نام کتاب : ” ایک کہاوت ایک کہانی” مصنف : اطہر اقبال

نام کتاب : ” ایک کہاوت ایک کہانی”

مصنف : اطہر اقبال

ناشر : سید فرید حسین

قیمت : 800 روپے

کتاب ملنے کا پتہ:
فرید پبلیشرز ، 12 مبارک محل ، نزد مقدس مسجد ، اردو بازار ، کراچی

————————————-تبصرہ : محسن نقی
————————————-

اطہر اقبال میرے لڑکپن کے دوست ہیں ہم لیاقت آباد کراچی میں ستر اور اسی کی دہائی میں ایک ہی محلے میں رہتے تھے جب ہم آٹھویں کلاس کے طالب علم تھے، پھر ہم دونوں پہلے کراچی میں ہونے والے ورائٹی پروگرام (فنگشن), میں کامیڈی ، گلوکاری کرتے رہے پھر ریڈیو پاکستان کراچی کے پروگرام بزم طلباء میں مزاحیہ خاکے لکھتے اور صداکاری بھی کرتے رہے اس وقت محترم یاور مہدی مرحوم ، قمر جمیل مرحوم ،ضمیر علی مرحوم اور محترمہ خواجہ بیگم مرحومہ پروڈیوسر ہوا کرتے تھے جبکہ ان کے معاونین ہمارے پیارے قابل فخر دوست جناب یعقوب غزنوی ،جناب عزیر احمد مدنی ،جناب مرزا یاسین بیگ ہوا کرتے تھے جو دور جدید کے نامور صحافی ،مزاح نگار اور شاعر ہیں، میں اور اطہر اقبال بھی دوسرے دوستوں کی طرح بزم طلباء کے پروگرام میں حصہ لیتے رہے پھر میں کراچی ٹی وی اسٹیشن سے بطور چائلڈ سٹار ڈراموں میں اداکاری کرنے لگا ٹی وی پر مجھے متعارف کروانے والے معروف اداکار شہزاد رضا بھائی تھے اس دوران اطہر اقبال نوائے وقت اور دیگر اخبارات میں بچوں کے صفحات پر دلچسپ کہانیاں تحریر کرتے رہے پھر میں محکمہ تعلیم اور اطہر اقبال کراچی میٹرو پولیٹن میں ملازمت کرنے لگے 1993 میں چند مہینوں کے فرق سے ہماری دونوں کی ہی ارینج میرج ہوئ ، اس کے بعد میں بھی نثر نگاری، مزاح نگاری ، فوٹوگرافی اور رپورٹنگ کی طرف بڑھا مگر اطہر اقبال نے نثر پر اتنی محنت کی کہ شاہکار کتب منظر عام پر لے آئے ان کی شروع کی بہترین کتب میں سے ایک کتاب ” ایک کہاوت ایک کہانی” ہے اس کے بعد اطہر اقبال نے ” ایک محاورہ ایک کہانی” “فرار سے گرفتاری تک” سفر نامہ “سواد سوات” سفر نامہ ” جھیل سیف الملوک تک ” ریڈیو پاکستان کراچی اسٹیشن سے نشر ہونے والے اطہر اقبال کے لکھے ہوئے مزاحیہ خاکوں پر مشتمل کتاب ” ریڈیائی خاکے ” حج پر مشتمل سفر نامہ ” مسافر حرم کا ” کتابیں تحریر کیں جب کہ مزید کتابیں ابھی زیرِ طبع ہیں – اطہر اقبال کا تعارف پیش خدمت ہے ۔
اطہر اقبال یکم اپریل 1967 کو کراچی میں پیدا ہوئے ،تعلیم کراچی میں ہی حاصل کی ، بلدیہ عظمیٰ کراچی میں ملازمت اختیار کر لی تا حال بلدیہ عظمیٰ کراچی سے ہی وابستہ ہیں اور مختلف عہدوں پر فائز رہے ، دوران ملازمت بلدیہ عظمیٰ کراچی میں پرسنل اسٹاف آفیسر میٹرو پولیٹن کمشنر سیکرٹریٹ ، ڈائریکٹر میڈیا کوآرڈینیٹر میٹرو پولیٹن کمشنر سیکرٹریٹ ، ڈائریکٹر/سیکرٹری ڈپٹی میئر سیکرٹریٹ ، ڈائریکٹر سٹی انسٹی ٹیوٹ آف امیج مینیجمینٹ ، ڈائریکٹر نَفاذِ اردو ، ایڈیشنل ڈائریکٹر میڈیا مینجمنٹ سمیت مختلف صوبائی وزراء اور مشیران کے ساتھ بھی بطور پی آر او کام کرتے رہے ، ادب سے گہرا تعلق ہے ، اب تک سات کتابیں شائع ہو کر منظر عام پر آ چکی ہیں ، بچوں کے ادب پر انھوں نے بہت لکھا ہے ، ان کی مقبول عام کتاب ” ایک کہاوت ایک کہانی” نے بہت زیادہ شہرت حاصل کی ہے ، اس کتاب کو حکومت پاکستان کے ذیلی ادارے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے انعام سے بھی نوازا ہے جبکہ مذکورہ کتاب پاکستان کے مختلف شہروں کے اسکولوں سمیت دیار غیر کے اسکول میں بھی پڑھائی جاتی ہے ، کتاب ” ایک کہاوت ایک کہانی” کو فیڈرل گورنمنٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن (FGEI) سمیت صوبائی حکومت کے محکمہ تعلیم نے بھی اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے مفید قرار دیا ہے جبکہ ” ایک کہاوت ایک کہانی” پاکستان کے بڑے اخبارات سمیت دیگر ممالک سے شائع ہونے والے اردو اخبارات میں بھی سلسلہ وار شائع ہوتی رہی ہے ، اطہر اقبال کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کی ایک کتاب” مسافر حرم کا” جو حج کے سفر نامے پر مشتمل ہے مدینہ منورہ کی لائیبریری میں بھی رکھی گئی ہے ، ان کی کتاب” ایک کہاوت ایک کہانی ” نے جہاں بے پناہ مقبولیت حاصل کی وہیں ان کی دیگر کتابیں” ایک محاورہ ایک کہانی ” ، ” ریڈیائی خاکے ” ، ” جھیل سیف الملوک تک ” اور “سوات سواد” بھی مقبولیت حاصل کر چکی ہیں، اطہر اقبال ان دنوں” سونے کی چڑیا کراچی” کے موضوع پر کام کر رہے ہیں اور بقول ان کے یہ ایک تحقیقی کتاب ہے، اس لیے اس کی اشاعت میں وقت لگے گا۔

