منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں ؟

منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں ؟

پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع پر گارڈن ویسٹ کے ایک فلیٹ پر چھاپا مارا گیا، جہاں ایک خاتون مبینہ طور پر منشیات تیار کرکے فروخت کررہی تھی۔

ایف آئی آر کے مطابق چھاپے کے دوران ملزمہ کو گرفتار کرکے فلیٹ سے 1540 گرام کوکین اور 6970 گرام مختلف کیمیکل اور خام مال برآمد کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بیکنگ پاؤڈر، ایفیڈرین، کیٹامین اور کوکین ہائیڈرو کلورائیڈ بھی قبضے میں لیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزمہ کے قبضے سے ایک پستول، 2 میگزین اور 10 راؤنڈ بھی برآمد ہوئے، تاہم وہ اسلحے کا لائسنس پیش نہ کرسکی۔

پولیس نے فلیٹ سے نقد رقم، موبائل فون، بلینک چیک اور دیگر اشیاء بھی تحویل میں لے لیں جبکہ ملزمہ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

ملزمہ انمول عرف پنکی سے برآمد اسلحہ کا مقدمہ بھی درج
گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی سے برآمد اسلحہ کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا، پولیس نے سندھ اسلحہ ایکٹ کے تحت الگ مقدمہ درج کیا۔
ایف آئی آر کے مطابق گارڈن ویسٹ میں خاتون کے قبضے سے پستول برآمد کی گئی، ملزمہ سے 9 ایم ایم پستول اور 10 راؤنڈ ملے۔

خیال رہے کہ کراچی میں منشیات بیچنے کے الزام میں گرفتار خاتون کی بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیشی ہوئی، ملزمہ بے خوف انداز میں عدالتی راہداریوں میں گھومتی رہی۔

عدالت نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی پولیس کی استدعا مسترد کردی، جوڈیشل ریمانڈ منظور کرلیا۔

گرفتار ملزمہ کو پرٹوکول دینے پر ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال،ایس آئی یو انسپکٹر ظفر اقبال کو بھی معطل کردیا گیا، جبکہ واقعہ کی انکوائری ایس ایس پی ساؤتھ کے سپرد کردی گئی۔
=====================

پولیس کی مبینہ غفلت

منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف درج مقدمے میں پولیس کی مبینہ غفلت سامنے آگئی۔

ملزمہ کے خلاف درج مقدمے میں بتایا گیا کہ انمول عرف پنکی کو گارڈن میں رہائشی عمارت کے فلیٹ سے گرفتار کیا گیا۔ لیکن فلیٹ میں رہائش پذیر خاندان نے موقف اختیار کیا کہ انمول عرف پنکی کو ہم نہیں جانتے ہیں۔
متاثرہ خاندان کا کہنا تھا کہ جس فلیٹ کا پتہ مقدمے میں ڈالا گیا، وہاں 8 سال سے کرائے پر ہم رہائش پذیر ہیں۔

متاثرہ خاندان نے کہا کہ میڈیا پر ملزمہ کی گرفتاری ہمارے فلیٹ سے ہونے کی خبر آنے پر مالک مکان نے فلیٹ خالی کرنے کا کہہ دیا۔

متاثرہ خاندان نے مزید کہا کہ انمول عرف پنکی کو ہم نہیں جانتے، بتایا جائے کہ پولیس نے ہمارے گھرکا پتہ ایف آئی آر میں کیسے ڈالا؟

متاثرہ خاندان نے یہ بھی کہا کہ پولیس کی غفلت کی وجہ سے ہم سخت ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔

ملزمہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری
کراچی میں گارڈن کے علاقے سے کوکین اور منشیات کی بڑی سپلائر انمول عرف پنکی کو گرفتار کرکے کروڑوں روپے مالیت کی منشیات اور پستول برآمد کی گئی تھی۔

گارڈن کے علاقے میں پولیس اور سول حساس ادارے نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ کو گرفتار کیا تھا۔ ملزمہ کے قبضے سے ایک پستول، کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور دیگر نشہ آور مواد برآمد کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزمہ منشیات کی ڈیلنگ اور سپلائی کے ایک منظم اور وسیع نیٹ ورک کو چلا رہی تھی اور اس کے خریداروں میں طلبا سمیت بااثر شخصیات بھی شامل ہیں۔

عدالت میں پیشی پر ملزمہ انمول عرف پنکی کو پرٹوکول دیا گیا، جس پر پولیس افسران کو معطل کردیا گیا۔

ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال، آئی او سعید احمد اور ایس آئی یو انسپکٹر ظفر اقبال کو معطل کردیا گیا ہے۔

مذکورہ واقعے کی انکوائری سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) جنوبی کے سپرد کردی گئی ہے۔
=====================

