
انیلا ناز سومرو جامعہ سندھ کے دادو کیمپس کی پرووائس چانسلر مقرر
کراچی( سید محمد عسکری) پروفیسر انیلا ناز سومرو کو جامعہ سندھ کے دادو کیمپس کا 3برس کے لیے پرووائس چانسلر مقرر کردیا گیا ہے جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ دادو کیمپس کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر اظہر شاہ کو سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور نامناسب رویے پر وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز سندھ محمد اسماعیل راہو کی ہدایت پر معطل کر دیا گیا تھا۔
===============

جامعہ کراچی، وی سی کیلئے درخواستیں طلب، بیوروکریٹ کیلئے تحقیقی پرچے کم
کراچی (سید محمد عسکری) محکمہ بورڈز و جامعات کےسیکریٹری عباس بلوچ نے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کے عہدے کے لیے امیدواروں سے درخواستیں طلب کرلی ہیں جب کہ بیورو کریٹ وائس چانسلر مقرر کرنے کے تحقیقی پرچوں کی تعداد 15 سے کم کرکے 10 کردی ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قواعد کے مطابق پروفیسر مقرر ہونے کے لیے 15 تحقیقی پرچے لازمی ہوتے ہیں۔ موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کی پہلی چار سالہ مدت 28 جولائی کو مکمل ہورہی ہے۔ بہتر کارکردگی کے باوجود کچھ افسران کی ناراضی کے باعث ان ان مدت میں مزید چار برس کی توسیع کی سفارش وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مسترد کردی تھی تاہم اس سے قبل سندھ میں کئی وائس چانسلرز اور اعلیٰ تعلیمی افسران کو کو دوسری مدت بھی دی گئی لیکن ڈاکٹر پیرزادہ قاسم کے بعد کسی وائس چانسلر کو جامعہ کراچی میں دوسری مدت نہیں دی گئی یہ الگ بات ہے کہ اس وقت جامعات اور بورڈز گورنر سندھ کے ماتحت ہوتے تھے۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کے اشتہار میں کہا گیا ہے کہ امیدوار کا تعلق کسی تسلیم شدہ جامعہ سے پی ایچ ڈی رکھنے والا ہونا چاہیے اور اسے تدریس، تحقیق یا انتظامی امور میں نمایاں تجربہ حاصل ہو۔ امیدوار کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ کم از کم 20 سال کا تجربہ رکھتا ہو، جس میں سینئر سطح پر تدریسی یا انتظامی خدمات شامل ہوں۔ اہلیت کے لیے مختلف درجہ بندیاں بھی مقرر کی گئی ہیں، جن میں ایک کیٹیگری کے تحت امیدوار کا پروفیسر ہونا اور تحقیقی میدان میں نمایاں خدمات ہونا ضروری ہے، جبکہ دوسری کیٹیگری میں بی پی ایس-21 یا اس کے مساوی عہدے پر خدمات انجام دینے والے افسران بھی درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔ تیسری کیٹیگری میں ایسے سینئر ماہرین کو شامل کیا گیا ہے جو تحقیق، انتظام یا متعلقہ شعبے میں طویل تجربہ رکھتے ہوں۔ عمر کی حد کے حوالے سے اشتہار میں واضح کیا گیا ہے کہ درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ تک امیدوار کی عمر 62 سال سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔ وائس چانسلر کے عہدے کی ذمہ داریوں میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانا، تحقیق و ترقی کو فروغ دینا، جامعہ کے انتظامی امور کو مؤثر انداز میں چلانا اور ادارے کو قومی و بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام دلانا شامل ہیں۔اشتہار کے مطابق امیدواروں کو اپنی درخواست کے ساتھ مکمل کوائف (سی وی)، تعلیمی اسناد، تجربے کی تفصیلات اور دیگر متعلقہ دستاویزات جمع کرانا ہوں گی۔ شارٹ لسٹ کیے جانے والے امیدواروں کو انٹرویو کے لیے مدعو کیا جائے گا جبکہ انہیں ٹی اے/ڈی اے فراہم نہیں کیا جائے گا۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ حکومت کو کسی بھی درخواست کو بغیر وجہ مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ درخواستیں مقررہ ویب سائٹ کے ذریعے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ اشتہار کی اشاعت کے 15 دن کے اندر مقرر کی گئی ہے۔
==============
انتظامی عہدوں پر اساتذہ کی تعیناتی ،ہریپور یونیورسٹی میں ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی
