاذ، عوامی انفراسٹرکچر اور خدمات کی رسائی میں بہتری، اور افراد باہم معذوری کے لیے شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر نظام کا قیام انتہائی ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
35 − 26 =