ملزمہ کو پروٹوکول دینے کا معاملہ

انمول عرف پنکی کو پرٹوکول دینے کے معاملے میں پولیس افسران کو معطل کردیا گیا۔

ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال، آئی او سعید احمد اور ایس آئی یو انسپکٹر ظفر اقبال کو معطل کردیا گیا ہے۔

مذکورہ واقعے کی انکوائری سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) جنوبی کے سپرد کردی گئی ہے۔

کراچی پولیس چیف کا نوٹس

کراچی میں منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کی عدالت میں شاہانہ انداز میں پیشی کے معاملے پر کراچی پولیس چیف نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ساؤتھ زون کے افسران کو طلب کیا تھا۔

ترجمان کراچی پولیس کے مطابق کراچی پولیس چیف نے واضح کیا کہ تفتیش میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس سلسلے میں ڈی آئی جی ساؤتھ، ایس ایس پی سٹی اور متعلقہ انویسٹی گیشن افسران کو طلب کیا گیا ہے۔

ملزمہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری

کراچی میں گارڈن کے علاقے سے کوکین اور منشیات کی بڑی سپلائر انمول عرف پنکی کو گرفتار کرکے کروڑوں روپے مالیت کی منشیات اور پستول برآمد کی گئی تھی۔

گارڈن کے علاقے میں پولیس اور سول حساس ادارے نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ کو گرفتار کیا تھا۔ ملزمہ کے قبضے سے ایک پستول، کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور دیگر نشہ آور مواد برآمد کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزمہ منشیات کی ڈیلنگ اور سپلائی کے ایک منظم اور وسیع نیٹ ورک کو چلا رہی تھی اور اس کے خریداروں میں طلبا سمیت بااثر شخصیات بھی شامل ہیں۔
=======================

کراچی پولیس کے دہرے معیار پر تنقید

منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کی عدالت میں وی آئی پی پروٹوکول میں پیشی پر تجزیہ کاروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے تنقید کی ہے۔

آج کراچی میں منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کو عدالت میں شاہانہ انداز میں پیش کیا گیا جبکہ چند روز قبل کراچی میں پولیس نے خواتین سے دست درازی کی تھی۔

کراچی پولیس نے عوام کے حقوق کی آواز اٹھانے والی عورت مارچ کی رہنما شیما کرمانی اور اُن کی ساتھیوں کو کراچی پریس کلب کے باہر سے پولیس نے بغیر کسی الزام کے گرفتار کیا۔

پولیس نے اس موقع پر بزرگ خواتین کو دھکے دیے، انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھایا گیا۔ کراچی پولیس کے دہرے معیار نے کئی سوالات اٹھادیے۔

=======================

پورے کراچی میں کام کررہی ہوں، اٹھالو اگر اٹھاسکتے ہو‘

انمول عرف پنکی کی لیک ہونے والی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی ہے۔

آڈیو میں ملزمہ انمول کہہ رہی ہے کہ آپ لوگوں کی عقل گھٹنوں میں ہے، 8، 9 سال میرے پیچھے لگے رہتے ہیں، ریٹائرڈ ہوجاتے ہیں مگر پکڑ نہیں پاتے۔

ملزمہ نے مزید کہا کہ جس دن دماغ سے سوچنا شروع کرو گے، پنکی کی طرح برانڈ بن جاؤ گے۔

ملزمہ نے یہ بھی کہا کہ پتا نہیں کہاں سے اٹھ کے آجاتے ہیں کہ پنکی کو پکڑیں گے۔ وہ پورے کراچی میں کام کررہی ہے اٹھا لو اگر اٹھا سکتے ہو۔

کراچی میں منشیات برآمدگی اور غیر قانونی اسلحہ کیس میں پولیس نے گرفتار ملزمہ انمول کو عدالت پیش کیا گیا تھا۔

عدالت نے ملزمہ کو ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جبکہ کراچی پولیس چیف آزاد خان نے ملزمہ کو بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی انکوائری کی ہدایت کردی۔

کراچی پولیس چیف نے گارڈن ہیڈ کواٹر ساؤتھ رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی جبکہ واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے سینئر افسر کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
=======================

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 1 ارب بیرون ملک منتقل کرنے والے 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

ترجمان کے مطابق ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل نے کراچی کے خالد بن ولید روڈ پر کارروائی کی اور حوالہ ہنڈی کے کارروبار میں ملوث 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان کا نیٹ ورک ملائیشیا، ساؤتھ افریقا، ترکیہ اور دیگر ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔

ترجمان کے مطابق ملزمان نے1 ارب روپے سے زائد رقم حوالہ ہنڈی کے ذریعےبیرون ملک منتقل کی، گرفتار ملزمان سے غیر ملکی کرنسی بھی برآمد کی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
6 + 1 =