اطہر اقبال کی تصانیف کے بارے میں اہلِ دانش کی آراء
ان کی کتاب ” ایک کہاوت ایک کہانی” سے لی گئیں ہیں جوپیش خدمت ہیں:

ڈاکٹر جمیل جالبی : بچوں کے لیے کہاوتوں میں نئ دلچسپی پیدا کرنے کا یہ ایک مفید و موثر طریقہ ہے، ” ایک کہاوت ایک کہانی” میں شامل کہانیاں عام طور پر دلچسپ ہیں اور انسانی فکر کے رنگارنگ زاویوں کی ترجمان ہیں۔

جناب احمد ندیم قاسمی : اطہر اقبال نے مشہور کہاوتوں کے گرد دلچسپ کہانیوں کا تانا بانا بن کر بچوں کے ادب میں ایک لائق تحسین اضافہ کیا ہے، اس طرح بچے کہانیوں سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں اور ان کی معلومات میں بھی اضافہ ہوتا ہے، پھر اطہر اقبال کا اسلوب تحریر بھی عمدہ ہے، وہ سلیس زبان استعمال کرتے ہیں اور یوں ہر کہاوت اور ہر کہانی بچے کی یادداشت کا حصہ بن جاتی ہے۔

جناب قمر جمیل : یہ اس زمانے کی بات ہے جب میں ریڈیو پاکستان کراچی اسٹیشن کے پروگرام” بزم طلباء” کا انچارج تھا اور وہاں یہ ادبی خدمت انجام دے رہے تھے، اطہر اقبال طلباء میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے آج میں آپ سے ان کا تعارف دوبارہ کروا رہا ہوں، آپ ان کی ادبی اور تخلیقی سرگرمیوں سے براہ راست واقف ہو جائیں گے۔

جناب مستنصر حسین تارڑ : اطہر اقبال بچوں کے لیے کہانیاں لکھتے ہیں تو انہوں نے اپنی کاغان کہانی بھی بچوں جیسی معصومیت سے سنائی ہے، سادہ اور پرکشش۔ انہوں نے ہر بلندی، ہر نشیب اور ہر جھیل کو بچوں جیسی حیرت سے دیکھا اور بیان کیا ہے سفرنامہ” جھیل سیف الملوک تک” کی اشاعت سے کاغان جانے کی خواہش رکھنے والے بہتوں کا بھلا ہو گا۔

