لاہور: گاڑی سے لاش اور پولیس کی وردی ملنے کا کیس حل ہو گیا

لاہور: گاڑی سے لاش اور پولیس کی وردی ملنے کا کیس حل ہو گیا
لاہور کے علاقے ڈیفنس سے 2 روز قبل گاڑی سے لاش ملنے کا کیس حل ہو گیا۔

پولیس کے مطابق عادل نامی شخص کو قتل نہیں کیا گیا بلکہ اس نے خودکشی کی، متوفی خاندانی تنازعات اور ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی سے ملنے والی وردی سب انسپکٹر طاہر کی ہے، متوفی اور سب انسپکٹر طاہر آپس میں دوست تھے۔

واضح رہے کہ پولیس کو سڑک کے کنارے کھڑی گاڑی سے لاش ملی تھی جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا
==================

کراچی: قائد آباد میں قتل ہوئی 3 سالہ بچی سے زیادتی اور تشدد کی تصدیق
کراچی کے علاقے قائد آباد میں قتل کی جانے والی 3 سال کی بچی کے پوسٹ مارٹم میں زیادتی اور تشدد کی تصدیق ہو گئی۔

’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے بتایا ہے کہ مقتولہ کے پوسٹ مارٹم میں زیادتی اور تشدد کی تصدیق ہو گئی ہے۔

ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا ہے کہ موت کی وجہ کے تعین کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ محفوظ کر لی گئی ہے، کیمیکل ایگزامن رپورٹ آنے پر موت کی وجہ کا تعین ہو گا۔

دوسری جانب واقعے کا مقدمہ تھانہ قائد آباد میں والد کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے جس میں اغوا، زیادتی اور قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

مدعیٔ مقدمہ کے مطابق میری بیٹی باہر گئی تھی واپس نہیں آئی تو اہلیہ نے کال کی، ہم نے بچی کو تلاش کیا لیکن کچھ پتہ نہیں چل سکا۔

بچی کے والد کا کہنا ہے کہ رات میں گھر پہنچے تو محلے میں ہجوم تھا، محلے والوں نے بتایا کہ نامعلوم افراد بیٹی کی لاش بوری میں پھینک کر گئے ہیں، میرے والد نے تصدیق کی کہ لاش میری بیٹی کلثوم کی تھی۔
=====================

بھارت: بیوی کو دریا میں پھینک کر قتل کرنیوالا شوہر 9 سال بعد گرفتار
بھارتی ریاست گجرات کی کرائم برانچ نے 2017ء کے ایک پرانے گمشدگی کے کیس میں حادثہ سمجھے جانے والے ایک واقعے کو منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا قتل قرار دے دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 25 جون 2017ء کو مینش دینیسبھائی سولنکی اپنی اہلیہ کوملبین سولنکی کو شہر کی سیر کے بہانے ساتھ لے گیا تھا، دن بھر مختلف مقامات پر گھومنے کے بعد رات گئے وہ اسے سبھرمتی ریور فرنٹ لے گیا۔

تحقیقات کے مطابق وہاں گفتگو کے دوران مینش نے موقع پا کر اپنی اہلیہ کو اچانک اٹھا کر دریا میں پھینک دیا جس کے باعث اس کی موت واقع ہو گئی۔

’بیوی کو قتل کیا ہے مگر مجرم نہیں‘، بھارتی شخص کی آسٹریلوی عدالت میں انوکھی منطق

واقعے کے بعد اگلے دن ملزم نے کالوپور پولیس اسٹیشن میں جا کر گمشدگی کی جھوٹی رپورٹ درج کروائی تاکہ جرم کو چھپایا جا سکے۔

ابتدائی طور پر اس واقعے کو حادثاتی موت سمجھا گیا اور لاش ملنے کے بعد کیس اسی زاویے سے بند کر دیا گیا۔

تقریباً 9 سال بعد پولیس نے تکنیکی شواہد اور پرانے گواہوں کے بیانات کی دوبارہ جانچ کی جس سے حقیقت سامنے آ گئی۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ شوہر اور اہلیہ کے درمیان شادی کے صرف چند ماہ بعد سے ہی گھریلو تنازعات چل رہے تھے۔

پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ مینش دینیسبھائی سولنکی کا پہلے سے بھی مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے۔

پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ تھانے کے حوالے کر دیا ہے۔
==================

ویلز: لاپتہ 14 سالہ لڑکی کے قتل کے الزام میں نوعمر لڑکا گرفتار
جنوب مغربی برطانوی ملک ویلز میں 14 سالہ لڑکی لیلیٰ کے قتل کے شبے میں اس کے 14 سالہ دوست کو گرفتار کر لیا گیا۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پولیس نے بتایا ہے کہ لڑکی کی لاش پیر کی رات بلائنا کے علاقے ڈفرین پارک سے ملی تھی، اسے اس سے پہلے لاپتہ قرار دیا گیا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ لیلیٰ کو آخری بار ہفتے کی شام شہر کی مرکزی سڑک پر ایک لمبے سیاہ لباس میں دیکھا گیا تھا جبکہ اس کی لاش اس کی رہائش سے تقریباً 18 میل دور علاقے سے ملی ہے۔

پولیس کے مطابق لیلیٰ کے قتل کے شبے میں اس کے ہم عمر ایک مشتبہ لڑکے کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لیلیٰ اور نو عمر لڑکے کے درمیان تعلق اور لڑائی کے سبب یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے۔
=====================

بھارت: شادی سے کچھ ماہ قبل لڑکی نے منگیتر کا قتل کر دیا
بھارت کی ریاست مہاراشٹر میں شادی سے کچھ ماہ قبل ایک لڑکی نے اپنے منگیتر کا قتل کر دیا۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ریاست مہاراشٹر میں کیتن اگروال نامی ایک لڑکے کی شادی سے کچھ ماہ قبل موت ہو گئی، موت کے بعد اس کی منگیتر سیا گوئل نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک جذباتی اسٹوری شیئر کی جس میں لکھا تھا کہ ’تم مجھے میری سالگرہ پر چھوڑ گئے، واپس آ جاؤ‘۔

ابتداء میں کیتن اگروال کی موت کو ایک حادثہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بھارتی پولیس کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ 18 جون کو سیا گوئل نے کیتن اگروال کو اپنی سالگرہ کے موقع پر لوہا گڑھ قلعے سے مبینہ طور پر دھکا دے کر گہری کھائی میں گرا دیا تھا۔

پولیس نے یہ انکشاف کیا ہے کہ سیا گوئل کا مبینہ طور پر چیتن چوہدری نامی شخص کے ساتھ تعلق تھا، اس لیے ان دونوں نے کیتن اگروال کو راستے سے ہٹانے کے لیے کئی ہفتوں پہلے ہی اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔

پولیس نے قتل کرنے اور حادثے کا ڈرامہ رچانے کے الزام میں سیا اور چیتن کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
9 + 1 =