کراچی اور حیدرآباد کے تعلیمی بورڈ سے لے کر اسلام آباد تک اعلی تعلیمی حلقوں میں ہو کیا رہا ہے ؟

وزیر اعلیٰ نے میٹرک بورڈ کراچی اور حیدرآباد بورڈ کے چیئرمین کے استعفے منظور کرلئے
کراچی(سید محمد عسکری) وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیرمین غلام حسین سہو اور ثانوی و اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ حیدرآباد کے چیرمین شجاع احمد میہسر کے استعفوں کی منظوری دیدی ہے اور ان کی جگہ مستقل چیرمین کے تقرر کےلیے اشتہار دینے کی تجویز کی بھی منظوری دیدی ہے خیال یہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ گزشتہ برس چیرمین سرچ کمیٹی ڈاکٹر طارق رفیع کی سربراہی میں سندھ کے 8 تعلیمی بورڈز میں چیرمین کے لیے جن ناموں کے پینلز کی منظوری دی تھی ان میں سے باقی رہ جانے والے امیدواروں کو ماضی کی طرح حاصل کردہ نمبروں کی بنیاد پر تقرر کیا جائے گا اور اس حساب سے اگلا نمبر ڈاکٹر ذوالفقار علی میمن کا تھا جنھوں نے (53.2) نمبر حاصل کیئے تھے۔ عابد علی مغل نے (52)، سید ذوالفقار علی شاہ نے (51.25)، قاضی عارف علی نے (51.51)، جاوید علی میمن نے (50.67) اور علی گوہر چنگیر احمد (50.67) نے (50.67) نمبر حاصل کیئے تھے۔ اس سے قبل گزشتہ برس جون میں انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی میں فقیر محمد لاکھو کو 55.9 نمبر حاصل کرنے کے باعث انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی ڈاکٹر شجاع کو (55.8) نمبر حاصل کرنے پر حیدرآباد اور کرنل (ر) سید محمد علمدار رضا کو (55.4) نمبر حاصل کرنے پر میرپورخاص بورڈ کا چیرمین مقرر کیا گیا تھا۔
=================

جامعہ لیاری کا جلسہ تقسیم اسناد ، 584فارغ التحصیل طلبہ کو اسناد تقویض
کراچی( اسٹاف رپورٹر) بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے تیسرا جلسہ تقسیم اسناد میں 584 فارغ التحصیل طلبہ کو اسناد تقویض کی گئیں جبکہ نمایاں تعلیمی کارکردگی پر 32طلبہ کو طلائی تمغوں سے نوازا گیا۔اس موقع پر رجسٹرار کیپٹن (ر) رضا حیدر نے تمام طلبہ سے حلف لیا، جس کے بعد جلسہ کی باضابطہ تعلیمی کارروائی مکمل کی گئی۔۔ وائس چانسلر ڈاکٹر سید حسین مہدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری ایک جامع تعلیمی و ادارہ جاتی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے،جلسہ کی صدارت وزیر جامعات و بورڈز و پرو چانسلر محمد اسماعیل راؤ نے کی جبکہ ایم این اے نبیل گبول نے مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کی ۔ اس موقع پر اسماعیل راہو نے “بینظیر اسکول آف پروفیشنل ایکسیلنس” کا افتتاح بھی کیا، جس کا مقصد پیشہ ورانہ تعلیم، تحقیق، جدت اور ہنر پر مبنی تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ اپنے خطاب میں محمد اسماعیل راؤ نے کہا کہ یہ محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ انسانی محنت، والدین کی قربانی اور ادارہ جاتی ذمہ داری کی عکاسی ہے۔ انہوں نے بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کی انتظامیہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ درست سمت میں ترقی کر رہا ہے اور حکومت سندھ اس کی تعلیمی و انتظامی بہتری میں بھرپور معاونت جاری رکھے گی۔ ایم این اے نبیل گبول نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کا دن ان کے لیے انتہائی یادگار ہے کیونکہ ان کا دیرینہ خواب پورا ہوا کہ لیاری اور اطراف سے بڑی تعداد میں نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے فارغ التحصیل ہو رہے ہیں۔ وائس چانسلر ڈاکٹر سید حسین مہدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری ایک جامع تعلیمی و ادارہ جاتی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔
=================

ایچ ای سی کا جعلی و غیر مجاز کمپنیز کے ہزاروں طلبہ کی اسناد کی دوبارہ جانچ کا فیصلہ
کراچی(سید محمد عسکری)ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے غیر مجاز کیمپسز سے تعلیم حاصل کرنے والے تقریباً 36ہزار 931طلبہ کی اسناد سے متعلق اکیڈمکس کمیٹی کی سخت مؤقف پر مبنی سفارشات مسترد کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیا لاہور، نیو پورٹس انسٹیٹیوٹ کراچی، PIMST کراچی اور ہجویری یونیورسٹی کے ایسے طلبہ جن کا ریکارڈ مکمل ہے، ان کے معاملات کی دوبارہ جانچ کے لیے ایک آزاد کمیٹی قائم کی جائے گی۔ یہ کمیٹی ایچ ای سی سے باہر کے ماہرین پر مشتمل ہوگی جبکہ ایچ ای سی صرف سیکریٹریٹ معاونت فراہم کرے گا۔ اجلاس میں بعض اراکین نے اس فیصلے پر اختلافی نوٹ بھی ریکارڈ کرایا۔ اس کمیشن اجلاس کی صدارت چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کی جبکہ وفاقی و صوبائی نمائندوں، وائس چانسلرز اور کمیشن اراکین نے شرکت کی۔ اس 46ویں کمیشن اجلاس میں ملک بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں، غیر مجاز کیمپسز، اسناد کی تصدیق، مصنوعی ذہانت، بین الاقوامی تعلیمی پروگرامز اور جامعات کی پالیسی سازی سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ کمیشن نے ان طلبہ کے معاملات پر بھی غور کیا جن کی اسناد ماضی میں ایچ ای سی سے تصدیق شدہ تھیں مگر بعد ازاں غیر مجاز کیمپسز سامنے آنے پر ان کی تصدیق معطل کردی گئی تھی۔ فیصلہ کیا گیا کہ ان کیسز کی بھی آزاد کمیٹی کے ذریعے دوبارہ جانچ ہوگی اور اس کی رپورٹ کی روشنی میں آئندہ فیصلہ کیا جائے گا۔ اجلاس میں اسناد کی تصدیق اور مساوات کے نظام میں بڑی تبدیلی کی منظوری بھی دی گئی۔ ایچ ای سی نے فیصلہ کیا کہ مستقبل میں فزیکل تصدیق کے بجائے مکمل ڈیجیٹل اور شواہد پر مبنی تصدیقی نظام متعارف کرایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی سند تصدیق کے لیے سابقہ یا بعد کی تعلیمی اسناد جمع کرانے کی شرط فوری طور پر ختم کردی گئی۔ کمیشن نے “جنریٹو اے آئی” کے استعمال سے متعلق مجوزہ فریم ورک پر بھی غور کیا۔ تاہم اراکین کی مزید آرا شامل کرنے کے لیے اس مسودے کو دوبارہ ماہرین کمیٹی کے سپرد کردیا گیا ۔ اجلاس میں وزٹنگ فیکلٹی کے لیے نئی گائیڈ لائنز، ڈوئل، ڈبل اور جوائنٹ ڈگری پروگرامز 2026 کی پالیسی اور ٹرانس نیشنل ایجوکیشن پالیسی میں ترامیم کی منظوری بھی دی گئی۔ کمیشن اجلاس میں ملک میں بین الاقوامی تعلیمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے “ڈوئل، ڈبل اور جوائنٹ ڈگری پروگرامز 2026” کی مجوزہ پالیسی کی منظوری دے دی گئی۔ کمیشن نے پالیسی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ اگر ڈاکٹر سید سہیل ایچ نقوی کی جانب سے مزید تجاویز موصول ہوں تو انہیں دو ہفتوں کے اندر پالیسی میں شامل کیا جائے۔ ایچ ای سی کے کمیشن اجلاس میں برطانیہ کے ادارے پیئرسن یو کے کے ایچ این ڈی پروگرامز دوبارہ بحال کرنے کی بھی منظوری دی، تاہم شرط رکھی گئی کہ تمام ادارے ایچ ای سی کے ضوابط، داخلہ معیار اور کوالٹی اشورنس شرائط پر سختی سے عمل کریں گے۔ کراچی کی ملیر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے 56 طلبہ کی ڈگریوں کی ایک مرتبہ کے لیے توثیق کی منظوری بھی دی گئی۔ یہ طلبہ 2018 میں ایچ ای سی این او سی جاری ہونے سے قبل داخل کیے گئے تھے۔ اجلاس میں “کانسورشیم آف ایمرجنگ انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹیز (پی-5)” کے قیام کی منظوری بھی دی گئی جس میں سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی نمائندگی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔ کمیشن نے نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن (ناہی) کے تربیتی پروگرامز نجی جامعات اور سیلف فنانس فیکلٹی تک فیس شیئرنگ بنیادوں پر توسیع دینے کی منظوری بھی دی۔ اجلاس میں ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل (ای ٹی سی) کو کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت نان پرافٹ کمپنی کے طور پر رجسٹر کرنے کا عمل شروع کرنے کی ہدایت بھی کی گئی جبکہ کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتیوں کی بحالی کی منظوری دی گئی۔ کمیشن نے ایچ ای سی ملازمین کے لیے میڈیکل ٹریٹمنٹ پالیسی 2025کی منظوری دے دی جبکہ مختلف سلیکشن بورڈز کے فیصلوں، ترقیوں اور تقرریوں کی توثیق بھی کردی گئی۔ ایک اور اہم فیصلے میں کمیشن نے کیمبرج ٹرسٹ کے ساتھ اسکالرشپ معاہدے میں نرمی کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اگر کوئی اسکالر پروگرام مکمل نہ کرسکے تو اس سے اسکالرشپ فنڈز کی ریکوری نہیں کی جائے گی تاکہ کیمبرج یونیورسٹی کے ساتھ شراکت داری برقرار رہ سکے۔ اسی طرح امریکہ میں جے ون ویزا پر موجود ایچ ای سی فنڈڈ اسکالرز کے لیے کمیشن نے فیصلہ کیا کہ اگر متعلقہ اسکالر جرمانے سمیت تمام واجبات ادا کردے تو ایچ ای سی اس کی ویزا ویور درخواست پر “نو آبجیکشن” دے سکے گا، حتمی فیصلہ امریکی حکام کریں گے۔ اجلاس کے اختتام سے قبل وائس چانسلرز کے یکساں تنخواہی پیکج کا معاملہ بھی اٹھایا گیا جس پر وفاقی وزارت تعلیم نے یقین دہانی کرائی کہ معاملہ جلد وزارت خزانہ کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
====================

حافظ نعیم نے کراچی میں ملک کے پہلے تعلیم کارڈ کا اجراء کردیا
