کراچی میں ایم پی پی کی تنظیمی سرگرمیاں تیز، اہم ٹاؤن میٹنگز منعقد ڈاکٹر عشرت العباد خان کی ہدایت پر تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ

کراچی میں ایم پی پی کی تنظیمی سرگرمیاں تیز، اہم ٹاؤن میٹنگز منعقد

ڈاکٹر عشرت العباد خان کی ہدایت پر تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ

عوامی مسائل کے حل اور رابطہ مہم کے لیے جامع حکمتِ عملی تیار

ایف آئی اے حراست میں مبینہ تشدد کے واقعے کی شدید مذمت، شفاف انکوائری کا مطالبہ

کراچی (میڈیا سیل ایم پی پی / اسٹاف رپورٹر)

Meri Pehchan Pakistan (MPP) کے رہبرِ رواں اور سابق گورنر سندھ، نشانِ امتیاز یافتہ ڈاکٹر عشرت العباد خان کی خصوصی ہدایت پر کراچی کے تمام ٹاؤنز میں اہم تنظیمی میٹنگز منعقد کی گئیں۔ ان میٹنگز میں پارٹی اسٹرکچر کو مزید مضبوط بنانے، تنظیمی کوآرڈینیشن بہتر کرنے اور عوامی رابطہ مہم کو تیز کرنے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

اجلاسوں میں کراچی کے موجودہ انتظامی و شہری مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی، جس میں عوامی شکایات، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور لوکل لیول پر فوری حل کے لیے مؤثر حکمتِ عملی تیار کرنے پر زور دیا گیا۔ مرکزی تنظیمی کمیٹی نے آئندہ کے لیے ایک جامع ورکنگ پلان کی منظوری دی تاکہ فیلڈ سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

مرکزی تنظیمی کمیٹی کے ارکان جن میں ناہل احمد صدیقی، فاروق ملک امیر علی، سیف یار خان، مقصود قریشی، سلیم سہروردی، آصف قدوس، سہیل خان اور محمد پناہ پنیہار شامل ہیں، نے مختلف ٹاؤنز کے دورے کیے۔ ان دوروں کے دوران کارکنان سے ملاقاتیں کی گئیں، کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور تنظیمی سرگرمیوں کو مزید فعال بنانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

ڈاکٹر عشرت العباد خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ “سیاست خدمت کا نام ہے اور خدمت ہی عبادت ہے۔ دیانت، اصول پسندی اور ریاست کو مقدم رکھنا ہی حقیقی قیادت کی پہچان ہے۔ پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے اور ہمارا مقصد اسے ایک مضبوط، خوشحال اور باوقار ریاست بنانا ہے۔ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں استعمال کریں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔”

انہوں نے تنظیمی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام وِنگز عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر کام کریں۔

اسی دوران کراچی آرگنائزنگ کمیٹی نے ایف آئی اے کی حراست میں مبینہ تشدد کے ایک حالیہ واقعے کی شدید مذمت کی، جس میں مبینہ طور پر ایک والد اور بیٹے کے ساتھ ایک دوسرے کے سامنے ناروا سلوک کیا گیا۔ کمیٹی نے اس واقعے کی غیر جانبدار اور شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا۔

کمیٹی نے تاجر برادری کے ساتھ ناروا سلوک پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی ناقابل قبول ہے۔ اداروں کو اپنے رویوں میں بہتری لانی چاہیے اور شفافیت کو یقینی بنانا چاہیے۔

مزید برآں، کمیٹی نے کراچی میں امن و امان اور شہری سہولیات کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اداروں کے درمیان بہتر کوآرڈینیشن وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے کارکردگی میں بہتری ناگزیر ہے۔

قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ MPP کراچی میں اپنی تنظیمی سرگرمیوں کو مزید وسعت دے گی اور عوامی مسائل کے حل، تنظیمی مضبوطی اور خدمت کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے فعال کردار ادا کرتی رہے گی۔
===========================

الطاف حسین قریشی کے انتقال پر ڈاکٹر عشرت العباد خان کا اظہارِ افسوس

صحافتی دنیا ایک بڑے نام سے محروم، ایم پی پی کی جانب سے خراجِ عقیدت

الطاف حسین قریشی کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی: ڈاکٹر عشرت العباد خان

کراچی (میڈیا سیل ایم پی پی / اسٹاف رپورٹر)

سابق گورنر سندھ اور روحِ رواں Meri Pehchan Pakistan (MPP) ڈاکٹر عشرت العباد خان نے سینئر صحافی، رائٹر، کالم نگار اور معروف ڈائجسٹ ایڈیٹر الطاف حسین قریشی کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے مرحوم کی صحافتی، ادبی اور ڈائجسٹ ایڈیٹنگ کے شعبے میں شاندار خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ الطاف حسین قریشی کی خدمات صحافت کی دنیا میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

ڈاکٹر عشرت العباد خان نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
=================

📢 مشترکہ اعلامیہ / بریکنگ نیوز

کراچی — نگران لیبر ونگ اور مرکزی رہنما سیف یار خان، کے ایم سی ایم پی پی لیبر ونگ نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے کہ کے ایم سی ملازمین کی سال 2025 میں منظور شدہ تنخواہوں میں اضافے کی ادائیگی میں تاخیر انتہائی افسوسناک اور تشویشناک ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملازمین مسلسل مہنگائی کے دباؤ کا شکار ہیں جبکہ ان کے جائز اور منظور شدہ حقوق کی عدم ادائیگی ان کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ رہنماؤں کے مطابق محنت کش طبقہ کسی بھی ادارے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے اور ان کے حقوق کو نظر انداز کرنا ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کے ایم سی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی فوری ادائیگی یقینی بنائی جائے اور اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اگر ملازمین کے مسائل حل نہ کیے گئے تو تنظیمی سطح پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

میری پہچان پاکستان — لیبر ونگ

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
+ 20 = 21