کوئٹہ میں انٹرنیشنل کمیونٹی مڈ ویفری ڈے 2026 کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا


خبرنامہ نمبر4280/2026
کوئٹہ، 21 مئی۔ کوئٹہ میں انٹرنیشنل کمیونٹی مڈ ویفری ڈے 2026 کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا ، صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کے و ژن اور صوبائی سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمٰن پانیزئی کی ہدایت پر ایم این سی ایچ پروگرام نے یو این ایف پی اے کے تعاون سے منعقد اس پروگرام میں یونیسف سمیت دیگر ڈویلپمنٹ پارٹنرز نے شرکت کی اس موقع پر ماں اور بچے کی صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے محکمہ صحت بلوچستان کے میٹرنل، نیوبورن اینڈ چائلڈ ہیلتھ (MNCH) پروگرام نے 500 کمیونٹی مڈوائفری کٹس کی تقسیم، صوبے کے چھ اضلاع میں پری فیبریکیٹڈ MNCH سینٹرز کے قیام اور کمیونٹی مڈوائفری کورس کو بی ایس مڈوائفری پروگرام میں اپ گریڈ کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا۔ اس موقع پر بلوچستان میں زچہ و بچہ کی صحت کے نظام کو مزید موثر اور مربوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا اس طرح بلوچستان ملک کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جس نے “میٹرنل پیرینیٹل ڈیتھ سرویلنس اینڈ رسپانس (MPDSR) ایکٹ” نافذ کیا ہے، جو ماں اور نومولود بچوں کی اموات کی نگرانی، احتساب اور شواہد پر مبنی مداخلتوں کے لیے حکومت کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت، وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ اور سیکرٹری صحت مجیب الرحمان کی ہدایات کے تحت MNCH پروگرام نے یو این ایف پی اے، یونیسیف، عالمی ادارہ صحت، انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک، آئی آر سی اور آئی ڈی ایس پی سمیت شراکت دار اداروں کے تعاون سے کمیونٹی مڈوائفز کو بااختیار بنانے کے اقدامات کو مزید وسعت دی ہے اس موقع پر سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمٰن پانیزئی نے کہا کہ حکومت بلوچستان ماں اور بچے کی صحت کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور کمیونٹی مڈوائفز دور دراز علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 500 مڈوائفری کٹس کی تقسیم اور نئے سینٹرز کا قیام صحت کے نظام کو مزید موثر بنائے گا جبکہ بی ایس مڈوائفری پروگرام میں اپ گریڈ سے تربیت کے معیار کو عالمی تقاضوں کے مطابق بنایا جا رہا ہے سیکرٹری صحت نے ایم این سی ایچ، یو این ایف پی اے، یونیسیف سمیت تمام ڈویلپمنٹ پارٹنرز کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں خاطر خواہ نتائج حاصل ہوں گے اور کئی قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جاسکے گا ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر امین خان مندوخیل نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمیونٹی مڈوائفز بلوچستان میں قابلِ تدارک زچہ و بچہ اموات میں کمی لانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں صحت کی سہولیات تک رسائی محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وسیع جغرافیے کے باعث چیلنجز موجود ہیں تاہم مڈوائفز کی خدمات اس خلا کو پر کر رہی ہیں اور ان کی استعداد کار میں اضافہ ناگزیر ہے ایم این سی ایچ پروگرام کی صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر گل سبین اعظم نے کہا کہ صوبے میں زچہ و بچہ کی شرح اموات اب بھی تشویشناک ہے جس کے لیے مربوط اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز، کمیونٹی مڈوائفز اور ایمرجنسی ریفرل سروسز کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں بروقت طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے یو این ایف پی اے کی صوبائی کوآرڈینیٹر سعدیہ عطا نے کہا کہ عالمی ادارے بلوچستان حکومت کے ساتھ مل کر ماں اور بچے کی صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے “One Million More Midwives” کے عالمی موضوع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں مڈوائفز کی استعداد کار میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور مشترکہ کوششوں سے زچہ و بچہ کی اموات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے 2017-18 کے مطابق بلوچستان میں زچگی کے دوران اموات کی شرح ایک لاکھ زندہ پیدائشوں میں 298 ہے جو قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ نومولود اور شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح بھی تشویشناک سطح پر ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور