چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت سیکریٹریز کمیٹی کا اعلیٰ سطح اجلاس

سندھ جاب پورٹل، ای۔دفتر، آڈٹ پیراز، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی، ترقیاتی منصوبوں، عدالتی معاملات اور غیر حاضر ملازمین کے خلاف کارروائی کا تفصیلی جائزہ

کراچی 12 مئی ۔ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت سیکریٹریز کمیٹی کا اعلیٰ سطح اجلاس سندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا، جس میں اہم انتظامی، مالی، قانونی، ڈیجیٹل گورننس اور عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چیئرمین اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ، تمام محکموں کے سیکریٹریز اور حکومتِ سندھ کے سینئر افسران نے شرکت کی، جبکہ مختلف محکموں کے سربراہان ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں سندھ جاب پورٹل، ای۔دفتر نظام، پنشن سے متعلق معاملات، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی کے امور، آڈٹ پیراز، زیر التوا ترقیوں اور انضباطی کارروائیوں، عدالتی مقدمات، ملازمین کی غیر حاضری، ترقیاتی منصوبوں، عوامی شکایات اور گورننس کی بہتری سے متعلق دیگر اہم معاملات پر غور کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ نے کہا کہ شفافیت، جوابدہی، بروقت فیصلہ سازی اور عوامی خدمات کی بہتر فراہمی حکومتِ سندھ کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے تمام انتظامی سیکریٹریز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے محکموں کے زیر التوا امور کی ذاتی طور پر نگرانی کریں اور تمام فیصلوں پر مقررہ مدت میں عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ چیف سیکریٹری سندھ نے ہدایت کی کہ سندھ جاب پورٹل کے کام کو تیز کیا جائے اور تمام محکمے اپنی خالی آسامیوں کی تفصیلات فوری طور پر پورٹل پر اپ ڈیٹ کریں۔ انہوں نے سیکریٹری سروسز کو ہدایت کی کہ وہ تمام سیکریٹریز سے مسلسل رابطے میں رہیں تاکہ محکموں کی خالی آسامیاں درست انداز میں ظاہر ہوں اور بھرتیوں کا عمل مزید شفاف، مؤثر اور امیدواروں کے لیے آسان بنایا جا سکے۔ ای۔دفتر نظام پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ کو بتایا گیا کہ اس نظام کی ٹریننگ اور سافٹ ویئر سے متعلق کام مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ ضروری آلات کی خریداری متعلقہ محکمے اپنے طور پر کریں گے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ خزانہ، سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن، سندھ آئی ٹی، سرمایہ کاری، اقلیتی امور، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، قانون، ایکسائز، لیبر اور سوشل پروٹیکشن جولائی 2026 میں ای۔دفتر نظام کے تحت لائیو ہو جائیں گے۔ سید آصف حیدر شاہ نے کہا کہ ڈیجیٹل سمریز کے استعمال سے فیصلہ سازی میں نمایاں تیزی آئی ہے اور سرکاری امور میں غیر ضروری تاخیر کم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پروسیسنگ سے قیمتی وقت کی بچت، ادارہ جاتی رابطہ کاری میں بہتری اور انتظامی کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے۔ چیف سیکریٹری نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وہ ڈیجیٹل گورننس کے نظام کو مکمل طور پر اپنائیں تاکہ سرکاری امور تیزی اور شفافیت کے ساتھ نمٹائے جا سکیں۔ آڈٹ اور مالیاتی جوابدہی کے معاملات پر چیف سیکریٹری سندھ نے تمام سیکریٹریز کو ہدایت کی کہ ایک ماہ کے اندر ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس منعقد کیے جائیں اور زیر التوا آڈٹ پیراز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی سے متعلق امور میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ آڈٹ اعتراضات کا بروقت حل شفافیت، مالی نظم و ضبط اور ادارہ جاتی ساکھ کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ آڈٹ پیراز سے متعلق اپنے کمنٹس فوری طور پر AIMS سسٹم پر اپ لوڈ کریں۔ چیف سیکریٹری سندھ نے زیر التوا ترقیوں اور انضباطی کارروائیوں کو بھی فوری طور پر نمٹانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ترقیوں کے معاملات میں غیر ضروری تاخیر افسران اور ملازمین کے حوصلے پر منفی اثر ڈالتی ہے، جبکہ انضباطی کارروائیوں میں تاخیر انتظامی نظم و ضبط کو کمزور کرتی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام کیسز کو قواعد و ضوابط کے مطابق مقررہ مدت میں نمٹایا جائے۔ طویل عرصے سے ڈیوٹی سے غیر حاضر ملازمین کے معاملے پر چیف سیکریٹری سندھ نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ خصوصاً تعلیم اور صحت جیسے اہم محکموں میں برسوں سے غیر حاضر اساتذہ، ڈاکٹرز اور دیگر سرکاری ملازمین کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو ملازمین سالوں سے ڈیوٹی سے غیر حاضر ہیں انہیں عوامی مفاد کے خلاف سرکاری ملازمت میں برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ چیف سیکریٹری سندھ نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ عدالتی مقدمات میں بروقت جوابات جمع کرائے جائیں اور قانونی معاملات کی مؤثر پیروی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں محکموں کی جانب سے جواب یا کمنٹس جمع کرانے میں تاخیر غیر ضروری قانونی پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے اور اہم مقدمات میں حکومت کے مؤقف کو متاثر کرتی ہے۔ اجلاس میں کفایت شعاری اقدامات اور بجٹ تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکریٹری سندھ نے ہدایت کی کہ تمام محکموں میں کفایت شعاری اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے، جبکہ یہ اقدامات فنانس بل میں بھی ظاہر ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ تیاریوں اور اہم سرکاری امور کے پیش نظر جمعہ کو معمول کا ورکنگ ڈے تصور کیا جائے گا۔ آصف حیدر شاہ نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور جہاں کہیں انتظامی رکاوٹیں موجود ہیں انہیں فوری طور پر دور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبے براہِ راست عوامی فلاح و بہبود سے وابستہ ہیں، اس لیے ان میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ چیف سیکریٹری سندھ نے وزیر اعظم کمپلینٹ سیل سمیت عوامی شکایات کے دیگر پلیٹ فارمز سے موصول ہونے والی شکایات کے فوری ازالے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے سیکریٹریز کو ہدایت کی کہ شکایات کے حل کے نظام کی ذاتی طور پر نگرانی کریں اور عوامی شکایات کو بروقت، منصفانہ اور مؤثر انداز میں نمٹایا جائے۔ کے اختتام پر چیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ نے کہا کہ تمام محکمے بہتر رابطہ کاری، مضبوط جوابدہی اور مؤثر انتظامی نظم و ضبط کے ساتھ کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ سندھ گورننس کو جدید خطوط پر استوار کرنے، شفافیت کو فروغ دینے، مالی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے اور عوام کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

ہینڈ آؤٹ نمبر 460۔۔۔ایف آئی جے

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
− 2 = 4