سروش حشمت لودھی سے زبیر چنہ تک


اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں کہ تعلیم و تحقیق کے شعبے میں سابق وائس چانسلر این ای ڈی یونیورسٹی انجینیئر سروشمت لودھی کا نام نہ صرف نہایت عزت اور احترام سے لیا جاتا ہے بلکہ انہیں ایک کامیاب شخصیت کا درجہ حاصل ہے اس کی وجہ ان کی قابلیت ذہانت اور صلاحیت ہے اب وہ اکثر وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے اچانک ہونے والے دوروں میں کراچی کی مشہور زمانہ بی ار ٹی کے جاری منصوبوں کی بریفنگ میں نظر اتے ہیں صبح سویرے موجود بھی ہوتے ہیں اور ان گراؤنڈ ان پٹ بھی دیتے ہیں اسی طرح سرکاری حلقوں میں ایک اور باوقار شخصیت زبیر چنا بھی اس پروجیکٹ کا اہم حصہ ہیں اور اج کل کافی سرگرم نظر اتے ہیں بلکہ وزیراعلی کو بریفنگ بھی دیتے ہیں مجھ سمیت اکثر لوگوں کو حیرت ہے کہ ان جیسے ذہین اور باکمال لوگوں کی موجودگی میں بھی بی ار ٹی پروجیکٹ اپنی تکمیل کے مراحل تیزی سے طے کیوں نہیں کر سکا اور اس کی رفتار کچھوے سے بھی کم کیوں ہے ؟اس پروجیکٹ کی بد نصیبی کیا ہے اسے کس کی نظر لگی اور اس میں کس کس کی غفلت اور لاپرواہی کو دوست دیا جائے اب تو سابقہ کا کنٹریکٹر کمپنی نے بھی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے انہوں نے وزیراعلی سے بھی گلے شکوے کیے ہیں اور سابق نگران وزیر یونس ڈھاکہ بھی اس حوالے سے سوشل میڈیا پر خبروں میں ہیں اور اس پروجیکٹ کی رفتار کا پنجاب کے مختلف منصوبوں کی رفتار سے موازنہ پیش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اس منصوبے کا مزید مذاق اڑایا جا رہا ہے ۔اس معاملے میں سندھ کے ذہین تجربہ کار اور قابل افسران اور شخصیات کو اگے انا چاہیے اور اس منصوبے کو تیزی سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔

=====================

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا بی آر ٹی ریڈ لائن اور شاہراہِ بھٹو منصوبوں کا دورہ، تعمیراتی کام تیز کرنے کی ہدایت

کراچی (10 مئی 2026ءَ) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اتوار کے روز کراچی کے دو بڑے زیر تعمیر ترقیاتی منصوبوں بی آر ٹی ریڈ لائن لا نمائش تا موسمیات مکسڈ ٹریفک کوریڈور اور شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے کا تفصیلی دورہ کیا اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی لائی جائے اور منصوبوں کی تکمیل میں حائل رکاوٹیں فوری دور کی جائیں۔ صوبائی وزیر سعید غنی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، کمشنر کراچی حسن نقوی، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، واٹر بورڈ کے ایم ڈی احمد صدیقی، کے الیکٹرک، سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی)، ایف ڈبلیو او اور ٹرانس کراچی کے اعلیٰ حکام کے ہمراہ وزیراعلیٰ سندھ نے منصوبوں کے مختلف حصوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا اور زور دیا کہ شہریوں کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ طویل عرصے سے جاری تعمیراتی کاموں کے باعث کراچی کے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، اس لیے تمام متعلقہ ادارے آئندہ تین ماہ کے دوران ٹریفک مینجمنٹ، نکاسی آب اور سڑکوں کی بحالی میں واضح بہتری یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ہفتے کے دوران بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کا میرا چوتھا دورہ ہے کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ ہر رکاوٹ ختم ہو اور تمام اہداف بروقت حاصل کیے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہر ہفتے ذاتی طور پر منصوبے کی نگرانی کریں گے۔

