ایس ای سی پی نے آئی بین (IBAN) کے ذریعے ڈیجیٹل کے وائی سی کی سہولت متعارف کرا دی
اسلام آباد، 11 جولائی: سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے کیپٹل مارکیٹ اور مالیاتی خدمات تک رسائی آسان بنانے کے لیے آئی بین (IBAN) کے ذریعے ڈیجیٹل کے وائی سی کی سہولت متعارف کرا دی ہے۔
اس سہولت کے تحت سرمایہ کاروں اور صارفین کی تصدیق ان کے بینک اکاؤنٹ کے آئی بین کے ذریعے کی جا سکے گی اور اسٹاک مارکیٹ میں نیا اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے بنیادی دستاویزات کی علیحدہ سے فراہمی اور روایتی تصدیقی مراحل جیسے کہ بائیو میٹرک کے لیے بروکر کے دفتر جانے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
اس سلسلے میں ایس ای سی پی نے اینٹی منی لانڈرنگ ریگولیشنز 2020 میں ترامیم کر دی ہیں، جن کے تحت سکیورٹیز بروکرز، فیوچرز بروکرز، انشورنس کمپنیاں، تکافل آپریٹرز، این بی ایف سیز اور مضاربہ کمپنیاں آئی بین کے ذریعے صارفین کی تصدیق کر سکیں گی۔
چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ ڈیجیٹل کے وائی سی مالیاتی شعبے کو جدید بنانے اور سرمایہ کاروں کو آسان رسائی فراہم کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے سرمایہ کاری کا عمل آسان، محفوظ اور شفاف بنایا جا رہا ہے۔
ایس ای سی پی کے مطابق نیا ڈیجیٹل تصدیقی نظام آسان، تیز اور محفوظ ہے جبکہ تمام ٹرانزیکشنز صرف صارف کے اپنے تصدیق شدہ بینک اکاؤنٹ کے ذریعے ہوں گی، جس سے مالیاتی لین دین میں شفافیت اور ٹریس ایبلٹی مزید بہتر ہو گی۔
ترمیم شدہ ریگولیشنز میں جدید بائیو میٹرک تصدیق بشمول چہرے کی شناخت کی سہولت بھی شامل کی گئی ہے۔ نادرا کے بلاک شدہ شناختی کارڈز سے منسلک سرمایہ کاری اکاؤنٹس فوری طور پر بلاک کیے جا سکیں گے۔
ترمیم شدہ AML/CFT/CPF ریگولیشنز 2020 ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔




































