اعلامیہ: شوکت جتوئی، صدر حیدرآباد (ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان) ​حیدرآباد انتظامیہ کا نیا نوٹیفیکیشن: ڈیری فارمرز کا معاشی استحصال کسی صورت قبول نہیں


اعلامیہ: شوکت جتوئی، صدر حیدرآباد (ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان)
​حیدرآباد انتظامیہ کا نیا نوٹیفیکیشن: ڈیری فارمرز کا معاشی استحصال کسی صورت قبول نہیں
​حیدرآباد کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دودھ کی قیمتوں کے حوالے سے جاری کردہ حالیہ نوٹیفیکیشن ڈیری فارمرز کے زخموں پر نمک پاشنے کے مترادف ہے۔ بطور صدر ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن (DCFA) حیدرآباد، میں اس غیر منصفانہ فیصلے کو یکسر مسترد کرتا ہوں۔
​حقیقت بمقابلہ نوٹیفیکیشن:
​انتظامیہ نے اے سی کے کمروں میں بیٹھ کر فارمر کے لیے 200 روپے فی لیٹر کی قیمت طے کر دی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ چارے، ونڈے، بجلی اور لیبر کے اخراجات ملا کر دودھ کی پیداواری لاگت 270 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔
​کیا انتظامیہ ہمیں یہ بتا سکتی ہے کہ 70 روپے فی لیٹر کا خسارہ کون پورا کرے گا؟
​کیا فارمر اپنے جانور بیچ کر یا اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر شہر کو سستا دودھ فراہم کرے؟
​ہمارا واضح موقف:
​ہم انتظامیہ کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ جب تک پیداواری لاگت کو مدِ نظر رکھ کر قیمتیں طے نہیں کی جاتیں، تب تک فارمنگ کا شعبہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ یہ نوٹیفیکیشن فارمرز کو کاروبار بند کرنے اور جانور قصائیوں کو فروخت کرنے پر مجبور کر رہا ہے، جس کا حتمی نقصان عوام کو دودھ کی قلت کی صورت میں اٹھانا پڑے گا۔
​مطالبات:
​فوری نظرثانی: ڈپٹی کمشنر حیدرآباد اس نوٹیفیکیشن کو فوری واپس لیں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کر حقیقت پسندانہ قیمت مقرر کریں۔
​پیداواری لاگت کا تحفظ: دودھ کی قیمت کو پیداواری اخراجات سے جوڑا جائے تاکہ فارمر کی بقا ممکن ہو۔
​انتظامی مداخلت کا خاتمہ: مارکیٹ کو آزاد کیا جائے تاکہ رسد اور طلب کی بنیاد پر منصفانہ قیمتیں طے پا سکیں۔
​ہم حکومتِ سندھ اور ضلعی انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہیں کہ اگر ڈیری فارمرز کا معاشی استحصال بند نہ کیا گیا تو ہم اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔
​شوکت جتوئی
صدر حیدرآباد
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن (DCFA) پاکستان

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
42 − 34 =