
ون پوائنٹ
نوید نقوی
گزشتہ سال مئی میں انڈیا کے ساتھ ہونے والے معرکہ حق میں پاکستان نے اپنی عسکری صلاحیتوں کو دنیا پر ثابت کر دیا تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ٹھیک ایک سال بعد پاکستان نے اپنی سفارتی و ثالثی کی صلاحیتوں کو بھی پوری دنیا سے منوا لیا ہے۔ ایران اور امریکا اسرائیل نے 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی جنگ، جس سے دنیا بھر کی معیشتوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ، سات اپریل تک جاری رہی، غزہ میں خون کی ہولی کھیلنے کے بعد امریکہ و اسرائیل کی ایران پرچڑھائی نے پوری دنیا کو ایک بار پھر اضطراب میں مبتلا کر دیا تھا۔ لیکن ایران کی ثابت قدمی نے امریکہ جیسی مغرور طاقت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا، چالیس روزہ جنگ کے بعد آخر کار پاکستان کی بھرپور سفارتی کوششیں رنگ لائیں اور عارضی جنگ بندی قائم ہوئی ، اس کے بعد اسلام آباد میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر جناب باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد اور جے ڈی وینس امریکی نائب صدر کی قیادت میں امریکی وفد نے اسلام آباد ٹاکس میں شرکت کی تھی، پوری دنیا نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا تھا کہ پاکستان نے دونوں فریقین کو ایک میز پر آمنے سامنے بٹھایا، مذاکرات تو کامیاب نہ ہو سکے لیکن پاکستان کے فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسز جناب سید عاصم منیر کی کاوشوں سے یہ جنگ بندی ختم نہ ہوئی۔ آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کئی بار آمنے سامنے آئے ہیں لیکن کوئی بڑی جھڑپ نہیں ہوئی ہے۔ حالیہ کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک چھوٹی سی غلط فہمی عالمی معیشت و امن کو تباہ کر سکتی ہے۔ یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ دہائیوں سے جنگ کی لپیٹ میں ہے اور اس میں سب سے بڑا کردار صیہونی رجیم کا ہے جس کی امن میں موت اور جنگ و جدل میں بقا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرق وسطیٰ صدیوں سے دنیا کی طاقت، وسائل اور سیاست کا مرکز رہا ہے۔ یہ خطہ ہمیشہ جنگ و جدل کا مرکز رہا ہے۔ مگر آج یہاں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بھرپور سفارتی کوششوں سے اس خطے کی فضاؤں میں بارود کی بو کی بجائے، سفارت کاری کی ٹھنڈی لہریں محسوس کی جا رہی ہیں۔ فلسطین کا مسئلہ ہو، ایران اور عرب ممالک کے اختلافات ہوں، شام اور یمن کی خانہ جنگی ہو یا اسرائیل کے ساتھ مسلسل تنازعات، اس خطے کے عوام ہمیشہ امن، ترقی اور استحکام کے خواب دیکھتے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر کوئی مسلم ملک اخلاص، غیر جانبداری اور تدبر کے ساتھ ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے تو وہ صرف وطن عزیز پاکستان ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ عالمِ اسلام کا اہم اور باوقار ملک ہے۔ پاکستان کے سعودی عرب، ایران، ترکی، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اکثر عالمی سطح پر ایک معتدل اور متوازن ریاست سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، امن اور بھائی چارے کا پیغام دیا ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان نے کئی حساس مواقع پر ثالثی اور سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا۔ پاکستان کی قیادت نے ہمیشہ کوشش کی کہ مسلم ممالک کے درمیان اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ یہی سفارتی حکمت عملی آج بھی مشرق وسطیٰ کے لیے امید کی کرن بن سکتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ مذاکرات، انصاف اور اعتماد سے قائم ہو سکتا ہے۔ پاکستان چونکہ دہشت گردی اور جنگ کے نقصانات خود بھگت چکا ہے، اس لیے وہ امن کی قدر بھی جانتا ہے اور اس کی اہمیت کو بھی سمجھتا ہے۔ یہی تجربہ پاکستان کو ایک ذمہ دار ثالث بناتا ہے۔