کراچی(اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کراچی میں ملک کے پہلے تعلیم کارڈ کا اجرا ء کردیا ہے اور کہا ہے کہ سندھ حکومت کے 41ہزار اسکولوں کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے،ان اسکولوں میں تعلیمی معیار بہتر ہے نہ بنیادی سہولیات میسر ہیں،سندھ حکومت کا اربوں روپے کا بجٹ نااہلی بد انتظامی اور کرپشن کی نذرہو جاتا ہے۔جماعت اسلامی صرف دعوؤں اور اعلانات نہیں عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔عوامی اور تعلیمی خدمات اگر کوئی ہے تو سامنے آئے اور ہمارا مقابلہ کرے جماعت اسلامی نے مفت آئی ٹی کورسز کا بنو قابل پروگرام شروع کیا جو کراچی سے شروع ہو کر اب پورے ملک میں پھیل گیا ہے، حافظ نعیم الرحمن کی زیر صدارت گلبرگ جم خانہ کے وسیع و عریض گراؤنڈ میں منعقدہ تقریب میں ٹاؤن اسکولوں کے 5ہزار طلبہ وطالبات کو ڈیجیٹل تعلیمی کارڈ جاری کردیئے گئے، کارڈ کے ذریعے طلبہ 10 ہزار روپے کی خریداری کرسکیں گے جس میں کتابیں، کاپیاں، اسٹیشنری، یونیفارم سمیت دیگر تعلیمی اشیاء شامل ہیں، گلبرگ ٹاؤن کراچی کا پہلا اور واحد ٹاؤن ہے جس نے نچلی سطح پر تعلیم کو عام کرنے اور غریب و متوسط گھرانوں کے بچوں کو درپیش تعلیمی مشکلات حل کرنے کے لئے عملی اقدام کیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے تقریب میں شریک ہزاروں افراد جن میں طلبہ و طالبات، والدین، اساتذہ، پرنسپلز بھی شامل تھے سے خطاب کرتے ہوئے ٹاؤن چیئرمین نصرت اللہ اور ان کی پوری ٹیم اور تعلیمی کارڈ کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں تعاون کرنے والے اہل خیر افراد اور اداروں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 14 لاکھ بچے بچیاں اس پروجیکٹ میں رجسٹرڈ ہو چکے ہیں ہم نے اپنے 9ٹاؤن میں آنے والے تقریبا 50 سکولوں کو اپ گریڈ کیا ہے اور ان کی بدحالی کو ختم کر کے مثالی اسکول بنا دیا ہے۔تعلیم حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے اور بڑی بدقسمتی ہے یہ ذمہ داری پوری نہیں کی جا رہی پورے ملک میں 2کروڑ 62 لاکھ اور سندھ میں 78 لاکھ بچے جن کی عمر اسکول جانے کی ہے وہ اسکول جانے سے قاصر ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ٹاؤن چیئرمین نصرت اللہ اور ان کی پوری ٹیم نے جس جانفشانی اور علم دوستی و خدمت کے جذبے کے ساتھ تعلیمی کارڈ کا اجراء کیا ہے امید ہے کہ ٓائندہ سال یہ تعداد دو گنی ہوگی اور زیادہ بچوں وبچیوں کو اسکالرشپ دی جائے گی۔یہ بچے ہی ہمارا مستقبل ہیں ہم ان کو بے رحم،نا اہل اور کرپٹ حکمرانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے۔
==================

جامعہ کراچی میں سنگین مالی، انتظامی اور تعلیمی صورتحال پر گہری تشویش، ایم کیو ایم
کراچی( اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی مرکزی کمیٹی نے جامعہ کراچی میں پیدا ہونے والی حالیہ سنگین مالی، انتظامی اور تعلیمی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی مسلسل غفلت اور ناقص پالیسیوں نے ملک کی اس سب سے بڑی اور معتبر درسگاہ کو شدید ترین بحران سے دوچار کر دیا ہے،انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے حالیہ ہنگامی اجلاس میں سامنے آنے والے حقائق اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ اساتذہ کرام، افسران اور ملازمین کے دیرینہ واجبات کی عدم ادائیگی، ہاؤس سیلنگ کی معطلی اور دیگر مالیاتی مسائل نے جامعہ کے پورے انتظامی و تعلیمی ڈھانچے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ فی الفور ہنگامی بنیادوں پر تلافی کے اقدامات نہ کیے گئے تو جامعہ کراچی کا تدریسی اور امتحانی نظام مکمل طور پر زمین بوس ہو جائے گا، جس کا براہِ راست اور ناقابلِ تلافی نقصان ہزاروں طلبہ و طالبات کے مستقبل کو ہوگا۔=======

