رفاہ عام اور اس سے متصل علاقوں میں سیوریج کے سنگین مسائل اور واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی نا اہلی و ناکامی کے خلاف جماعت اسلامی نے نیشنل ہائی وے ملیر ہالٹ پر احتجاجی دھرنا دیا،م

کراچی(اسٹاف رپورٹر) رفاہ عام اور اس سے متصل علاقوں میں سیوریج کے سنگین مسائل اور واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی نا اہلی و ناکامی کے خلاف جماعت اسلامی نے نیشنل ہائی وے ملیر ہالٹ پر احتجاجی دھرنا دیا،مظاہرین نے نیشنل ہائی وے بند کر دی اور سندھ حکومت و واٹر کارپوریشن کے خلاف نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ48گھنٹے میں سیوریج کے مسائل حل نہ کیے گئے تو واٹر اینڈ کارپوریشن کے دفتر کا گھیراؤ اور شاہراہ فیصل بند کر دیں گے،مظاہرین نے مختلف بینرز و پلے کارڈز بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر تحریر تھا”واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے اختیارات ٹاؤن کو منتقل کرو، چیئرمین واٹر اینڈ سیوریج بورڈ مرتضی وہاب، جینے دو کراچی کو، شرم کرو حیا کرو، سیوریج کا نظام درست کرو“۔ احتجاجی دھرنے سے قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ، امیر جماعت اسلامی ضلع ائیر پورٹ محمد اشرف،رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے بھی خطاب کیا۔ سیف الدین ایڈوکیٹ نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کرپشن کے گڑھ بنے ہوئے ہیں۔ڈیڑھ ماہ سے سیوریج کی بڑی لائین بیٹھی ہوئی ہے،محلے گندے پانی سے ڈوبے ہوئے، عوام سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں لیکن بے حس حکمرانوں کے کانوں تک جون تک نہیں رینگتی۔ گلیوں اور گھروں کے اندر سیوریج کا پانی جمع ہورہا ہے لیکن حکمران ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے ہوئے ہیں،کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کا مطالبہ صرف یہی ہے کہ انہیں بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن 1.6 بلین ڈالر کا قرضہ اس لیے لیا تھا کہ پانی اور سیوریج کے مسائل حل کیے جائیں گے لیکن کراچی کی 70 فیصد آبادی پانی سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا ہر منصوبہ نا اہلی، کرپشن اور لوٹ مار سے بھرا ہوا ہے۔ عوام کے صبر کا پیمانہ بھرتاجارہا ہے۔ آج علامتی دھرنا ہے اگر مسئلے کو سنجیدہ نہ لیا گیا تو اس سے زیادہ بڑا احتجاج کریں گے اور حالات کی تمام ترذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔سیف الدین ایڈوکیٹ نے مزید کہا کہ حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے بالخصوص لیوی کی ناجائز و ظالمانہ وصولی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف جمعہ 22مئی کو ملک گیر یوم احتجاج کے سلسلے میں کراچی کے 14اہم مقامات سمیت شہر بھر میں مظاہرے ہوں گے، مرکزی مظاہرہ مسجد خضرا ء صدر میں ہوگا۔ محمد اشرف نے کہا کہ ہم متنبہ کرتے ہیں کہ اگر 48 گھنٹے میں سیوریج کا مسئلہ حل نہیں کیا تو ہم کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کا گھیراؤ کریں گے اور شاہراہ فیصل پر احتجاج کر یں گے اگر وزیر بلدیات، وزیر اعلی، قابض مئیر کام نہیں کرنا چاہتے تو گھر جائیں،انہوں نے کہا کہ ماڈل کالونی یوسی 3 کے بازاروں میں سیوریج کے پانی کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ دوکاندار و اہل محلہ اپنے قربانی کے جانور بھی نہیں باندھ سکتے۔ جماعت اسلامی یوسی 3 کے چیئرمین، وائس چیئرمین اور کونسلرز روانہ کی بنیاد پر واٹر کارپوریشن کو سیوریج کے مسائل سے آگاہ کررہے ہیں۔ قابض مئیر واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے چیئرمین ہیں لیکن سیوریج کا مسئلہ حل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ہمارا دھرنا جاری ہے،جب تک مسئلہ حل نہ ہوا تو دھرنے پر بیٹھے رہیں گے۔ قابض مئیر کی بے حسی اور نا اہلی کی وجہ سے عوام اذیت کا شکار ہیں۔ محمد فاروق نے کہا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے عوام کو تباہ و برباد کردیا۔ سیوریج کے مسائل حل کروانے کے لیے بھی نااہل حکمرانوں کے خلاف احتجاج کرنا پڑتا ہے۔ جماعت اسلامی کے یوسی چیئرمین اور وائس چیئرمین باربار کہتے رہے کہ سیوریج کے مسائل حل کیے جائیں۔ رفاہ عام میں سیوریج کے مسائل دن بدن بڑھتے جارہے ہیں جس میں 5 یوسیز اور 1 کنٹونمنٹ بورڈ متاثر ہورہا ہے۔ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کا عملہ کبھی گاڑی، کبھی ڈیزل اور کبھی مزدورں کا بہانہ بناکر کام نہیں کرتا۔ اس موقع پر یوسی 8 کے چیئرمین احسن ضمیر،یوسی 8 کے کونسلرز اظہر جاوید، کونسلر ابراہیم بھی موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
26 − = 19