بی آر ٹی ریڈ لائن مکسڈ ٹریفک کوریڈور
وزیراعلیٰ سندھ نے بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کا دورہ دائود انجنیئرنگ یونیورسٹی سے شروع کیا اور نیپا، سوک سینٹر، اردو یونیورسٹی، پرانی سبزی منڈی اور دیگر زیرِ تعمیر حصوں تک جاری کاموں کا جائزہ لیا۔ سی ای او ٹرانس کراچی زبیر چنہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو مکسڈ ٹریفک لینز، یوٹیلیٹی شفٹنگ اور نکاسی آب کے منصوبوں پر بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حکام کو ہدایت کی کہ مسافروں کی سہولت کے لیے مکسڈ ٹریفک لینز کی بحالی کا عمل تیز کیا جائے اور تمام ادارے باہمی رابطے کے ساتھ کام کرتے ہوئے تعمیراتی رکاوٹیں دور کریں۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ نمائش سے موسمیات تک مکسڈ ٹریفک لین پر اسفالٹ پیچ ورک مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ 1700 میٹر سے زائد سب گریڈ کا کام بھی مکمل ہوچکا ہے۔ انہیں مزید آگاہی دیتےہوئے بتایا گیا کہ ایگریگیٹ بیس، ڈرینج پائپ لائنز اور واٹر لائن شفٹنگ کا کام تیزی سے جاری ہے۔ حکام کے مطابق 48 انچ قطر کی واٹر لائن کی منتقلی آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جبکہ مرکزی ایم ایس واٹر لائن پر 63.64 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سروس روڈز کے اطراف باکس ڈرینز اور پائپ ڈرینز کی تعمیر کا جائزہ لیا اور نکاسی آب کے کاموں میں اضافی نائٹ شفٹس چلانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے یوکے اپارٹمنٹس کے قریب زیر تعمیر فلائی اوور اور یو ٹرن کا بھی معائنہ کیا اور ہدایت دی کہ وہاں ڈائیورژن کا کام آئندہ ایک ہفتے میں مکمل کیا جائے۔ سید مراد علی شاہ نے ممتاز منزل کے قریب زیر تعمیر فلائی اوور پر فوری کام شروع کرنے کا حکم دیا اور نیپا کے اطراف سڑکیں کشادہ کرنے اور رکاوٹیں ہٹانے کی ہدایت دی تاکہ ٹریفک کا دباؤ کم ہوسکے۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ ان کی گزشتہ ہفتے کی ہدایات پر موسمیات فلائی اوور اور کراچی یونیورسٹی یو ٹرن پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے دونوں منصوبے ایک ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت دی۔

فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) حکام نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ریڈ لائن کوریڈور پر ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے اور بروقت تکمیل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ بریفنگ کے مطابق مکسڈ ٹریفک لین سب گریڈ ورک پر 6.64 فیصد، ایگریگیٹ بیس ورک پر 2.90 فیصد جبکہ 600 ملی میٹر پائپ ڈرین کے کام پر 10.70 فیصد پیش رفت ہوچکی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ تعمیراتی مقامات پر باقاعدگی سے پانی کا چھڑکاؤ کیا جائے تاکہ گرد و غبار پر قابو پایا جاسکے اور شہریوں کو کم سے کم پریشانی ہو۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ میرا مقصد کراچی کے عوام کو جلد از جلد عالمی معیار کا ٹرانسپورٹ نظام فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ کراچی کے مستقبل کے شہری ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی بنیاد ہے۔

شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے
بعد ازاں وزیراعلیٰ سندھ نے شاہ فیصل انٹرچینج سے کاٹھوڑ انٹرچینج تک شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے منصوبے کا دورہ کیا اور مختلف انٹرچینجز اور فلائی اوورز پر جاری کاموں کا جائزہ لیا۔ دورے کا آغاز شاہ فیصل کالونی کے قریب عظیم پورہ فلائی اوور سے کیا گیا، جو شاہراہِ بھٹو سے ایئرپورٹ جانے والی ٹریفک کی سہولت کے لیے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے یاد دلایا کہ انہوں نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو عظیم پورہ فلائی اوور 100 دن میں مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی اور کہا کہ اس میں سے 61 دن گزر چکے ہیں۔ میئر کراچی نے یقین دہانی کرائی کہ منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل کر لیا جائے گا۔ مراد علی شاہ نے ڈملوٹی اور دمبا گوٹھ انٹرچینجز کا بھی معائنہ کیا اور حکام کو ہدایت دی کہ باقی ماندہ کام ایک ہفتے میں مکمل کیے جائیں۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر نیاز سومرو نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ شاہراہِ بھٹو منصوبے پر مجموعی طور پر 93 فیصد فزیکل کام مکمل ہوچکا ہے اور منصوبہ 30 جون 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ 38 کلومیٹر طویل یہ ایکسپریس وے جام صادق انٹرچینج سے کاٹھوڑ انٹرچینج تک پھیلا ہوا ہے اور اس کا آغاز 12 مئی 2022ء کو کیا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ قائدآباد انٹرچینج سے آر ڈی 19 تک اضافی چار کلومیٹر پل کی تعمیر اور رہائشیوں کی بے دخلی سے بچنے و اراضی کے حصول کے مسائل حل کرنے کے لیے روٹ میں تبدیلیوں کے باعث منصوبے کے دائرہ کار میں توسیع کی گئی۔ حکام کے مطابق شاہراہ بھٹو ایکسپریس وے کے تمام پل مکمل ہوچکے ہیں، صرف آر ڈی 36 پر لنک روڈ کاز وے برج کا تقریباً 50 فیصد کام باقی ہے۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ایکسپینشن جوائنٹس پر 80 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے جبکہ باقی کام آئندہ 10 دن میں مکمل کر لیا جائے گا۔ اسی طرح اسفالٹ وئیرنگ کورس کا 85 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ ٹول پلازہ مکمل ہوچکا ہے جبکہ آر ڈی 37 سے آر ڈی 38 تک باقی کام آئندہ 15 دن میں مکمل کر لیا جائے گا۔ سید مراد علی شاہ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ شاہراہِ بھٹو کے تمام باقی ترقیاتی کام مئی کے تیسرے ہفتے تک مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہِ بھٹو کو کراچی پورٹ سے ملانے والے منصوبے کا سنگِ بنیاد ایکسپریس وے کی افتتاحی تقریب کے ساتھ رکھا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ کراچی کے انفراسٹرکچر منصوبے غیر ضروری تاخیر کے بغیر مکمل کیے جائیں تاکہ شہری بہتر سفری سہولیات، کم سفر کے وقت اور جدید ٹرانسپورٹ نظام سے مستفید ہوسکیں۔
عبدالرشید چنا، ترجمان وزیراعلیٰ سندھ
#SindhCMHouse
==========================