===================

ڈاکٹر یا ڈگری ہولڈر؟
چوہدری شفیق احمد
محترم قارئین!پاکستان میں بیشتر والدین کا خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو ڈاکٹر بنتا دیکھیں، کیونکہ ہمارے معاشرے میں اسے محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک ’اسٹیٹس سمبل‘ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ ذہنی رجحان ہے جسے کاروباری طبقے نے بڑی مہارت سے اپنے مفاد کیلئے استعمال (exploit) کیا ہے، اور بدقسمتی سے یہی سوچ آج ہمارے طبی تعلیمی نظام کے بگاڑ کی بنیادی وجہ بھی بن چکی ہے۔اسی پس منظر میں، میں آج پاکستان کے ایک نہایت اہم مسئلے پر قلم اٹھا رہا ہوںیعنی میڈیکل ایجوکیشن کا نظام اور میڈیکل کالجز کی بے ہنگم افزائش۔ یہ ایک ایسا پیچیدہ اور ہمہ جہت مسئلہ ہے جسکے تمام پہلوؤں کا احاطہ ایک ہی کالم میں ممکن نہیں، اسی لیے میں اس پر ایک سلسلہ وار گفتگو پیش کر رہا ہوں تاکہ ہم اس بحران کی جڑ تک پہنچ سکیں۔پاکستان میں طبی تعلیم کا شعبہ، جو کبھی ملک کا سب سے معتبر اور مقدس پیشہ سمجھا جاتا تھا، آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں معیار پر مقدار کو فوقیت دی جا رہی ہے۔ اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو سال 2000ء میں ملک بھر میں صرف 30 کے قریب میڈیکل کالجز تھے، جن میں سے اکثریت سرکاری شعبے میں تھی۔ اس وقت کسی کے نام کے ساتھ ’ڈاکٹر‘ کا سابقہ لگنا اس بات کی ضمانت تھا کہ اس شخص نے نہ صرف کڑی محنت کی بلکہ اسے بہترین طبی تربیت بھی حاصل ہوئی۔لیکن آج 2026ء میں یہ تعداد 175 سے تجاوز کر چکی ہے۔بظاہر یہ ترقی کا اشاریہ معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ہماری طبی اور پیشہ ورانہ بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ نجی میڈیکل کالجز کی اس بے ہنگم افزائش نے اس مقدس پیشے کو ایک ایسے کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے جہاں انسانی جانوں سے زیادہ منافع کو اہمیت دی جا رہی ہے۔اس صورتحال کا سب سے خطرناک پہلو ایسے اسپتالوں کا پھیلاؤ ہے جہاں ڈھانچہ تو موجود ہے مگر علاج اور تربیت دونوں ناپید ہیں۔ قانون کے مطابق کسی بھی میڈیکل کالج کیلئے 500 بستروں پر مشتمل ٹیچنگ اسپتال کا ہونا لازمی ہے، جہاں مختلف امراض کے مریضوں کا عملی علاج موجود ہو۔ لیکن عملی طور پر بہت سے نجی کالجز نے اس شرط کو محض کاغذی معاہدوں (mous) کے ذریعے پورا کر رکھا ہے۔ یہ ادارے کسی چھوٹے کلینک یا محدود سہولیات والے ہسپتال کو اپنا ٹیچنگ ہسپتال ظاہر کر دیتے ہیں، جہاں نہ مکمل ایمرجنسی وارڈ ہوتا ہے، نہ آئی سی یو، نہ ہی جدید تشخیصی سہولیات۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طالب علم پانچ سال ایک ایسے ’طبی ریگستان‘ میں گزار دیتا ہے جہاں اسے کتابی علم تو ملتا ہے مگر عملی تجربہ نہیں ملتا۔ جب وہ حقیقی مریضوں اور پیچیدہ کیسز کا سامنا ہی نہیں کرئیگا تو وہ ایک مکمل ڈاکٹر کیسے بن سکتا ہے؟ یوں ہمارا نظام ایسے ’تھیوریٹیکل ڈاکٹرز‘ پیدا کر رہا ہے جو کتابیں تو رٹ لیتے ہیں، مگر عملی میدان میں انکی صلاحیتیں محدود ہوتی ہیں۔اسی کیساتھ ’گھوسٹ فیکلٹی‘ کا مسئلہ بھی ایک کھلا رازہے۔ معائنے کے دوران مختلف اداروں سے اساتذہ کو وقتی طور پر بھاری معاوضے کے عوض بلایا جاتا ہے تاکہ کاغذات میں معیار پورا دکھایا جا سکے۔ جیسے ہی انسپکشن ٹیم واپس جاتی ہے، یہ اساتذہ بھی غائب ہو جاتے ہیں۔ اس عمل سے تعلیمی معیار میں جو خلا پیدا ہوتا ہے، اسے کسی صورت پورا نہیں کیا جا سکتا۔نجی اداروں کا بنیادی مقصد تعلیم دینا نہیں بلکہ بھاری فیسیں وصول کرنا بن چکا ہے۔ نتیجتاً ہم ایسے نوجوان تیار کر رہے ہیں جو بظاہر ڈاکٹر تو ہوتے ہیں، مگر پیشہ ورانہ مہارت اور اخلاقی تربیت سے محروم ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف ان طلبہ کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ عوام کی صحت کے ساتھ بھی ایک خطرناک کھیل ہے۔اس بے ہنگم اضافہ کا ایک اور سنگین پہلو یہ ہے کہ حکومت نے بغیر کسی جامع پالیسی کے ان اداروں کو کھولنے کی اجازت دی۔ کیا کبھی یہ سوچا گیا کہ ہمارے پاس اتنی تعداد میں تربیت یافتہ اساتذہ، نرسنگ اسٹاف اور طبی سہولیات موجود ہیں جو ان اداروں کی ضروریات پوری کر سکیں؟ جواب نفی میں ہے، اور یہی وجہ ہے کہ تعلیمی معیار تیزی سے گر رہا ہے۔مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ ہر سال ہزاروں طلبہ فارغ التحصیل ہو رہے ہیں، مگر ان کیلئے ہاؤس جاب اور اسپیشلائزیشن کے مواقع محدود ہیں۔ پنجاب میں ہزاروں ڈاکٹرز بے روزگار ہیں۔ ہم اپنے نوجوانوں سے کروڑوں روپےکی فیسیں وصول کر کے انہیں ایسی ڈگریاں دے رہے ہیں جن کی مارکیٹ میں طلب ہی موجود نہیں۔اس سنگین بحران سے نکلنےکیلئے فوری اور سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، حکومت کو کم از کم اگلے پانچ سال کیلئے نئے میڈیکل کالجز کے قیام پر مکمل پابندی عائد کرنی چاہیے۔ اب مزید کالجز کھولنے کے بجائے موجودہ اداروں کے معیار کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔دوسرے، ٹیچنگ اسپتالوں کی نگرانی کے نظام کو مؤثر بنایا جائے۔ محض کاغذی معاہدوں پر انحصار کرنے کے بجائے باقاعدہ فزیکل آڈٹ کیا جائے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا واقعی وہاں روزانہ کی بنیاد پر مریضوں کا علاج ہو رہا ہے یا نہیں۔ اگر کوئی ادارہ اس معیار پر پورا نہ اترے تو اس کا لائسنس فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔تیسرے، اساتذہ کی موجودگی کو یقینی بنانے کیلئے ایک مرکزی بائیومیٹرک ڈیجیٹل نظام قائم کیا جائے تاکہ کوئی بھی پروفیسر ایک ہی وقت میں متعدد اداروں میں اپنی موجودگی ظاہر نہ کر سکے۔وقت آ گیا ہے کہ ہم طبی تعلیم کو ایک منافع بخش کاروبار کے بجائے ایک قومی ذمہ داری کے طور پر دیکھیں۔ اگر آج ہم نے اس تعلیمی کاروبار کو نہ روکا تو کل مریضوں کا علاج ایسے ہاتھوں میں ہوگا جو ڈگری تو رکھتے ہوں گے، مگر مسیحائی کے فن سے محروم ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
48 − 42 =