سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے لاپتا افراد کی بازیابی کی درخواستوں پر محکمہ داخلہ سندھ، آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو لاپتا افراد کی بازیابی کی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ گلستان جوہر سے شہری محمد ایوب 9 جون سے لاپتا ہے۔ پولیس اور سول لباس میں اہلکار گھر سے شہری کو اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔ پولیس بھی لاپتا شہری کی معلومات نہیں فراہم کررہی۔ پولیس اہلخانہ کی بات سننے کو بھی تیار نہیں۔ سجاول سے لاپتا امام بخش خاصخیلی کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ نامعلوم اہلکار شہری کو گھر سے لے گئے تھے۔ عدالت نے محکمہ داخلہ سندھ، آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 6 اگست تک جواب طلب کرلیا۔
===========
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے گلشن روفی/ پرائیڈ بلڈر اسکیم 33 کے 650 متاثرین کو پلاٹس کی عدم فراہمی کیخلاف درخواست پر ملزمان کی عبوری ضمانت کی درخواستیں خارج کردیں۔ جسٹس محمد سلیم جیسر کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ کے روبرو گلشن روفی/ پرائیڈ بلڈر اسکیم 33 کے 650 متاثرین کو پلاٹس کی عدم فراہمی کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالتی احکامات کے باوجود بلڈرز متاثرین کو پلاٹس لیز پر دینے سے گریز کررہے ہیں۔ نیب پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر نے تفصیلات عدالت کو بتادیں۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ 60 متاثرین کی لسٹ بلڈرز کو فراہم کی گئی تھی۔ ملزمان کے رویئے سے لگتا ہے وہ متاثرین کو پلاٹ لیز پر دینا ہی نہیں چاہتے۔ بار بار کہنے کے باوجود بلڈرز نے متاثرین کی داد رسی کے لیے فوکل پرسن مقرر نہیں کیا۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارلس دیئے کہ بلڈرز متاثرین کی داد رسی نہیں کررہے تو ان کیخلاف ریفرنس دائر کریں۔ بلڈرز کے وکیل بیرسٹر صلاح الدیم نے موقف دیا کہ ایسا نہیں ہے جو نیب کی طرف سے بتایا جارہا ہے۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے استفسار کیا کہ متاثرین نے کب پلاٹ بک کروائے تھے؟ متاثرین کے وکیل ملک الطاف جاوید ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ 1992 میں متاثرین نے پلاٹ لیے تھے، تاحال نہ لیز دی گئی اور نہ ہی پلاٹ حوالے کیئے گئے۔ بلڈر کے وکیل نے موقف اپنایا کہ نیب نے جن متاثرین کی لسٹ دی تھی، بیشتر کو لیز دے دی گئی ہے۔ پراسیکیوٹر نین نے موقف دیا کہ 622 متاثرین نے نیب میں شکایتیں جمع کروائی ہیں۔ بلڈرز کی جانب سے تعاون نہ کرنے پر عدالت نے اظہار برہمی کیا۔ عدالت نے ملزمان کی عبوری ضمانت کی درخواستیں خارج کردیں۔ ملزمان بلڈرز میں رحمت الہی، سابق سنیٹر قاسم لاسی اور منظور روفی شامل ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ملزمان 7 روز میں احتساب عدالت میں پیش ہوکر عبوری ضمانت حاصل کرسکتے ہیں۔ دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ عدالتی احکامات کے باجود 8 سو سے زائد متاثرین کو پلاٹ نہیں دیے جارہے۔ او ڈی سی چارجز میں بلڈر نے کروڑوں روپے کا فراڈ کیا ہے۔ الاٹیز نے گلشن روفی اسکیم 33 سیکٹر 21 بی، 19 بی، 6 سی اور 6 بی میں پلاٹس بک کرائے تھے۔ سندھ ہائیکورٹ نے 2020 میں بلڈر کو الاٹیز کو پلاٹ دینے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے نیب کو پابند کیا تھا الاٹیز کو پلاٹ فراہم کرنے میں معاونت کریں۔ عدالتی احکامات کے باجود متاثرین کو اب تک پلاٹ نہیں دیئے گئے۔ او ڈی سی چارجز اور نہ ڈولپمنٹ کا ورک کرایا گیا۔ بلڈر کی جانب سے سیکٹر 21 بی کے 100 سے زیادہ متاثرین کو فلاحی پلاٹوں اسکول کالجز پلے گراؤنڈ پر لیز دی گئی ہے جو سب سے بڑا فراڈ ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدر آمد کا حکم دیا جائے۔






