کراچی / وزیراعلیٰ ہاؤس/ بدھ، 13 مئی 2026ء بمطابق 25 ذو القعدہ 1447ھ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کراچی میگا ڈولپمنٹ پروجیکٹس پر اجلاس

اجلاس میں وزیر بلدیات، وزیر منصوبہ بندی و ترقی، چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری، میئر کراچی، کمشنر کراچی، چیئرمین پی اینڈ ڈی، سیکریٹری بلدیات، سیکریٹری خزانہ، سی ای او واٹر بورڈ، ڈی جی کے ڈی اے اور دیگر ٰ حکام کی شرکت

وزیراعلیٰ سندھ کا کراچی میں ٹریفک کی روانی ، سڑکوں کی بحالی اور ٹرانسپورٹ نظام سمیت 10 میگا پروجیکٹس کا جائزہ

وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کے بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے سے زائد منظوری دے دی

کراچی کی بڑھتی آبادی اور ٹریفک کے دباؤ کے پیش نظر مربوط منصوبہ بندی اور ترقیاتی منصوبوں پر فوری کام کریں، وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت

وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کے ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل کرنے کی ہدایت

کراچی کے ٹریفک مسائل کے حل کیلئے طویل المدتی منصوبہ بندی ضروری ہے، وزیراعلیٰ سندھ

تعمیراتی کام شفافیت اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے، وزیراعلیٰ سندھ

ناقص کام اور ترقیاتی کاموں میں تاخیر ہرگز برداشت نہیں، وزیراعلیٰ سندھ

شہریوں کو محفوظ اور جدید سڑکوں کی سہولت فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے، وزیراعلیٰ سندھ

تمام محکمے باہمی تعاون اور رابطہ بہتر بنائیں، وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت

اجلاس میں نارتھ کراچی پاور ہاؤس چورنگی پر 2.5 ارب روپے کے مجوزہ فلائی اوور منصوبے کا جائزہ

وزیراعلیٰ سندھ کو اجلاس میں وزیربلدیات کی بریفنگ

636 میٹر طویل دو طرفہ فلائی اوور مختلف اطراف کی ٹریفک کی روانی بہتر بنائے گا، سید ناصر حسین شاہ

نیا فلائی اوور فور کے چورنگی اور اطراف کی ٹریفک کو الگ کرکے دباؤ کم کرے گا، سید ناصر حسین شاہ

ایلیویٹڈ اسٹرکچر سے 80 فیصد ٹریفک گزرے گی، مقامی ٹریفک سروس روڈز استعمال کرے گی، ناصر شاہ

اجلاس میں کےفور چورنگی فلائی اوور کے 2.377 ارب روپے کے منصوبے کا جائزہ

سرجانی ٹاؤن جانے والی 70 فیصد ٹریفک کے باعث کےفور چورنگی پر دباؤ بڑھ جاتا ہے،میئر کراچی

کےفور چورنگی فلائی اوور منصوبے سے سرجانی ٹاؤن جانے والی ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی، مرتضیٰ وہاب

دونوں منصوبے جلد مکمل کریں اور مستقبل کے ٹریفک مسائل مدنظر رکھے جائیں، وزیراعلیٰ سندھ

اجلاس میں کلفٹن بلاکس 1 تا 5 میرین ڈرائیو روڈ بحالی کے 60 کروڑ روپے منصوبے کا جائزہ

