ڈائریکٹر سیسی، نادر کنسارو کی غیر قانونی ترقی کو ایک بار پھر سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیدیا


سینارٹی صرف مستقل تقرری سے شمار ہوگئی، کنٹریکٹ ملازمین کو بیک ڈیٹ سے سینارٹی نہیں ملے گئی، وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ

کراچی (رپورٹ شاہد غزالی) محکمہ محنت کے ذیلی ادارے سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن میں سینارٹی کے حوالے سے وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلہ دیا ہے،
سیسی کے ڈائریکٹر نادر حسین کنسارو کو غیر قانونی طور پر دی گئی سنیارٹی کے خلاف سیسی کے افسران گذشتہ کئی سالوں سے عدالتی جنگ لڑ رہے تھے, تقریباً 4 سال بعد مختلف مراحل طے کرتے ہوئے یہ معاملہ 2021 میں سپریم کورٹ آف پاکستان پہنچا تھا
وفاقی آئینی عدالت نے ایک بار پھر سینارٹی کے لیے ریگولر ایمپلائز کے حق میں فیصلہ دیا یے


عدالتی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ سینیارٹی اصولی طور پر مستقل تقرری کی تاریخ سے شمار کی جائے گی، نہ کہ ابتدائی کنٹریکٹ، ایڈہاک یا عارضی تقرری کی تاریخ سے، لہٰذا نادر کنسارو کی ترقی کے یکم مارچ 2017 اور 13 مارچ 2017 کے متنازع احکامات کالعدم قرار دیے جاتے ہیں۔ (جن کے تحت نادر کنسارو کو بطور ڈائریکٹر سنیارٹی دی گئی تھی)
فیصلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ اپیل کنندگان کی تقرری سیسی میں اس وقت مستقل بنیادوں پر ہو چکی تھی جب نجی فریق نادر حسین کنسارو اب بھی کنٹریکٹ پر کام کر رہے تھے، لہٰذا اپیل کنندگان قانونی طور پر سینیارٹی لسٹ میں ان سے سینئر شمار ہوں گے۔
سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اس فیصلے کی روشنی میں 60 دن کے اندر فریقین کی نئی سینیارٹی لسٹ جاری کرے۔
سنیارٹی کے حوالے سے یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے اس کے ناصرف سیسی میں بلکہ دیگر اداروں میں بھی اثرات مرتب ہوں گئے،
یاد رہے کہ 2012 میں بھی سندھ ہائیکورٹ نے ایک مقدمہ میں نادر حسین کنسارو کی بطورِ ڈائریکٹر گریڈ 19 میں ترقی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی بطور سوشل سیکورٹی افسر گریڈ 16 میں تنزلی کی تھی، اس وقت بھی انھوں نے صرف تین سالوں میں غیر قانونی طریقہ سے گریڈ 16 سے 17 پھر گریڈ 17 سے 18 اور پھر گریڈ 19 میں ترقی حاصل کرلی تھی,
سندھ ہائیکورٹ سے 2012 میں تنزلی کے بعد نادر کنسارو نے 2017 میں ایک بار پھر بیک ڈرو سے سینارٹی حاصل کرلی تھی، جسے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا،
یاد رہے کہ نادر کنسارو نے اکتوبر 1990 میں کلچرل، ٹورازم ڈپارٹمنٹ میں گریڈ 5 میں بطور جونئیر کلرک سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا تھا، بعدازاں نومبر 1996 میں ایریگیشن اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ میں گریڈ 12 میں بطور اسٹنوگرافر ملازمت حاصل کرلی بعدازاں نگراں دور حکومت میں نگراں صوبائی وزیر محنت کے اسٹاف کے طور پر کام کرتے ہوئے اپنا تبادلہ سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن میں ایک سال کے کنٹریکٹ پر گریڈ 16 میں بطور سوشل سیکورٹی آفیسر کروا لیا تھا اور بعدازاں غیر قانونی طور پر مارچ 2007 میں اپنی اس کنٹریکٹ بیس ملازمت کو ریگولائز بھی کروا لیا تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
+ 1 = 7