صوبائی وزیر تعلیم کے احکامات نظر انداز پرائیویٹ اسکولوں کی جانب سے مہنگے یونیفارم مونو گرام والی درسی کتب خریدنے کے لیے والدین پر دباؤ والدین نے اسکولوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کردیا


میرپورخاص
رپورٹ
تحسین احمد خان
صوبائی وزیر تعلیم کے احکامات نظر انداز پرائیویٹ اسکولوں کی جانب سے مہنگے یونیفارم مونو گرام والی درسی کتب خریدنے کے لیے والدین پر دباؤ والدین نے اسکولوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کردیا تفصیلات کے مطابق میرپورخاص میں پرائیویٹ اسکولوں کی جانب سے طلبہ و طالبات کے والدین پر وزیر تعلیم کے احکامات نظر انداز کرتے ہوئے مند پسند کمیشن کے عوض مہنگے کتابیں یونیفارم اور مونو گرام والی کاپیوں کی فرمائشی پروگرام جاری و ساری ہے زرائع کے مطابق والدین کی جانب سے شکایات درج کرائیں گئیں کے 120 والی کاپی مونوگرام کے ساتھ 180 روپے میں مخصوص بک شاپ سے خریدیں اور 200 والا رجسٹر اچھی کوالٹی کا مونوگرام کا 400 روپے کا خریدنا پڑھ رہا ہے اس تمام صورتحال میں پرائیویٹ اسکولوں کے خلاف کوئی بھی کاروائی عمل میں نا آنا افسوس کی بات ہے والدین کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ اسکولوں کی بھاری بھر کم فیسوں کے ساتھ اب مہنگے داموں مونو گرام والی درسی کتب اور کاپیاں خریدنا مجبوری بن گئی ہے ہر سال ایسے مخصوص اسکول اپنی من مانی جاری رکھتے ہیں زرائع کے مطابق مخصوص اسکولوں کے کورس کاپی اور دیگر یونیفارم فروخت کرنے والے دوکانداروں نے بتایا کہ ایسے اسکول 30 سے 40 فیصد کمیشن وصول کرتے ہی۔ جبکہ متعدد پرائیویٹ اسکول نے اپنی ہی دوکانداری سجا لی ہے جہاں سے طلبہ وطالبات کو یونیفارم کاپی کتابیں خریدنے پر مجبور کیا جاتا اس حوالے سے جب اپسما کے ڈویژنل صدر فیصل خان زئی سے موقف لیا تو انکا کہنا تھا کہ ایسے پرائیویٹ اسکولوں کی نشاندہی کی جائے جو خلاف ورزی کررہے ہیں انھوں نے کہا ایسے دوکانداروں سے بھی جلد ایک میٹنگ کی جائے گی جو مہنگے داموں درسی کتب اور کاپیاں اور یونیفارم بنا رہے ہیں انھوں نے کہا کہ وزیر تعلیم کے احکامات کی خلاف ورزی جہاں دیکھی جائے گی اس اسکول انتظامیہ سے باز پرس کے ساتھ کاروائی عمل میں لائی جائے گی

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
52 − = 45