کلفٹن میں ساحل سمندر کے قریب سے پھول بیچنے والی لاپتا ہونے والی لڑکیاں بازیاب، سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے تفتیشی افسر کو لڑکی کا بیان ریکارڈ کرنے کی ہدایت کردی۔ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو کم عمر لڑکیوں کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔پولیس نے دونوں لڑکیوں کو عدالت میں پیش کردیا۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ بڑی لڑکی نے قربان نامی لڑکے سے شادی کرلی ہے۔ درخواستگزار کی وکیل بشری عباس ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ بڑی لڑکی کی عمر 14 سال ہے قربان نامی شخص نے اغوا کیا۔ 14 سالہ بے بو 6 سالہ بہن علینا کو بھی ساتھ لے گئی تھی۔ کمرہ عدالت میں لڑکیوں کے باپ کی دہائیاں، ولاد حیات اللہ نے کہا کہ بچیوں کو دیکھنے کے لیے ترس رہا ہوں۔ لڑکی نے بیان دیا کہ والد ظلم کرتا تھا میں نے اپنی مرضی سے شادی کی۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو لڑکی کا بیان ریکارڈ کرنے کی ہدایت کردی۔ والد احاطہ عدالت میں بیٹیوں سے لپٹنے کی کوشش کرتا رہا۔ لڑکیوں نے باپ سے ملنے سے انکار کردیا۔ دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ دونوں بچیاں غریب رکشہ ڈرائیور حیات اللہ کی بیٹیاں ہیں، والد کی مدد کیلئے پھول بھیچتی تھیں۔ 12 مئی کو دونوں بچیاں گھر سے پھول بیچنے گئیں لیکن واپس نہیں آئیں۔ عدالت نے گزشتہ سماعت پر 14 سالہ بیبو اور 6 سالہ علینہ کو بازیاب کراکے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔
=======
جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ نے گل پلازہ آتشزدگی کے مقدمے میں آئندہ سماعت پر ضمانت لینے والے ملزمان کو پیش ہونے کی ہدایت کردی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت کے روبرو گل پلازہ آتشزدگی کے مقدمے میں کمسن حذیفہ اور اُسکا والد عدالت میں پیش ہوئے۔ ملزمان نے عدالت میں اپنی حاضری لگائی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر ضمانت لینے والے تمام ملزمان کو پیش ہونے کی ہدایت کردی۔ 11 سالہ حذیفہ، یونین صدر تنویر پاستا او دیگر ملزمان نے عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کی تھی۔ تمام ملزموں کو پولیس نے تفتیش کے بعد ملزم نامزد کیا تھا۔ واقعہ کا مقدمہ تھانہ نبی بخش تھانے میں درج کیا گیا تھا۔
==========
سندھ ہائیکورٹ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے متنازع امتحانات میں 23 نئے امیدواروں کی درخواستوں پر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔ ہائیکورٹ میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے متنازع امتحانات سے متعلق 23 نئے امیدواروں کی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن نے درخواست دائر کرنے والے تمام امیدواروں کو فیل قرار دیا ہے۔ درخواستگزاروں کے لیے سروس کمیشن کے امتحانات حیران کن تھے۔ سندھ ہائیکورٹ 30 جون کو کچھ امیدواروں کی جوابی کاپی دوبارہ چیک کرنے کا حکم دیا تھا۔ ہائیکورٹ کے حکم پر سندھ پبلک سروس کمیشن کے نتائج روکے ہوئے ہیں۔ عدالت نے آئی بی اے کو ایک ماہ کے دوران کچھ امیدواروں کے جوابی پرچے دوبارہ چیک کرنے کا حکم دیا تھا۔ استدعا ہے کہ ہمارے پرچے بھی دوبارہ چیک کرنے کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے سندھ پبلک سروس کمیشن و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے 5 اگست تک جواب طلب کرلیا۔




































