
ون پوائنٹ
نوید نقوی
پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے مذاکرات اسلام آباد میں ہوئے اور بیشتر نکات پر پیشرفت بھی ہوئی، لیکن کوئی معاہدہ نہیں ہوا، اس پر انشاء اللہ آنے والے دنوں میں تفصیلات لکھوں گا، دونوں فریقین نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر سول و عسکری قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔ پاکستان اپنی بھرپور کوشش کر رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں مستقل جنگ بندی ہو جائے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بدقسمتی سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر نیتن یاہو کا خاصا اثر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ جنگ بندی کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات کر رہے ہیں۔ حالیہ ایران اور امریکا اسرائیل جنگ کی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل کو خفت کا سامنا رہا ہے کیونکہ ان کے مقاصد پورے نہیں ہوئے اور دنیا بھی کی رائے عامہ بھی ان کے خلاف ہو گئی۔ اب موجودہ صورت حال یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بری طرح پھنس چکے ہیں اس لیے وہ کنفیوز ہو کر ایسے فیصلے کر رہے ہیں جو دنیا بھر کے انسانوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے تازہ فیصلہ یہ کیا ہے کہ امریکی نیوی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرے گی۔ اگر ایسا کیا جاتا ہے تو یہ خلیج سے تیل کی نقل و حمل کو مزید مشکل بنا دے گا۔ اگر ایران کو ٹول ادا کر کے یا ایرانی بندرگاھیں استعمال کر کے خلیج سے گزرنے والے جہازوں کو روک دیا گیا تو تیل کی سپلائی کے لیے خلیجی ریجن پر انحصار کرنیوالے ممالک سخت مشکلات کا شکار ھو جائیں گے۔ جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں ھوش ربا اضافہ ھو سکتا ھے۔
امریکہ اور اسرائیل کی منحوس فوجی مہم جوئی نے کروڑوں انسانوں کی زندگی ابتر کر دی ھے اور دنیا کا امن خطرے سے دوچار کر دیا ھے۔
درحقیقت امریکہ کی جانب سے آبناۓ ھرمز کی بندش جنگ کے جلد از جلد خاتمہ کیلئے امریکہ پر عالمی دباؤ بڑھا دیگی۔
طاقت کا نشہ اور جنگی مہم جوئی کا جنون امریکہ کو اپنے اتحادیوں سمیت پوری دنیا سے دور کر کے عالمی تنہائی کی جانب دھکیل رھا ھے۔ صدر ٹرمپ کے اس فیصلے پر چین نے کڑی تنقید کی ہے کیونکہ چین ایران سے تیل خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول ہے جسے چین تسلیم کرتا ہے اور ایران نے چین کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ اگر امریکی نیوی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرنے کی کوشش کرتی ہے تو چین بھی اس سے ڈائریکٹ متاثر ہوگا۔ لا محالہ چین ردعمل دے گا۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جو ایرانی سمندری حدود میں واقع ہے۔ جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ یہ تنگ سمندری گزرگاہ خلیج فارس کو بحرِ عرب سے ملاتی ہے اور عالمی توانائی کی سپلائی لائن کا ایک حساس نقطہ سمجھی جاتی ہے۔ اگر امریکہ کی جانب سے اس اہم گزرگاہ کی ناکہ بندی کی جائے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس کے جھٹکے محسوس کرے گی۔
سب سے پہلا اور فوری اثر عالمی تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگا۔ چونکہ خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، ایران، عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات کا بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے برآمد ہوتا ہے، اس لیے ناکہ بندی کی صورت میں سپلائی میں شدید کمی واقع ہوگی۔ نتیجتاً تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی، جس سے عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہوگی اور مہنگائی کی نئی لہر جنم لے گی۔
دوسری جانب، یورپ، چین، جاپان اور دیگر صنعتی ممالک جو بڑی حد تک مشرق وسطیٰ کے تیل پر انحصار کرتے ہیں، شدید توانائی بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔ فیکٹریوں کی پیداوار متاثر ہوگی، ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جائے گی اور عالمی تجارت کی رفتار سست پڑ جائے گی۔ اس کا براہِ راست اثر ترقی پذیر ممالک پر پڑے گا، جہاں پہلے ہی معاشی مشکلات موجود ہیں۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال نہایت تشویش ناک ہوگی۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف درآمدی بل میں اضافہ کریں گی بلکہ روپے کی قدر پر بھی منفی اثر ڈالیں گی۔ مہنگائی میں اضافہ، بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔ ساتھ ہی، حکومت پر مالی دباؤ بڑھے گا اور معاشی استحکام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
سیاسی اور عسکری اعتبار سے بھی یہ اقدام خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا سکتا ہے۔ ایران، جو آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے، اس اقدام کو اپنی خودمختاری کے خلاف تصور کرے گا اور ممکنہ ردعمل دے سکتا ہے۔ اس طرح کسی بھی چھوٹے واقعے کے بڑے تصادم میں تبدیل ہونے کا خطرہ موجود رہے گا، جو ایک وسیع جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
مزید برآں، عالمی منڈیوں میں بے یقینی کی فضا قائم ہوگی۔ سرمایہ کار خوفزدہ ہو کر سرمایہ نکال سکتے ہیں، اسٹاک مارکیٹس گر سکتی ہیں اور عالمی تجارت متاثر ہوگی۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے اس بحران کو حل کرنے کے لیے سرگرم ہوں گے، لیکن فوری حل تلاش کرنا آسان نہیں ہوگا۔
یہاں یہ کہنا بجا ہوگا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ایک ایسا قدم ہوگا جس کے اثرات ہر ملک، ہر معیشت اور ہر فرد تک پہنچیں گے۔ اس لیے عالمی برادری کو چاہیئے کہ وہ سفارتی ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے اس حساس مسئلے کا پرامن حل تلاش کرے، کیونکہ جنگ اور کشیدگی کسی بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی بلکہ مزید پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے۔

















