
کراچی(اسٹاف رپورٹر) قائد حزب اختلاف بلدیہ عظمیٰ کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ اور جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤن چیر مینوں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں سندھ سولڈویسٹ مینجمنٹ کی کار کرد گی کو انتہائی بد ترین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس ادارہ کی نا اہلی و ناقص کارکردگی نے پورے کراچی کو ایک بڑی کچرا کنڈی میں تبدیل کر دیا ہے۔ ٹاؤن چیئر مینوں نے حکومت سندھ کی جانب سے43ارب روپے سالانہ کے بھاری بجٹ کی فراہمی کے باوجود صفائی اور کچرا اُٹھانے کے نظام کی ناکامی پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ نہ گھروں سے کچرا اُٹھایا جار ہاہے اور نہ ہی گلی محلوں اور سڑکوں کی با قاعد ہ صفائی کا انتظام موجود ہے،انتہائی نا کافی اور غیر پیشہ ورانہ افرادی قوت اور مشینری کی وجہ سے جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور نالے بھی کچروں سے بھر گئے ہیں‘ جس کی وجہ سے علاقوں میں تعفن پیدا ہو رہا ہے جو بیماریاں پھیلنے کا سبب بن رہا ہے۔ٹاؤ ن چیئر مینوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت سندھ اس معاملہ میں ہنگامی نوعیت کے اقدامات کرے۔آئین پاکستان، سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں تمام بلدیاتی امور ٹاؤن میونسپل کارپوریشن کے حوالے کئے جائیں اور سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کو فوری تحلیل کر کے صفائی ستھرائی کا کام ٹاؤنز کے حوالے کیا جائے،نئے معاہد ے ٹاؤن کے ساتھ کئے جائیں اور ٹھیکیداروں کی موجود ہ ادائیگیاں ٹاؤن اور یوسی چیئر مینز کی تصدیق سے مشروط کی جائیں۔ بورڈ کی 12 سالہ کار کردگی کا فرانزک آڈٹ کر ایا جائے۔کرپشن اور نا اہلی کے مرتکب فراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ 2014 اور پھر 2021 میں سندھ اسمبلی سے پاس شدہ قانون کے تحت گھروں سے کچرا وصول کرنے سے لے کر کراچی سے باہر لینڈ فل سائٹ تک کچرا پہنچانے کا نظام ڈسٹرکٹ کارپوریشن اور ٹاؤن کارپوریشن سے لے کر حکومت سندھ کے ماتحت محکمہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے سپر د کر دیا گیا تھا اور میئر کو بورڈ کا چیئر مین مقر ر کیا گیا۔ بورڈ کو اس مد میں بھاری رقومات ادا کی جارہی ہیں اور وہ ٹھیکیدار کمپنیوں کے ذریعے صفائی کا نظام چلانے کا دعویدار ہے، ایک تخمینہ کے مطابق جور قم صفائی کے نظام پر خرچ کی جارہی ہے وہ فی یوسی ایک کروڑ 8 لاکھ روپے ماہانہ کی رقم بنتی ہے جو بورڈ کی ناقص کارکردگی کے مقابلے میں حیرت انگیز حد تک زیادہ ہے جبکہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی نا اہلی کے سبب ٹاؤن اور یوسیز بھی اس مد میں ایک خطیر رقم خرچ کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ تمام محکمہ جو حکومت سندھ کی جانب سے مئیر کراچی کی سربراہی میں دیئے گئے ہیں وہ بدترین کا کردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان میں واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن، سندھ سالڈ و یسٹ مینجمنٹ اور کے ایم سی سرفہرست ہیں۔ ٹاؤن چیئر مینوں نے کہا کہ اگر یہ اختیارات اور وسائل ٹاؤن کو فراہم کر دیئے جائیں تو یونین کمیٹیوں کے منتخب نمائندوں کی نگرانی میں صفائی کے نظام میں سو فیصد بہتری آجائے گی۔ اس وقت نہ صرف عوام صفائی کے بدترین نظام سے شدید متاثر ہیں بلکہ ٹاؤن اور یونین کمیٹیاں اس کام کی ذمہ داری نہ ہونے کے باوجود اپنے وسائل صفائی ستھرائی کے کاموں پر لگانے پر مجبور ہیں۔
Load/Hide Comments



