پاکستان کے عوام بھی ہمیشہ دنیا میں امن اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے خواہاں رہے ہیں۔ اگر پاکستان دانشمندی، صبر اور حکمت کے ساتھ سفارتی میدان میں فعال کردار ادا کرتا رہا تو مشرق وسطیٰ میں امن کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔ آج دنیا کو طاقت کی نہیں بلکہ تدبر کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان اپنی سفارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے تو وہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں امن، استحکام اور بھائی چارے کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ یہی وقت ہے کہ پاکستان امن کے سفیر کے طور پر آگے بڑھے اور دنیا کی قیادت کرے اور مودی جیسے حاسد دشمن کو دکھائے کہ مسائل کا حل جنگ نہیں، مکالمہ ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہائیوں سے دشمن امریکہ اور ایران کے درمیان امن کا دروازہ کھل رہا ہے یا پھر یہ صرف ایک عارضی وقفہ ہے؟
فروری 2026 کی جنگ کے بعد پاکستان کی ثالثی سے سیز فائر قائم ہے، مگر آبنائے ہرمز پر تناؤ اب بھی موجود ہے۔ صدر ٹرمپ نے 5 مئی کو بڑا فیصلہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کو گزارنے کا امریکی آپریشن پروجیکٹ فریڈم کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ یہ پاکستان اور سعودی عرب کی درخواست پر ہوا تاکہ مذاکرات کو موقع مل سکے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ چین کے دوران چین نے بھی ایران کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مذاکرات پر زور دیا ہے۔
ایران نے 14 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا ہے جس میں جنگ کا خاتمہ، پابندیاں ہٹانے اور آبنائے ہرمز کھولنے کی تجاویز ہیں۔ ایرانی نائب وزیرِخارجہ نے بھی ایران کی جانب سے جنگ کے مستقل خاتمے کیلئے پاکستان کو امریکہ کی نو نکاتی تجاویز کے جواب میں چودہ نکات پر مشتمل تجاویز بھیجنے کی تصدیق کردی گئی ہے۔ جس میں بنیادی زور جنگ کے خاتمے پر دیا گیا ہے، جبکہ اس سے قبل امریکہ نے اپنی تجویز میں دو ماہ کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ تمام معاملات 30دن کے اندر حل ہونے چاہئیں اور توجہ جنگ بندی میں توسیع کے بجائےجنگ کے خاتمےپرہونی چاہیئے۔ دیگر چند اہم تجاویز یہ ہیں کہ دوبارہ حملے سے دور رہنے کی ضمانت، ایران کے گرد و نواح سے امریکی فوجیوں کا انخلا، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگ کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے ہرجانے کی ادائیگی، ایران پر ہر قسم کی پابندیوں کا خاتمہ، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا اختتام، آبنائے ہرمز کے لئے ایک نیا طریقۂ کار جیسے امور شامل ہیں۔ دونوں فریق اب ایک فوری معاہدے پر غور کر رہے ہیں۔ جس میں دہائیوں سے جاری دشمنی فوری ختم، نیوکلیئر سائٹس پر اقوام متحدہ کی نگرانی، پابندیاں ہٹانا اور بحری نقل و حرکت بحال کرنے کی باتیں شامل ہو سکتی ہیں۔
مگر اس سب کے باوجود رکاوٹیں بھی بڑی ہیں۔ امریکہ میں صیہونی رجیم کا کافی اثر و رسوخ ہے اور نیتن یاہو امن کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ امریکہ، ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی 20 سالہ معطلی چاہتا ہے، جبکہ ایران صرف 3 سے 5 سال پر راضی ہے۔ اعتماد کی شدید کمی ہے اور ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران سنجیدہ نہ ہوا تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ اگر کوئی معاہدہ ہوا تو یہ عارضی نوعیت کا ہوگا، مکمل نیوکلیئر ڈیل نہیں بلکہ جنگ روکنے اور معاشی دباؤ کم کرنے والا سمجھوتہ۔ کسی معاہدے کی کامیابی کی صورت میں تیل کی قیمتیں گر سکتی ہیں اور خطے میں تناؤ کم ہوگا، ناکامی کی صورت میں آبنائے ہرمز دوبارہ بند ہونے کا سنگین خطرہ ہے۔
اگلے 48 گھنٹوں میں دونوں ممالک کا جواب فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر پر ہیں، کیونکہ اس دنیا میں وہ واحد شخصیت ہیں، جن کی بات صدر ٹرمپ سنتے بھی ہیں اور مانتے بھی ہیں۔
Load/Hide Comments

















