ہیلتھ کیئر ایکسپو 2026 کراچی کے دوران کراچی ڈیکلریشن کے ذریعے ڈی-8 ڈس ایبلٹی فورم کا قیام


پریس ریلیز
ہیلتھ کیئر ایکسپو 2026 کراچی کے دوران کراچی ڈیکلریشن کے ذریعے ڈی-8 ڈس ایبلٹی فورم کا قیام
کراچی: معذوری کے شعبہ میں علاقائی تعاون کو فروغ دینے کی جانب ایک تاریخی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ہیلتھ کیئر ایکسپو 2026 کے دوران کراچی ڈیکلریشن کے تحت باضابطہ طور پر ڈی-8 ڈس ایبلٹی فورم کے قیام کا اعلان کیا گیا۔
اس اہم اعلان کا اعزاز ڈاکٹر کمال آیدین، صدر ابنِ سینا انسٹیٹیوٹ اور ورلڈ کونسل آن ایجنگ، ترکیہ کو حاصل ہوا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے ڈی-8 ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ معذور افراد کے حقوق، شمولیت، بحالی اور بااختیار بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جا سکیں۔ انہوں نے ان مقاصد کے حصول کے لیے ڈی-8 ڈس ایبلٹی فورم کے نام سے ایک علاقائی اتحاد کے قیام کا اعلان کیا۔
کراچی ڈیکلریشن کے تحت نیشنل ڈس ایبلٹی اینڈ ڈوالپمنٹ فورم (NDF) پاکستان کو متفقہ طور پر ڈی-8 ڈس ایبلٹی فورم کی لیڈ آرگنائزیشن مقرر کیا گیا۔ یہ اعزاز معذوری کی شمولیت، بحالی، وکالت اور انسانی خدمت کے میدان میں این ڈی ایف پاکستان کی طویل اور نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔
اس موقع پر عابد لاشاری، تمغۂ امتیاز، صدر این ڈی ایف پاکستان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ڈی-8 ڈس ایبلٹی فورم کی قیادت کرنا این ڈی ایف پاکستان کے لیے نہایت اعزاز اور ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ ہم تمام ڈی-8 ممالک کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر معذور افراد کو بااختیار بنانے، معذور افراد کی تنظیموں (OPDs) کو مضبوط کرنے، جامع پالیسیوں کے فروغ اور مساوی مواقع و پائیدار ترقی کے لیے علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔ بالخصوص ہم ترکیہ میں منعقد ہونے والی COP-31 کانفرنس میں ان لوگوں کی آواز مؤثر انداز میں پیش کریں گے جن کی آواز اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے۔”
ڈی-8 ڈس ایبلٹی فورم کا قیام خطے میں معذور افراد کی سماجی، معاشی، تعلیمی اور ترقیاتی عمل میں مکمل شمولیت کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔ یہ فورم علم و تجربات کے تبادلے، صلاحیت سازی، پالیسی ڈائیلاگ اور مشترکہ وکالت کے ذریعے ڈی-8 خطے میں معذور افراد کے حقوق کے فروغ کے لیے کام کرے گا۔
فورم میں بنگلہ دیش، مصر، انڈونیشیا، ایران، ملائیشیا، نائجیریا، پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان سمیت نو ممالک کی نمائندگی شامل ہوگی۔
واضح رہے کہ ڈی-8 تنظیم کا قیام 1997 میں رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ آج یہ ممالک مجموعی طور پر ایک ارب سے زائد آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
+ 43 = 52