جناب امجد اسلام امجد : اطہر اقبال صاحب کی تحریر کردہ” ایک کہاوت ایک کہانی” نظر سے گزری تو دل بہت خوش ہوا کہ انہوں نے اس بہت اہم موضوع پر نہ صرف قلم اٹھایا ہے بلکہ بڑی خوبصورتی اور ہنر مندی سے اس پورے معاملے کو سنبھالا ہے، اب جو اس کتاب کا تیسرا حصہ شائع ہو رہا ہے تو ایک بار پھر انہیں داد دینے کو جی چاہتا ہے کہ اردو ادب اور اردو زبان کے ان طالب علموں کے لیئے جو اہل زبان نہیں ہیں اور جن کے گھروں میں اردو نہیں بولی جاتی یہ کہاوتیں اور ان کا پس منظر جاننا ایک دلچسپ اور علم افروز تجربہ ہے ۔

جناب محمود شام : بچوں کے لیے خصوصی طور پر دوسری زبانوں میں بہت کام کیا جاتا ہے، بچے ہمارا مستقبل ہیں، ہمارے آنے والے دنوں کی بنیاد ہیں، سب سے زیادہ باخبر ہونا ان کا حق ہے، ہماری ضرورت بھی ہے، ہمارا فرض بھی ۔ اطہر اقبال نے اس ضرورت کو پورا کرنے اور اس فرض کی ادائیگی کے لیئے یہ کتاب” ایک کہاوت ایک کہانی” بڑی محنت سے اور بڑے دلچسپ انداز سے لکھی ہے اور بچوں کو بہت خوبصورتی سے سمجھایا ہے کہ کس کہاوت کے کیا معنی بن سکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اطہر اقبال صاحب میں وہ جذبہ اور ہمت موجود ہے جو بچوں کے لیئے ان سوالات کے جوابات سادہ اور آسان زبان میں بتا سکتے ہیں اس طرح وہ بچوں تک وہ ساری معلومات پیارے پیارے لہجے اور انداز میں پہنچا سکتے ہیں جو ان کے آگے بڑھنے اور عملی زندگی میں کامیابیاں حاصل کرنے کے لیئے ضروری ہیں۔

جناب یونس ہمدم : اطہر اقبال نے مقبولِ عام کہاوتوں کو بنیاد بنا کر جس طرح کہانیاں تحریر کی ہیں وہ اس لحاظ سے بھی ایک اچھوتا اور علمی کام ہے کہ بچوں کو نت نئی اور مزے مزے کی کہانیوں کے ساتھ ساتھ کہاوتوں کا استعمال اور ان کے معنی سے بھی آگاہی حاصل ہو رہی ہے اور اس طرح کا کام یقیناً قابل ستائش ہے۔ اطہر اقبال لکھنے کے معاملے میں بڑا موڈی ہے لکھنے پر آتا ہے تو ایک ہی وقت میں کئ صفحات کہانیوں سے بھر جاتے ہیں وگرنہ صفائی کے نمایاں نمبروں کے ساتھ اپنی اصل حالت میں برقرار رہتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اطہر اقبال لکھتے اور بچوں کے ادب کے فروغ میں اسی طرح سنجیدہ رہیں کیونکہ بچوں کا ادب ہی بڑوں کے ادب کی بنیاد بنتا ہے ۔

محترمہ پریتا واجپئی ( لکھنؤ بھارت) : کراچی میں ہونے والے عالمی مشاعرے میں شرکت کے لیئے 2011 میں کراچی آمد کے موقع پر اطہر اقبال کی کتاب ” ایک کہاوت ایک کہانی” نظر سے گزری ، اطہر اقبال نے بچوں کے لیئے جو کچھ لکھا ہے وہ ایک قیمتی سرمایہ ہے ، ان کی کتاب بچوں کی رہنمائی کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے اس کتاب کو پڑھ کر کہاوتوں اور محاورات کا استعمال اور اس کے معنی سے بچے بخوبی واقف ہو سکیں ۔