منصوبے میں سڑکوں کی مرمت، نکاسیٔ آب اور کوسٹل کوریڈور کی بحالی شامل

سڑکوں کی مرمت کے ساتھ نکاسیٔ آب کے نظام کو بھی بہتر بنایا جائے، وزیراعلیٰ سندھ

مون سون بارشوں میں اربن فلڈ اور سڑکوں کو تباہی سے بچا جا سکے؛ وزیراعلیٰ سندھ

ملیر کورٹ (عظیم پورہ) تا مرتضیٰ چورنگی (لانڈھی) متبادل کوریڈور منصوبے پر میئر کراچی کی بریفنگ

یہ کوریڈور منصوبہ 58 کروڑ 20 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے، میئر کراچی

منصوبے سے ٹریفک شاہراہِ بھٹو منتقل ہونے پر رہائشی علاقوں کا دباؤ کم ہوگا،میئر کراچی

منصوبہ منظوری کیلئے فوری پیش کیا جائے، وزیراعلیٰ سندھ کی وزیر بلدیات کو ہدایت

اجلاس میں مہر النساء اسپتال روڈ کی 66 کروڑ روپے سے تعمیرِ نو منصوبے کا جائزہ

کورنگی ڈھائی نمبرتا کریک ایئربیس تک 66 کروڑ روپے سے سڑک کی تعمیرِ نو کی جائے گی، میئر کراچی

منصوبے سے اسپتالوں، صنعتی علاقوں اور اہم تنصیبات تک رسائی بہتر ہوگی، مرتضیٰ وہاب

اسپتالوں اور ایمرجنسی روٹس کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے، وزیراعلیٰ سندھ

اردو چوک تا شاہراہِ اورنگی سڑک اپ گریڈیشن کے 2.2 ارب روپے منصوبے پر غور

منصوبے سے اورنگی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن اور حب ریور روڈ کے درمیان آمدورفت بہتر ہوگی

دو رویہ سڑک کے ساتھ نکاسیٔ آب اور سیوریج نظام بھی تعمیر ہوگا، میئر کراچی

منصوبہ بلا تاخیر شروع کیا جائے، وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت

اجلاس میں گلزار ہجری کو ایم نائن موٹروے سے ملانے والی مہران/پجیرو روڈ کا جائزہ

منصوبے سے اسکیم 33 اور اطراف میں ٹریفک دباؤ کم آئے گی، علاقائی رابطہ بہتر ہوگا، وزیر بلدیات

وزیراعلیٰ سندھ کا شاہراہِ فیصل کی بحالی اور خوبصورتی منصوبوں کا اجلاس میں جائزہ

شاہراہِ فیصل پر نکاسیٔ آب اور سڑکوں کی بحالی کا کام معیاری کیا جائے، وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعلیٰ سندھ کی نکاسیٔ آب نظام کی بہتری کیلئے واٹر بورڈ اور کے ڈی اے کو ہدایات

اجلاس میں مولوی تمیز الدین خان روڈ تا مائی کولاچی حاجی کیمپ روڈ کی توسیع اور بحالی کی تجویز

وزیر بلدیات اور میئر کراچی کی منصوبے کی بھرپور حمایت

منصوبے سے بندرگاہ اور مسافر ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی، میئر کراچی

وزیراعلیٰ سندھ کو کراچی کی اہم رابطہ سڑکوں کی بہتری کے منصوبوں پر بریفنگ

جناح ایونیو کو یار محمد گوٹھ سے ملانے اور حاجی ابراہیم عیسیٰ روڈ کی بہتری منصوبوں کا جائزہ

تمام اسکیموں میں شفافیت، نگرانی اور بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے، وزیراعلیٰ سندھ

کراچی ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، وزیراعلیٰ سندھ

شہری انفراسٹرکچر اور سڑکوں کی بہتری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، وزیراعلیٰ سندھ

ترقیاتی منصوبوں کا براہِ راست فائدہ شہریوں تک پہنچنا چاہیے، وزیراعلیٰ سندھ

شہری تحفظ اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے اقدامات جاری ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

کراچی میں ترقیاتی منصوبے وزیراعلیٰ سندھ کے وژن کے تحت مکمل کیے جا رہے ہیں، وزیر بلدیات

ترقیاتی منصوبوں کا مقصد کراچی کے انفراسٹرکچر اور ٹریفک مسائل کم کرنا ہے، ناصر شاہ

تمام منصوبے شفافیت اور مؤثر نگرانی کے ساتھ مکمل کیے جائیں گے، وزیر بلدیات

سڑکوں کی تعمیر کے ساتھ شہری سہولیات اور خوبصورتی پر بھی کام کیا جائے، وزیراعلیٰ سندھ

کراچی کی پائیدار ترقی کیلئے مؤثر اقدامات جاری ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

عبدالرشید چنا، ترجمان وزیراعلیٰ سندھ
#SindhCMHouse

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
24 − = 21