
لاڑکانہ(رپورٹ محمد عاشق پٹھان)
لاڑکانہ میں شدید گرمی اور بلند درجہ حرارت کے باوجود بیشتر نجی میڈیکل اسٹورز اور فارمیسیز میں ادویات کی محفوظ اسٹوریج کے انتظامات پر سنگین سوالات اٹھنے لگے۔شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ شہر کے متعدد میڈیکل اسٹورز پر ادویات کو محفوظ درجہ حرارت میں رکھنے کے لیے مناسب انتظامات موجود نہیں جبکہ بعض دکانوں میں ایئر کنڈیشننگ سمیت درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کی بنیادی سہولیات کا بھی فقدان دکھائی دیتا ہے۔ شہریوں نے محکمہ صحت، ڈرگ انسپکشن حکام اور ضلعی انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور خاموشی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ادویات کی اسٹوریج کے اصولوں پر عملدرآمد نہیں ہو رہا تو متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داری کب پوری کریں گے؟تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ اور گردونواح میں شدید گرمی کے باعث درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ایسے میں میڈیکل اسٹورز پر ادویات کی مناسب اسٹوریج کا معاملہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد میڈیکل اسٹورز پر ادویات عام شیلفوں، کاؤنٹرز یا ایسے مقامات پر رکھی نظر آتی ہیں جہاں شدید گرمی، نمی اور بعض اوقات براہ راست دھوپ کے اثرات کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ ایسے حالات میں درجہ حرارت سے حساس ادویات کے معیار اور افادیت متاثر ہونے کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔شریوں کے مطابق ادویات محض عام اشیاء نہیں بلکہ انسانی زندگی اور صحت سے براہ راست منسلک ہوتی ہیں اس لیے ان کی خرید و فروخت کرنے والے مراکز پر مقررہ اسٹوریج شرائط کی پابندی لازمی ہونی چاہیے۔ اگر کسی دوا کے پیک پر مخصوص درجہ حرارت پر رکھنے کی ہدایت درج ہے تو اس پر سختی سے عملدرآمد ہونا چاہیے۔ خصوصاً درجہ حرارت حساس ادویات کے لیے مناسب ریفریجریشن اور کولڈ چین کا مؤثر نظام موجود ہونا ضروری ہے۔شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ شدید گرمی کے اس موسم میں کیا محکمہ صحت اور ڈرگ انسپکشن حکام نے لاڑکانہ کے تمام میڈیکل اسٹورز اور فارمیسیز کا باقاعدہ معائنہ کیا ہے؟ کیا ہر میڈیکل اسٹور پر ادویات کے درجہ حرارت کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے؟ کیا وہاں تھرمامیٹر یا دیگر مناسب آلات موجود ہیں؟ اور کیا متعلقہ حکام یہ چیک کر رہے ہیں کہ ادویات کمپنیوں کی جانب سے مقرر کردہ اسٹوریج شرائط کے مطابق محفوظ کی جا رہی ہیں یا نہیں؟شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف میڈیکل اسٹور کا لائسنس چیک کرنا کافی نہیں بلکہ ادویات کی اسٹوریج، درجہ حرارت، نمی، روشنی، صفائی اور کولڈ چین کے انتظامات کی بھی باقاعدہ جانچ ہونی چاہیے۔ اگر کسی دوا کو مخصوص درجہ حرارت میں رکھنے کی ہدایت ہو تو اس کے لیے مناسب سہولت فراہم کرنا میڈیکل اسٹور مالکان کی ذمہ داری ہے، جبکہ اس عمل کی نگرانی متعلقہ حکام کی ذمہ داری بنتی ہے۔شہریوں نے انتظامیہ کی مبینہ غفلت پر سخت سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شدید گرمی کے دوران میڈیکل اسٹورز کی باقاعدہ انسپیکشن نہیں کی جا رہی تو پھر ادویات کی محفوظ اسٹوریج کے قوانین پر عملدرآمد کیسے یقینی بنایا جا رہا ہے؟ شہریوں کا کہنا ہے کہ مریض ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا استعمال کرنے کے باوجود صحت یاب نہ ہو تو اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، تاہم اگر دوا مناسب حالات میں محفوظ نہ کی گئی ہو تو اس کے معیار اور افادیت متاثر ہونے کا خدشہ ضرور پیدا ہوتا ہے۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ صحت، ڈرگ کنٹرول حکام اور ضلعی انتظامیہ فوری طور پر لاڑکانہ کے میڈیکل اسٹورز اور فارمیسیز کی خصوصی انسپیکشن مہم شروع کریں ہر دکان پر ادویات کی اسٹوریج کا درجہ حرارت، کولڈ چین، ریفریجریشن، صفائی اور کمپنی کی ہدایات کے مطابق حفاظتی انتظامات چیک کیے جائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ میڈیکل اسٹور ایک عام کاروباری مرکز نہیں بلکہ صحت عامہ سے براہ راست جڑا ہوا اہم شعبہ ہے۔ عوام کی زندگیوں سے متعلق اس حساس معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت قابل قبول نہیں۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر متعلقہ اداروں نے فوری نوٹس نہ لیا تو ادویات کی غیر محفوظ اسٹوریج کا مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ خاموشی توڑتے ہوئے عملی اقدامات کرے اور یہ یقینی بنائے کہ لاڑکانہ کے شہریوں کو ایسی ادویات فراہم ہوں جو مقررہ اصولوں کے مطابق محفوظ، معیاری اور مؤثر حالت میں ہوں۔




