یو این ایف پی اے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً دس لاکھ مڈوائفز کی کمی ہے جبکہ بلوچستان میں اس وقت 2327 تربیت یافتہ کمیونٹی مڈوائفز موجود ہیں جن میں سے صرف ایک محدود تعداد فعال خدمات انجام دے رہی ہے، جس کے باعث صوبے میں مڈوائفری کوریج صرف 13.2 فیصد ہے اور مزید افرادی قوت کی شدید ضرورت برقرار ہے تقریب کے شرکائ نے کمیونٹی مڈوائفز کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں ماں اور نومولود بچوں کی صحت کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات اور شراکت دار اداروں کے تعاون سے بلوچستان میں زچہ و بچہ صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4281/2026
کوئٹہ 21 مئی ۔ صوبائی سیکرٹری صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی نے کہا ہے کہ عالمی یوم مڈوائف ہر سال کی طرح 21 مئی کو بھرپور انداز میں منایا جاتا ہے، جس کا مقصد زچگی اور پیدائش کے دوران دائیوں (مڈوائف) کی گراں قدر خدمات، ان کی انتھک محنت، لگن اور ماں و نومولود بچوں کی جان بچانے میں ان کے اہم کردار کو اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مڈوائفز صحت کے شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں جو نہ صرف محفوظ زچگی کو یقینی بناتی ہیں بلکہ خواتین کو اعتماد، حوصلہ اور بہترین نگہداشت بھی فراہم کرتی ہیں۔یہ خیالات کا ظہار انہوں نے عالمی یوم مڈوائف یو این ایف پی اے، اور ایم این سی ایچ کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں محکمہ صحت بلوچستان کے اعلیٰ حکام، طبی ماہرین، نرسنگ شعبے سے وابستہ شخصیات اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر امین مندوخیل، کلثوم اقبال ڈائریکٹر نرسنگ، سعدیہ عطائ ، پروگرام کوانیٹر UNFPA ، ڈاکٹر احمد ولی چیف ایگزیکٹو بلوچستان ایلتھ کارڈ ، ڈاکٹر گل سبرین عظم، ڈاکٹر نور حسن، ڈاکٹر ظفر خوستی اور ڈاکٹر زاہد کاکڑ نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ ہر محفوظ اور کامیاب پیدائش کے پیچھے ایک ماہر مڈوائف کی شب و روز محنت، شفقت اور پیشہ ورانہ مہارت شامل ہوتی ہے۔ مڈوائف وہ ہاتھ ہیں جو درد کو سمجھتے، خوف کو کم کرتے اور ایک نئی زندگی کو دنیا میں لانے کے مشکل سفر میں ماں کا سہارا بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی یوم مڈوائف ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ماں اور بچے کی حفاظت صرف ایک طبی عمل نہیں بلکہ احساس، صبر، محبت اور ذمہ داری کا حسین امتزاج ہے۔تقریب کے شرکاء نے مڈوائفز کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دائیوں نے خصوصاً دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں زچہ و بچہ کی صحت کے فروغ کے لیے ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں۔ مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان اور محکمہ صحت مڈوائفز کی پیشہ ورانہ تربیت، استعداد کار میں اضافے اور انہیں جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گا تاکہ ماں اور بچے کی صحت کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔تقریب کے اختتام پر عالمی یوم مڈوائف کے موقع پر تمام مڈوائفز، نرسز اور طبی عملے کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ وہ زندگی کے نازک ترین لمحات میں امید، تحفظ اور انسانیت کی بہترین مثال قائم کررہی ہیں۔تقریب کے آخر میں مڈوائفز نے شمعیں روشن کیں اور سیکرٹری محکمہ صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی نے شرکاء میں شیلڈ تقسیم کر دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4282/2026
گوادر 21 مئی ۔ ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان کی سربراہی میں جی ڈی اے کے آئندہ 10 سالہ ترقیاتی پروگرام کے پہلے فیز میں شامل مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کا اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر ٹاون پلاننگ شاہد علی، سپرنٹنڈنگ انجینئر روڈ نادر بلوچ، سپرنٹنڈنگ انجینئر بلڈنگ شے آصف غنی، پروجیکٹ ڈائریکٹر واٹر میرجان بلوچ، پروجیکٹ ڈائریکٹر اولڈ ٹاون بحالی منصوبہ میر دودا خان مری، پروجیکٹ ڈائریکٹر جیٹی حنیف حسین، ڈائریکٹر انوائرمنٹ رسول بخش بلوچ سمیت دیگر سینئر انجینئرز اور افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں روڈ، بلڈنگ، واٹر سپلائی، انوائرمنٹ، الیکٹریکل، فشریز، ٹورازم اور اولڈ ٹاون ری ہیبلیٹیشن سمیت مختلف شعبوں کے ترقیاتی منصوبوں کو حتمی شکل دینے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ جی ڈی اے کا آئندہ 10 سالہ ترقیاتی پروگرام بنیادی طور پر گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کی گائیڈ لائنز کے مطابق ترتیب دیا جا رہا ہے اور مستقبل میں بھی اسی فریم ورک کے تحت مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔ترقیاتی منصوبوں کو منظوری اور فنڈز کے حصول کیلئے گورننگ باڈی اجلاس میں پیش کرنے کے بعد وفاقی حکومت کو ارسال کیا جائے گا۔ پروگرام کے تحت روڈ سیکٹر میں تقریباً 20 مختلف کمپوننٹس جبکہ بلڈنگ سیکٹر میں 10 منصوبے شامل ہیں۔ واٹر سپلائی سیکٹر میں 200 کلومیٹر نئی لائنوں کی تنصیب اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کے قیام کی تجویز شامل ہے۔ الیکٹریکل شعبے میں سید ہاشمی ایونیو، دیمی زر روڈ اور دیگر شاہراہوں پر سولرائزیشن اور انڈر گراونڈ کیبلنگ کے منصوبے بھی پروگرام کا حصہ ہیں۔انوائرمنٹ سیکٹر میں شجرکاری مہم اور اہم شاہراہوں پر ڈرپ ایریگیشن سسٹم کی تنصیب جبکہ ٹورازم سیکٹر میں ریزورٹس، جی ڈی اے کلب، فارنر کلب اور کوسٹل ٹورزم پروجیکٹس بھی مجوزہ منصوبوں میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دیمی زر روڈ کے اطراف پبلک اسپیسز کی ڈیولپمنٹ اور پدی زر میں گراب بیچ پارک کی تعمیر و ترقی بھی منصوبے کا حصہ ہے۔جی ڈی اے ہاوسنگ اسکیم، فشریز ہاوسنگ اسکیم، اسپیشل اکنامک زون، سی بی ڈی اور مائیکرو پلاننگ منصوبوں پر بھی مرحلہ وار عملدرآمد کیا جائے گا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے ہدایت کی کہ ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جائے جو عوامی ضروریات اور زمینی حقائق سے مطابقت رکھتے ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ فوری طور پر مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی خزانے کا موثر اور شفاف استعمال ہماری بنیادی ذمہ داری ہے، لہٰذا حکومتی کفایت شعاری پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبوں کی تخمینہ لاگت کم سے کم رکھی جائے تاکہ محدود وسائل میں زیادہ عوامی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4283/2026
گوادر: 21مئی ۔ گوادر: اولڈ ٹاون بحالی منصوبے کے تحت شہر میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں۔ اس وقت پرانی عیدگاہ سے براستہ شہرداری (بلدیہ) جنت بازار تک جبکہ میرین ڈرائیو سے کتاب چوک براستہ جنت بازار تقریباً ایک کلومیٹر سڑک کی بلیک ٹاپنگ کا کام تیزی سے جاری ہے۔منصوبے کے تحت سڑک کے ساتھ جدید ڈرینج لائن بھی بچھائی گئی ہے، جس کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ ماضی میں بارشوں کے دوران ان علاقوں میں پانی جمع ہونے اور گھروں میں داخل ہونے کے باعث مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہتا تھا، تاہم منصوبے کی تکمیل کے بعد یہ مسئلہ مستقل طور پر حل ہونے کی توقع ہے۔اولڈ ٹاون بحالی منصوبے کے تحت جاری ترقیاتی سرگرمیوں کی بدولت پرانی آبادی میں نہ صرف بنیادی انفراسٹرکچر بہتر ہو رہا ہے بلکہ شہر کی مجموعی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ منصوبے گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کے مطابق شہر کو جدید اور منظم خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4284/2026
گوادر۔ 21 مئی ۔سابق صوبائی وزیر ماہیگیری میر حمل کلمتی نے آج ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل واجہ شے مختار اور سیاسی و سماجی شخصیت میر ارشد کلمتی اور دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ملاقات کے دوران ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے میر حمل کلمتی کو جی ڈی اے کے اولڈ ٹاون بحالی منصوبے سمیت مختلف جاری ترقیاتی منصوبوں پر آگہی دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت جی ڈی اے کے مختلف ترقیاتی کمپوننٹس پر تیزی سے کام جاری ہے، جن میں اولڈ ٹاو¿ن میں سڑکوں، گلیوں اور شاہراہوں کی تعمیر، توسیع و بحالی، تعلیمی اداروں، کھیل میدانوں، قدیم کاروباری مراکز کی تزئین و آرائش، ٹف ٹائلنگ، پیور ورک اور سیوریج، ڈرینیج شامل ہیں۔ڈی جی جی ڈی اے نے کہا کہ شہر میں بلا تعطل پانی کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے جبکہ جی ڈی اے نے گوادر میں پہلی مرتبہ واٹر بلنگ کا شفاف نظام متعارف کرایا ہے، جسے عوامی حلقوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گوادر میں بلنگ اور شہری زمہ داری کا رجحان فروغ پا رہا ہے جو شہر کی منظم ترقی کے لیے خوش آئند ہے۔اس موقع پر سابق صوبائی وزیر میر حمل کلمتی نے اولڈ ٹاون سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں پر جاری کام کو سراہتے ہوئے بعض مقامات پر عوام کو درپیش مسائل اور مشکلات کی نشاندہی کی۔ ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے متعلقہ شعبے کو ان مسائل کے فوری حل کے احکامات جاری کیے۔میر حمل کلمتی نے شادی کور مین ٹرانسمیشن لائن کے راستے میں واقع مختلف دیہات و گاوں کو لائن سے منسلک کرکے پانی کی فراہمی شروع کرنے کی بات کی، جس پر ڈی جی جی ڈی اے نے متعلقہ شعبے کو فوری طور پر عملی اقدامات کی ہدایت جاری کی۔ملاقات میں شہر میں تجاوزات، شہری سہولیات اور جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4285/2026