پشاور(ارشد عزیز ملک ) پشاور ہائی کورٹ کے احکامات اور خیبر پختونخوا ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ہدایات کے باوجود یونیورسٹی آف ہری پور میں تدریسی فیکلٹی اضافی چارج کی بنیاد پر اہم انتظامی عہدوں پر کام کررہی ہے سرکاری ریکارڈ کے مطابق یونیورسٹی آف ہری پور میں متعدد فیکلٹی ارکان تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اضافی چارج کی بنیاد پر انتظامی عہدوں پر بھی فائز ہیں، باوجود اس کے کہ پشاور ہائی کورٹ اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی واضح ہدایات موجود ہیں۔گریڈ18سے21کے 22 فیکلٹی ارکان قانونی اور انتظامی عہدوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں، کے پی یونیورسٹیز ایکٹ کی خلاف ورزی کی جارہی ہے،سرکاری ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی ایس اٹھارہ (لیکچرر) سے لے کر بی ایس اکیس (پروفیسر) تک کے متعدد فیکلٹی ممبران امتحانات کے کنٹرولر، ڈائریکٹر ورکس، ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، ڈائریکٹر کیریئر ڈیولپمنٹ سینٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر یونیورسٹی ایڈوانسمنٹ سیل، ڈائریکٹر اورک، ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف اے ڈی، ڈائریکٹر کیو ای سی، ڈائریکٹر اورک، ڈائریکٹر اے ایس آر بی، ڈائریکٹر اکیڈمکس، ڈائریکٹر یونیورسٹی ایڈوانسمنٹ سیل، چیف پروکٹر، ڈائریکٹر آئی ٹی سروسز، ڈائریکٹر ایڈمیشنز، بین الاقوامی طلبہ کے فوکل پرسن، ایڈیشنل ڈائریکٹر اورک، ریزیڈنٹ وارڈن، سینئر وارڈن، ڈائریکٹر اسپورٹس اور ڈپٹی ڈائریکٹر آئی ٹی جیسے انتظامی عہدوں کا اضافی چارج سنبھالے ہوئے ہیں۔
==============
یونیورسٹی روڈ نہ بننے کے سوال پر شرمندگی ہوتی ہے، اب تو میمز بھی بن گئیں، وزیر اعلیٰ سندھ
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ مختلف جگہوں پر جب اُن سے سوال کیا جاتا ہے کہ کراچی کی یونیورسٹی روڈ کیوں نہیں بناتے تو انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ اب تو میمز بھی بن گئی ہیں کہ ہرمز کھل گئی ہے لیکن یونیورسٹی روڈ نہیں کھلی، پتہ نہیں شاید کسی نے یہاں کے لوگوں کی باتیں سُن لیں اور ہرمز پھر بند ہوگئی۔
کراچی: نیپا چورنگی سے وفاقی اردو یونیورسٹی تک روڈ 10 نومبر سے 30 دسمبر تک بند رہے گا
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کوشش کررہے ہیں کہ کراچی کے مسائل حل کریں۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ گل پلازا سانحہ میں جاں بحق 72 افراد کے لواحقین کو ہم نے ایک کروڑ روہے دیے، جان کی کوئی قیمت نہیں ہو سکتی، 4 سے 5 جاں بحق افراد کے لواحقین اب تک نہیں مل سکے۔
مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ جس دن سانحہ گل پلازا ہوا میں کراچی سے باہر تھا، قیمتی جانیں ضائع ہونے پر بہت افسوس ہوا۔
======================
جامعہ ملیہ کی زمین پر قبضے کیخلاف ڈپٹی کمشنر ملیر اور ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ کو خط
کراچی(سید محمد عسکری) جامعہ ملیہ گورنمنٹ ڈگری کالج، ملیر کی اراضی پر قبضے کی کوشش کے خلاف کالج انتظامیہ نے متعلقہ حکام کو باضابطہ خط لکھ کر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ریجنل ڈائریکٹر کالجز گلاب رائے نے کالج کے پرنسپل کے خطوط کا حوالہ دیتے نے ڈپٹی کمشنر ملیر اور ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ کو خط ارسال کیا ہے جس میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ کالج کے گراؤنڈ اور ملحقہ زمین پر بعض عناصر غیر قانونی قبضے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے نہ صرف تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے بلکہ سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ اراضی طویل عرصے سے تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور اس پر کسی بھی قسم کی تجاوزات قانون کی کھلی خلاف ورزی ہوں گی۔ گلاب رائے نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر موقع کا دورہ کر کے قبضے کی کوششوں کو روکا جائے اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچرارز ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر منور عباس کا کہنا ہے کہ کالج اساتذہ اور طلبہ نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو تعلیمی ماحول شدید متاثر ہو سکتا ہے۔ اساتذہ تنظیم نے صوبائی محکمہ تعلیم سے بھی نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ دوسری جانب سرکاری کالجز فرخ شہزاد قریشی نے جامعہ ملیہ کی زمین پر لینڈ مافیا کے قبضے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے علم میں حال ہی میں کالج کی زمین پر قبضے کا معاملہ سامنے آیا ہے جس پر فوری ایکشن لیا گیا ہے اور پیر کو ریجنل ڈائریکٹر کالجز سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی گئی ہے، ہم کالج کی زمین پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے اس حوالے سے آئی جی سندھ، کمشنر کراچی اور دیگر حکام سے رابطہ کریں گے اگر ضرورت پڑی تو عدالت بھی جائیں گے۔

