جناب حسن کاظمی (لکھنؤ بھارت) : 2011 “ساکنانِ شہر قائد” کے زیر اہتمام مشاعرے میں شرکت کے لیے کراچی آنا ہوا تو اطہر اقبال سے ملاقات ہوئی، اطہر اقبال پر لکھنے کے لیے میرے پاس الفاظ چھوٹے اور کم محسوس ہو رہے ہیں حقیقت میں بچوں کے موضوع پر قلم اٹھانا کوئی معمولی کام نہیں ہے اطہر اقبال سے مل کر آپ ان کی سنجیدگی، شائستگی اور انکساری سے متاثر ہوئے بنا آپ رہ نہیں سکتے، ” ایک محاورہ ایک کہانی” کو پڑھ کر انسان اپنے ماضی میں گُم ہو جاتا ہے، میں اطہر اقبال کے روشن مستقبل اور کام یابی کے لیے دعا گو ہوں اور اللہ تعالٰی کا شُکر ادا کرتا ہوں کہ پاکستان میں بھی میرا ایک اور ذہین، مہذب اور دانش ور دوست مل گیا –

پیارے دوستوں اطہر اقبال کی کتاب ” ایک کہاوت ایک کہانی” کو جو مقبولیت حاصل ہوئی ہے وہ ان کی بہت بڑی خوش قسمتی ہے ان کی محنت اور لگن کو دیکھتے ہوئے اللہ نے انہیں اس کتاب کے ذریعے عزت و شہرت دلائ ہے کسی بھی مصنف کے لیے ایسی کامیابی کسی نعمت سے کم نہیں ، سچ یہ بھی ہے کہ اطہر اقبال کی کتاب ” ایک کہاوت ایک کہانی” کو پڑھ کر قاری اپنے ماضی میں گم ہو جاتا ہے ، بچپن سے اب تک جو کہاوتیں زبان و بیان کا حصہ بنیں ان پر کبھی ہماری نظر نہیں گئ ، مگر اطہر اقبال نے اس کو بھی سنجیدگی سے سوچا اور یہ ایک اہم تصنیف کی شکل میں ہمارے زیر نظر ہے ، میں اپنے لڑکپن کے پیارے دوست کی اس شاندار کامیابی پر بہت خوش ہوں اور ان کو بہت بہت مبارک باد پیش کرتا ہوں ، ان کے مستقبل اور تمام تر کامیابیوں کے لیئے دعا کرتا ہوں اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ پاکستان میں میرا بھی ایک ذہین ، مہذب ، دانشور دوست ہے جو مجھے بے حد عزیز ہے اللہ ہماری محبتوں کو قائم و دائم رکھے آمین ، پیارے دوستوں اطہر اقبال جیسے میرے دیگر ریڈیو ،ٹی وی ،اسٹیج، تھیٹر ،فلم کے بہت پیارے پیارے دوست ہیں ، جن میں یعقوب غزنوی ، عزیر احمد مدنی ، نفیس احمد خان ، سہیل منور ، عمران شیروانی ، شہزاد رضا ، آفتاب احمد خان ، عارف افضال عثمانی ، نعیم قریشی ، حنیف عابد ،انیق احمد، خالد معین ، شارق نقوی ، خورشید احمد ، شاہدمسرور ، ادریس غازی ، اسمعیل اثر ، اظفر اوصاف ، لالہ سلیم ، محمد احمد، اقبال حیدر ندیم، اویس ادیب انصاری ، نذر حسین ، آدم راٹھور ، اقبال لطیف ، مرزا یاسین بیگ ، شاہد محی الدین ، اور دیگر بھی بہت سے نام ہیں اللہ نے مجھے دوستوں کی دولت سے مالامال کیا ہے مجھے ان تمام دوستوں پر فخر ہے یہ دوست مجھے بوڑھا ہونے نہیں دیتے ان کی وجہ سے میرابچپن اب بھی پچپن تک سلامت ہے میں تما دوستوں کے لیئے بھی بہت بہت دعا کرتا ہوں اللہ ہم سب دوستوں کو سلامت رکھے اور ہماری محبتوں کو قائم و دائم رکھے آمین ، اب آپ سے درخواست ہے کہ اطہر اقبال کی خوبصورت ترین کتاب ” ایک کہاوت ایک کہانی” خود بھی پڑھیں اور گھر اور خاندان کے بچوں کو بھی پڑھائیں اور دیگر بچوں کو جو رابطے میں ہوں ان کو یہ کتاب خرید کر تحفے میں دیں میں سمجھتا ہوں کتاب سے اچھا کوئی تحفہ ہو نہیں سکتا ، اپکی رائے کا منتظر رہوں گا –
آپکا اور صرف آپ کا ہی محسن نقی –

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
78 − 69 =