چمن 21مئی ۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے اج چمن میں بی ایس ڈی آئی فیز ٹو اور تھری کے تحت جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی دورہ کیا اس دوران انہوں نے گورنمنٹ گرلز کالج چمن لائبریری کی تعمیر تزئین و آرائش اور دیگر چھوٹے چھوٹے جاری ترقیاتی کاموں نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن میں جاری ترقیاتی کاموں چمن بازار میں روڈ بنانے اور بلیک ٹاپ ڈالنے چمن میں قلعہ سے ملحقہ روڈ پر جاری کام کا تفصیلی معائنہ کیا جہاں انہوں نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو BSDI کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا اس موقع پر کمانڈنٹ چمن سکاو¿ٹس بریگیڈیئر بریگیڈیئر شکیل احمد اور دیگر اعلیٰ فوجی و سول افسران بھی ان کے ہمراہ تھے دورے کے دوران متعلقہ افسران کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو منصوبے کی پیش رفت، استعمال ہونے والے میٹریل اور تکمیل کے متوقع وقت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے تعمیراتی کام کے معیار اور رفتار کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کو پی سی ون کے مطابق مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعمیراتی کام میں کسی بھی قسم کے ناقص میٹریل یا غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں ہوگاانہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی کی قیادت میں صوبے بھر میں تعلیمی اداروں ہسپتالوں روڈز کی بہتری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر اٹھا رہی ہیں جو قابل تحسین ہے آخر میں ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور رفتار کو یقینی بنایا جائے تاکہ مفاد عامہ کو ایک محفوظ، جدید اور بہتر طبی تعلیمی اور روڈز اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر فراہم کی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4286/2026
سبی، 21 مئی اسسٹنٹ کمشنر / ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سبی ریونیو منصور علی شاہ کی صدارت میں انسداد پولیو مہم کے آخری روز (کیچ اپ ڈے) کے حوالے سے ایوننگ رویو اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈی ایچ او ڈاکٹر قادر ہارون، ڈبلیو ایچ او سے ڈاکٹر احسان، این اسٹاپ آفیسر ڈاکٹر شہزادہ کامران، ڈی پی او صلاح الدین مری، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آئی ایس ڈی میر وائس خان سمیت یو سی ایم اوز، مانیٹرز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران تمام ٹیموں کے مانیٹرز اور یو سی ایم اوز نے اپنی اپنی یونین کونسلز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جبکہ مہم کے دوران بچوں کی کوریج، مس شدہ کیسز، ہائی رسک ایریاز اور فیلڈ میں درپیش مسائل سے متعلق آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر منصور علی شاہ نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ انسداد پولیو مہم قومی فریضہ ہے اور اس میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام ٹیمیں آخری روز بھی بھرپور محنت اور ذمہ داری کے ساتھ فرائض انجام دیں تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔اجلاس میں سیکیورٹی، ٹیموں کی نگرانی اور عوامی آگاہی مہم کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ افسران نے جاری مہم کو کامیاب بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4287/2026
گوادر۔ 21 مئی . ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان کی ہدایت پر جی ڈی اے انفورسمنٹ سیل آج دوسرے روز بھی نے فشرمین کالونی کی سرکاری اراضی پر قبضہ مافیا کے خلاف بھرپور کارروائی کرتے ہوئے متعدد غیر قانونی تعمیرات مسمار کر دیں۔کارروائی اسسٹنٹ ڈائریکٹر انفورسمنٹ بابر ناصر، انفورسمنٹ آفیسر داد بخش اور شے علی احمد کی نگرانی میں فشرمین کالونی کے متعدد پلاٹس پر ناجائز قبضہ ختم کروایا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
52 − 42 =